مشرق وسطیٰ کی صورتحال جنگ اور امن کے درمیان نازک موڑ پر ہے، تمام دشمنیاں فوری ختم ہونی چاہئیں، چینی صدر کی پیوٹن سے ملاقات میں گفتگو

بیجنگ (ویب ڈیسک) روسی صدر ولادیمیر پیوٹن چین کے دورے پر بیجنگ پہنچے، چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی اہم ملاقاتوں کے بعد دونوں ممالک نے تقریباً 40 معاہدوں پر اتفاق کیا، جن میں توانائی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون شامل ہے۔ کریملن کے مطابق دونوں رہنماﺅں نے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور عالمی پلیٹ فارمز پر مشترکہ تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا، جبکہ ملاقات میں مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ چینی صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورت حال جنگ اور امن کے درمیان نازک موڑ پر کھڑی ہے، یہ تمام دشمنیاں فوری ختم ہونی چاہئیں۔ انہوں نے یہ بات چین کے دورے پر آئے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ ملاقات کے دوران کہی۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اپنے دو روزہ سرکاری دورے پر منگل کی شب بیجنگ پہنچے ہیں۔ روسی صدارتی دفتر کریملن کے مطابق روس اور چین کے درمیان طے پانے والے تقریباً 40 معاہدوں میں سے 20 دستاویزات پر صدر ولادیمیر پیوٹن اور صدر شی جن پنگ کی موجودگی میں دستخط کیے گئے، جبکہ مزید 20 معاہدوں کا الگ سے اعلان کیا جائے گا۔ تقریب سے قبل دونوں رہنماﺅں نے ملاقات کے آغاز میں مصافحہ کیا، دستاویزات کا تبادلہ کیا اور تصاویر بنوائیں، جس کے بعد دستخطی تقریب منعقد ہوئی۔ سب سے پہلے جس دستاویز پر دستخط کیے گئے وہ ”جامع اسٹریٹجک رابطہ کاری“ سے متعلق مشترکہ اعلامیہ تھا۔ کریملن نے تصدیق کی ہے کہ ملاقات میں توانائی کے منصوبے بھی زیر بحث آئے اور دونوں رہنماﺅں کے درمیان توانائی کے شعبے میں ایک ”اہم معاہدہ“ طے پایا ہے، تاہم اس کی تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کی گئیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں