چین کے شمالی صوبے میں کوئلہ کان میں گیس دھماکہ، 90 افراد ہلاک، 9 مزدور لاپتا، امدادی سرگرمیاں جاری ہیں، چینی سرکاری میڈیا
بیجنگ (مانیٹرنگ ڈیسک) چین کے شمالی صوبے شانشی میں کوئلے کی کان میں ہونے والے گیس دھماکے میں کم از کم 90 افراد ہلاک جبکہ 9 لاپتا ہوگئے۔ یہ گزشتہ 17 برسوں میں چین کا سب سے بڑا کان کنی حادثہ قرار دیا جا رہا ہے۔ چینی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق دھماکا جمعے کی شام 7 بج کر 29 منٹ پر ”لیوشین یو“ کوئلہ کان میں ہوا، اس وقت کان کے اندر 247 مزدور موجود تھے۔ ریسکیو اہلکاروں نے بیشتر مزدوروں کو ہفتے کی صبح تک باہر نکال لیا، تاہم 90 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 9 مزدوروں کی تلاش جاری ہے۔ امدادی کارروائیوں کے لیے 345 اہلکار تعینات کیے گئے۔ سرکاری ٹی وی سی سی ٹی وی کی جانب سے جاری ویڈیو میں ہیلمٹ پہنے ریسکیو اہلکاروں کو اسٹریچر اٹھائے دیکھا گیا جبکہ پس منظر میں ایمبولینسیں بھی موجود تھیں۔ چینی صدر شی جن پنگ نے زخمیوں کے علاج کے لیے ”ہر ممکن کوشش“ کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے واقعے کی مکمل تحقیقات کا حکم دیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام ادارے اس حادثے سے سبق سیکھیں اور کام کی جگہوں پر حفاظتی اقدامات یقینی بنائیں تاکہ مستقبل میں ایسے بڑے سانحات سے بچا جاسکے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق دھماکے میں ملوث کمپنی کے ایک ذمہ دار شخص کو قانون کے مطابق تحویل میں لے لیا گیا ہے۔


