پاکستان ایرانی قیادت سے مسلسل رابطے اور سہولت کاری فراہم کررہا ہے، امریکی حملے کیلئے فضائی حدود مانگنے کا تاثر درست نہیں، ترجمان دفتر خارجہ

اسلام آباد (ویب ڈیسک) ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان نہ صرف خطے میں امن کا خواہاں ہے بلکہ عالمی قوانین، کشمیر، پانی اور دہشت گردی سمیت اہم معاملات پر بھی اپنا موقف بھرپور انداز میں دنیا کے سامنے رکھ رہا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ وزیر داخلہ نے ایران کے دو اہم دورے کیے جہاں ایرانی قیادت کے ساتھ اہم ملاقاتیں ہوئیں۔ ان ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور سیکورٹی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی اعلیٰ پاکستانی وفد کے ممکنہ دورہ ایران سے متعلق خبروں سے آگاہ نہیں، اس لیے ایسی اطلاعات کی نہ تصدیق کی جاسکتی ہے اور نہ تردید۔ ترجمان نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے بیانات سے متعلق سوال پر کہا کہ وہ بیانات وزیر داخلہ کے دورہ ایران کے تناظر میں تھے، کسی اور شخصیت یا وفد کے حوالے سے نہیں۔ طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ نائب وزیراعظم کو امن عمل سے سائیڈ لائن کرنے کے تاثرات کو سختی سے مسترد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امن عمل کو کسی ایک ادارے یا شخصیت کے تناظر میں نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ وزیراعظم، فیلڈ مارشل، نائب وزیراعظم اور وزیر داخلہ سب مل کر کوششیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایرانی قیادت سے مسلسل رابطے میں ہے اور یہ رابطے ہمسایہ ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات کا حصہ ہیں۔ ترجمان کے مطابق پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان امن عمل میں سہولت کاری بھی فراہم کر رہا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے امریکی حملے کیلئے پاکستان سے فضائی حدود مانگنے کے تاثر کو بھی مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایسا کوئی مطالبہ پاکستان کے سامنے نہیں رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ملک میں دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کیلئے موثر اقدامات کیے ہیں۔ پاک افغان تعلقات سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ موجودہ صورتحال کی بنیادی وجہ افغان سرزمین سے دہشت گرد گروہوں کے پاکستان میں حملے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی قوانین اور دوحہ معاہدے کے مطابق افغان حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کیخلاف دہشت گردی کیلئے استعمال نہ ہونے دے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے بھارت میں پاکستانی پنکھے کی موجودگی سے متعلق الزامات کو بھی مضحکہ خیز قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ دعوے ”کبوتر بیانیے“ کی طرح فرسودہ اور دقیانوسی ہیں۔ متحدہ عرب امارات سے پاکستانیوں کو نکالے جانے کے حوالے سے خبروں پر انہوں نے کہا کہ ایسے الزامات بے بنیاد ہیں اور پاکستان انہیں مسترد کرتا ہے۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ تقریباً 3 ہزار پاکستانیوں کی واپسی مختلف قانونی اور انتظامی تناظر میں ہوئی، جبکہ حکومت اور پارلیمان کے اعداد و شمار میں کوئی فرق نہیں۔ طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان اور چین نے خلیجی کشیدگی پر ایک جیسا موقف اپنایا ہے اور دونوں ممالک خطے میں امن و استحکام کے خواہاں ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں