اسرائیل نے 17 ہزار فلسطینیوں کو علاج تک رسائی سے روک دیا، مریضوں کے انخلا میں تاخیر انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب ہے، عرب میڈیا

غزہ (آن لائن) غزہ کی وزارت صحت نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل 17 ہزار ایسے فلسطینی مریضوں کو بیرون ملک علاج کے لیے جانے سے روک رہا ہے جنہیں فوری طبی امداد کی ضرورت ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق اکتوبر 2023ءسے جاری جنگ کے دوران غزہ کا صحت کا نظام شدید تباہی کا شکار ہوچکا ہے۔ مریضوں کے انخلاءمیں تاخیر انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بن رہی ہے۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے قائم مقام سیکرٹری ماہر شامیہ نے کہا ہے کہ رفح کی سرحدی گزرگاہ فروری میں جزوی طور پر کھولی گئی تھی تاہم اسرائیل نے اسے کئی بار عارضی طور پر بند بھی کیا۔ ان کے مطابق فلسطینیوں کو ہفتے میں صرف 3 دن غزہ سے نکلنے کی اجازت دی جاتی ہے جبکہ طبی انخلاءکے لیے کرم ابو سالم کی گزرگاہ صرف 1 دن کھولی جاتی ہے۔ ماہر شامیہ نے بتایا ہے کہ رفح کی گزرگاہ کی مسلسل بندش کے باعث مریض شدید مشکلات کا شکار ہیں اور اس بحران کی مکمل ذمے داری اسرائیل پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل پر دباﺅ ڈالیں تاکہ مریضوں کو آزادانہ طور پر غزہ سے باہر علاج کے لیے جانے اور واپس آنے کی اجازت دی جاسکے۔ ماہر شامیہ نے کہا کہ اگر تباہ شدہ طبی ڈھانچے کی بحالی کی جائے تو بڑی تعداد میں مریضوں کا علاج غزہ کے اندر ہی ممکن ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

Logged in as Bk Bk. Edit your profile. Log out? ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے