خضدار ، بیشتر یوٹیلٹی اسٹورز پر چینی، آٹا نایاب

خضدار: خضدار میں بیشتر یوٹیلٹی اسٹورز پر چینی، آٹا، نایاب ہو گئیں۔ اشیائے خورونوش کی عدم دستیابی کی وجہ سے شہری اوپن مارکیٹ سے خریداری پر مجبور ہیں۔یوٹیلٹی اسٹورز محکمانہ غفلت کی بھینٹ چڑھنے لگے، وزیراعظم عمران خان کی جانب سے دی گئی 16 ارب روپے کی خطیر سبسڈی کے ثمرات سے بھی خضدارکے شہری محروم رہ گئے۔ شہر کے بیشتر یوٹیلٹی اسٹورز پر گھی، آٹا، چینی اور مختلف دالیں نایاب ہو گئیں۔ خریداری کیلئے آنے والے شہری بھی خالی ہاتھ واپس لوٹنے پر مجبور ہیں۔دوسری جانب ریژنل مینیجر یوٹیلٹی اسٹورز کی تو منطق ہی نرالی ہے۔ کہتے ہیں تمام اسٹورز پر اشیاء کی فراوانی اور شہریوں کو ریلیف فراہم کی جا رہی ہے۔شہری حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ محض دعووں کی بجائے حقیقی معنوں میں اشیاء خورونوش کی فراہمی کو یقینی بناتے ہوئے انہیں سہولیات فراہم کی جائیں۔خضدار کے شہری 95روپے چینی خریدنے پر مجبور ہیں جبکہ یوٹیلیٹی اسٹورز پر 68 روپے فروخت کرنا ہے۔چینی ہفتے میں ایک بار یوٹیلیٹی اسٹورز کوسپلائی کی جاتی ہے جو ایک ادھے گھنٹے کے بعد اسٹوز سے غائب ہو جاتی ہے۔جبکہ یوٹیلیٹی وئیر ہائوس کے بجائے کسی پرائیوٹ وئیر ہائوس میں رکھی جاتی ہے تاکہ چوری آسانی سے کی جا سکے۔ذرائع کے مطابق اس دھندے میں وئیر ہائوس انچارج اکاوئنٹ آفیسر یوٹیلیٹی اور ریجنل منیجر یوٹیلیٹی خضدارشامل ہیں۔یہ گروہ 2013سے خضدار میں تعینات ہیں جو آج تک تبادلہ چمک دھمک کے سہارے نہ ہو سکے ہیں ۔جبکہ ملازمین کو ہر تین سال بعد تبادلے ہوتے ہیں۔ عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ خضدار ریجن میں چینی اور آٹے بحران کا نوٹس لے کر متعلقہ ذمہ داران کے خلاف کارروائی کریں تاکہ عوام کے ساتھ نا انصافی نہ ہو ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں