ہوٹلوں سے 18 فیصد سیلز ٹیکس کی وصولی تاجروں کا معاشی قتل، مالکان کی گرفتاری اور مقدمات کا عندیہ قابل مذمت ہے، کاشف حیدری

کوئٹہ (سٹی رپورٹر) مرکزی تنظیم تاجران بلوچستان کے ترجمان کاشف حیدری نے کہا ہے کہ بلوچستان ریونیو اتھارٹی (بی آر اے) کی جانب سے ہزارہ ٹاﺅن اور دیگر علاقوں میں قائم ہوٹلوں کو 18 فیصد سیلز ٹیکس جمع کرانے کے حوالے سے نوٹسز اور ہوٹلوں کو سیل کرنے کے حوالے سے شروع کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہر اور گنجان آباد کاروباری مراکز میں ہوٹلوں اور شہر کے گردونواح، ملحقہ علاقوں میں ہوٹلوں کی کیٹگری میں فرق ہے، اس لئے ہزارہ ٹاﺅن اور شہر سے باہر ہوٹلوں کو کیٹگری وائز ٹیکس کے دائرہ کار میں لانے کے لئے متعلقہ اسٹیک ہولڈر کو اعتماد میں لیا جائے اگر ہمارے مطالبات پر عملدرآمد نہ کیا گیا تو ہم احتجاج کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے۔ یہ بات انہوں نے سپریم کونسل کے رکن الیاس ہزارہ، صوبائی رہنماءعزت اللہ کاظمی، جان محمد ہزارہ، علی ہزارہ، محمد عارف ہزارہ، منظور حسین، محمد حکیم، عوض علی، محمد علی ہزارہ سمیت دیگر سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ کاشف حیدری نے کہا کہ بلوچستان اور کوئٹہ میں بدامنی اور موجودہ صورتحال میں کاروباری سرگرمیاں ویسے ہی ماند پڑی ہوئی ہیں، لوگ بڑی مشکل سے اپنے گھروں کے چولہے جلانے کے لیے سرتوڑ کوششیں کررہے ہیں، حکومت کی جانب سے آئے روز پیٹرولیم مصنوعات، یوٹیلیٹی بلوں اور ٹیکسز میں بے تحاشا اضافے کے بعد مہنگائی میں جس تیزی سے اضافہ ہورہا ہے شہریوں کی قوت خرید جواب دے چکی ہے اور لوگ نان شبینہ کے محتاج ہیں۔ تاجر برادری جوکہ کسی بھی ملک، صوبے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے لیکن تاجروں کو اعتماد میں لیے بغیر بلوچستان ریونیو اتھارٹی (بی آر اے) کی جانب سے ہوٹل مالکان کو 18 فیصد سیلز ٹیکس کے حوالے سے عملدرآمد کو یقینی بناتے ہوئے سیلز ٹیکس عام سروسز قوانین پر عملدرآمد نہ کرنے پر ہوٹلوں کو سیل اور مالکان کیخلاف مقدمات درج کرکے گرفتاریوں کا عندیہ دیا ہے، جس کی ہم مذمت کرتے ہیں کیونکہ 18 فیصد ٹیکس عائد کرنے سے مزید مہنگائی بڑھے گی اور اس کا تمام بوجھ ہوٹل مالکان، دکانداروں کے ساتھ ساتھ صارفین پر پڑے گا، اس لیے 18 فیصد ٹیکس کے فیصلے کو واپس لیکر کم کیا جائے، مطالبے پر عمل نہ کیا گیا تو ہم احتجاج پر مجبور ہوں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں