کوئٹہ:حیات بلوچ قتل کے خلاف بی ایس او کا احتجاجی کیمپ،بی این پی رہنماوں کی یکجہتی

کوئٹہ:بی ایس او کے زیراہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے حیات بلوچ کو انصاف فراہمی احتجاجی کیمپ کے اختتام پر پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے بی ایس او کے مرکزی چیئرمین نزیر بلوچ, بی این پی کے مرکزی رہنما حاجی لشکری ریئسانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حیات بلوچ کے شہادت کا واقعہ بلوچستان میں نسل کشی و منفی بلوچ کش پالیسی کو واضح کرتی ہے ایسے واقعات کی بنیاد وہ نفرت ہے جسکے تحت بلوچ قوم کو تیسرے درجے کی شہری رکھ کر مظالم کا نشانہ بنائی جاتی رہی ہے حیات بلوچ کے شہادت سے واضح ہوتی ہے کہ بلوچ طلباء کو باقائدہ منصوبہ بندی کے تحت نشانہ بنائی جاتی رہی ہے انہوں نے کہا کہ جب بی ایس او نے حیات بلوچ کے بے دردی سے قتل کے خلاف احتجاجی تحریک کا اعلان کیا تو بی ایس او کے کارکنوں کو مختلف طریقوں سے تنگ کرنے کا سلسلہ شروع کی گئی بی ایس او ایک پرامن طلباء تنظیم ہے جو گراونڈ پر موجود بلوچ طلباء کے سیاسی سرکلنگ و تعلیمی سرگرمیوں پر کام کررہی ہے لیکن بی ایس او کے کارکن گراونڈ پر موجود جمہوری آواز بلند کرریے ہیطاقت کے زور پر کسی صورت جمہوری آواز کو نہیں دبایا جاسکتا مسائل کو حل کرنے کے بجائے مزید پیچیدہ بنایا جارہا ہے تاکہ نفرت کے فضاء قائم کرکے بلوچ قوم کے خلاف نسل کشی کو جاری رکھا جاسکے جب تک نفرت کی زہنیت کو ختم نہیں کی جاتی بی ایس او کسی صورت خاموش نہیں رہے گی۔
اور کہا کہ حکمران و قاتل نظام بلوچ طلباء کے تعلیمی عمل سے خوف کا شکار ہوچکی یے اس لئے بلوچ طلباء کو علم کے جستجو کے بدلے گولیاں ماری جاتی ہے بی ایس او و بلوچ قوم کو احتجاج اس قاتل نظام و نفرت کے زہنیت کے خلاف ہے حیات بلوچ کا شہادت اس نظام و ظلم کا تسلسل ہے جو ریاست و بلوچ قوم کے درمیان نفرت پیدا کررہی ہے۔جعلی حب الوطنی کو حقیقی سیاست پر مسلط کرکے ہمیشہ مسائل سے چشم پوشی کی گئی حقیقی سیاست کے خلاف ہمیشہ انتقام کا سلسلہ جاری رہا بلوچستان میں کسی دہشت گردی کے واقعے کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا نہ ہی کسی کو کیفر کردار تک پہنچایا گیا میڈیا بلوچ طالب علم کے خون کو نہیں دکھاتی لیکن لاہور میں بلٹ پروف گاڑی کے شیشوں کے ٹوٹنے کو دکھاتی ہے جوکہ قابل مذمت ہے۔
اس موقعے پر بی این پی کے مرکزی فنانس سیکریٹری و پارلیمانی لیڈر ایم پی اے ملک نصیر شاہوانی، سوشل ایکیٹیوسٹ جلیلہ حیدر ایڈوکیٹ بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر نواب بلوچ پی ایس او کے کبیر افغان پی ایس ایف آزاد کے زبیر شاہ نے کہا کہ حیات بلوچ کے شہادت کی واقعے سے بلوچستان میں تمام باشعور طبقات عدم تحفظ کا شکار ہو چکے ہے طلباء تحریک کا مقصد تحفظ کی فراہمی ہے اور انسانی حقوق کے پاسداری ہے بی ایس او کے طرف سے احتجاجی شیڈول کا حمایت کا اعلان کرتے ہے مشترکہ مسائل پر مشترکہ جدوجہد کی ضرورت ہے حیات بلوچ کو انصاف اور طلباء کے تحفظ کا احساس دلایا جائے۔
احتجاجی کیمپ میں بی ایس او کے مرکزی سیکرٹری جنرل منیر جالب بلوچ مرکزی انفارمیشن سیکرٹری ناصر بلوچ مرکزی کمیٹی کے ممبر ملک اقبال بلوچ،، بی این پی کوئٹہ ڈسٹرکٹ کے ضلعی نائب صدر ملک محی الدین لیبر سیکرٹری علی احمد سردار رحمت اللہ قیصرانی رمضان ہزارہ بی ایس او کوئٹہ زون کے آرگنائزر صمند بلوچ انفارمیشن سیکرٹری ناصر بلوچ کوہٹہ زون کے آرگنائزینگ کمیٹی کے ممبر عزیز بلوچ، رحمان بلوچ، اور بلوچ ایکشن کمیٹی کے چیرمین ڈاکٹر نواب بلوچ سابق سکٹریری جنرل غنی بلوچ ڈاکٹر مارنگ بلوچ، پی ایس ایف آزاد کے مرکزی صدر آغا زبیر شاہ اورنگزیب مندوخیل، سہک کے چیرمین مزمل خان، پی ایس او کے مرکزی رہنما کبیر افغان ساتھیوں سمیت، بلوچ کونسل کراچی یونیورسٹی کے واہس چیرمئین تاثیر بلوچ بی ایس او گوادر زون کے ممبر طارق بلوچ ابوبکر بلوچ عبد الباسط بلوچ باقی صحافی حضرات وکلا براداری بلوچستان کے سیاسی و سماجی رہنماوں نے شرکت کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں