کسی کو افغانستان کیساتھ کھڑا ہونا ہے تو وہاں جاکر کھڑا ہو، اسپیکر ایاز صادق

اسلام آباد (ویب ڈیسک) اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ میر جمال خان رئیسانی کے قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اظہارِ خیال پر اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے جس معاملے کی نشاندہی کی ہے، وہ انتہائی تشویشناک اور قابل افسوس ہے۔ کوئی بھی محب وطن پاکستانی ایسی بات نہیں کرسکتا جو قومی یکجہتی، ریاستی مفادات اور عوامی ہم آہنگی کے خلاف ہو۔ جس شخص نے بھی یہ بیان دیا ہے، اس کے بارے میں یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ وہ پاکستان کے مفادات سے مخلص ہو سکتا ہے۔ اس حوالے سے مزید تفصیلات مجھے علیحدگی میں فراہم کر دیجیے گا۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ جو باتیں سامنے آئی ہیں وہ نہ صرف افسوسناک بلکہ شرمناک بھی ہیں، کیونکہ ایسی گفتگو کا مقصد پختونوں اور بلوچوں کے درمیان نفرت، بداعتمادی اور تقسیم پیدا کرنا ہے۔ پاکستان کے مختلف قومیتی اور لسانی طبقات ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ بھائی چارے اور قومی یکجہتی کے رشتے میں بندھے رہے ہیں، اور کسی کو بھی ان کے درمیان دراڑیں ڈالنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی کو افغانستان کے ساتھ کھڑا ہونا ہے تو وہ وہاں جا کر کھڑا ہو، لیکن پاکستان کے اندر رہ کر ریاست، عوام اور قومی اداروں کے خلاف زہر اگلنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ یہ بھی بتایا جائے کہ مذکورہ شخص کی وابستگی اور شہریت پاکستان سے ہے یا افغانستان سے۔ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے واضح کیا کہ مذکورہ شخص جو کچھ بھی آزمانا چاہتا ہے، ضرور آزمائے، لیکن پاکستان کی پارلیمان، ریاستی ادارے اور عوام کسی ایسے ایجنڈے یا طرزِ عمل کو ہرگز قبول نہیں کریں گے جو قومی اتحاد، سالمیت اور استحکام کے خلاف ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں