پارلیمنٹ سپریم ہے یہ صرف 65افراد نہیں بلکہ 1کروڑ 20لاکھ آبادی کا نمائندہ ایوان ہے،بلوچستان ہائیکورٹ

کوئٹہۛ بلوچستان ہائی کورٹ نے رواں سال کے پی ایس ڈی پی کے خلاف دائر اپوزیشن ارکان کی آئینی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دئیے ہیںکہ پارلیمنٹ سپریم ہے یہ صرف 65افراد نہیں بلکہ 1کروڑ 20لاکھ آبادی کا نمائندہ ایوان ہے عوام کی حالت پارلیمنٹ ہی بہتر کر سکتی ہے ، کیوں نہ افتتاح اور تختی لگانے پر پابند ی عائد کردی جائے ۔ جمعہ کو بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس عبدالحمید بلوچ پر مشتمل دو رکنی بنچ نے مالی سال 2020-21کے پی ایس ڈی پی کے خلاف اپوزیشن اراکین کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی ۔ اس موقع پر اپوزیشن لیڈر ملک سکند ر خا ن ایڈوکیٹ، ملک نصیر شاہوانی ثناء بلوچ،زابد علی ریکی، احمد نواز بلوچ، ایڈوکیٹ جنرل بلوچستا ن ارباب طاہر ایڈوکیٹ، ایڈ یشنل چیف سیکرٹری محکمہ منصوبہ بند ی و ترقیاتی عبدالرحمن بزدار، عبداللہ خان سمیت دیگر عدالت میں پیش ہوئے اور اپنے حتمی دلائل دئیے ۔ رکن صوبائی اسمبلی ثناء بلوچ نے دوران سماعت موقف اختیار کیا کہ پی ایس ڈی پی ابہام سے بھر پور ہے اس کے ہر صفحے پر غلطیاں ہیں پی ایس ڈی پی میں عدالتی احکامات، پلاننگ کمیشن کے قوانین ،پائیدار ترقیاتی اہداف سمیت کسی بھی فارمولے کو مدنظر نہیں رکھا گیا حکومت کو گورننس کا طریقہ کار تبدیل کرنے کی ضرورت ہے بہتر حکمت عملی سے صوبے میں کثیر الجہتی غربت سمیت دیگر مسائل پر قابو پایا جا سکتا تھا چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ 50کروڑ کی اسکیم کے لئے 50لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں ہزار گنجی میں ریسٹ ہائوس اور 2ارب سے زائد کے کرشنگ پلانٹس کے منصوبوں کی کیاضرورت تھی انہوں نے کہاکہ ژوب یونیورسٹی کا کام کس نے روکا کسی کو معلوم نہیں ہے جس زمین پر پر یونیورسٹی بننی تھی اس پر عدالت کا حکم ہے کہ یہ زمین علاقے کے لوگوں کی ملکیت ہے بدقسمتی سے ہماری حکومت پاور فل نہیں ہے ،چیف جسٹس نے کہا کہ ہم اوپر سے نچلی سطح تک کرپٹ ہوچکے ہیں جہاں موقع ملے وہاں کرپشن کرتے ہیں نظام کی خرابی کے ہم سب قصور وار ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ جب تک ہم سب ٹھیک نہیں ہونگے عدالتی فیصلوں سے کچھ نہیں ہوگا بیوروکریٹس کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ احکامات کو مانے انہوں نے کہا کہ آج تک کسی سیاسی جماعت یا حکومت نے کسی کو کرپشن پر نہیں نکالا الٹا سرمایہ داروں کو پارٹیوں میں شامل کیا جاتا ہے ۔رکن صوبائی اسمبلی ثناء بلوچ نے کہا کہ پی ایس ڈی پی کو عدالت پی ایس ڈی پی کو پلاننگ کمیشن ، سپریم اور بلوچستان ہائی کورٹ کے احکامات اور قوانین کے مطابق بنانے کے احکامات صادر کرے ،رکن صوبائی اسمبلی زابد علیی ریکی نے کہاکہ اسکیمات کئی سالوں سے التواء کا شکار ہیں جبکہ علاقے کی ضروریات کو مدنظر رکھنے کی بجائے من پسند افراد کے لئے اسکیمات بنائی جاتی ہیں اپوزیشن لیڈر ملک سکند ر خا ن ایڈوکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن میں ہارنے والوں کو فنڈز دئیے جارہے ہیں پشین میں بلال کاکڑ، عظیم کاکڑ ،اسفند یا ر کاکڑ کی اسکیمات ڈالی گئیں اور وہ انکا افتتاح بھی کر رہے ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کیوں نہ افتتاح اور تختی لگانے پر پابندی عائد کردی جائے ، اپوزیشن لیڈر ملک سکندر خان ایڈوکیٹ نے کہا کہ وزیراعلیٰ کا یہ کام ہے کہ وہ عوامی نمائندوں کا پاس رکھیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ وزیراعلیٰ کچھ کرنا چاہیں تو دو،چار لوگ کھڑے ہوکر عدم اعتماد کی بات کرنا شروع کر دیتے ہیں وزیراعلیٰ کے عہدے کو مضبوط بنانے میں اپوزیشن بھی کردار ادا کرے ایڈوکیٹ جنرل ارباب طاہر نے کہا کہ 2006سے 2016تک ترقی کی رفتار کم ہونے کی وجہ امن و امان کی صورتحال تھی جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کبھی حکومتوں نے یہ سوچا کہ اس صورتحال کی وجہ کیا بنی کیا اس مسئلے پر کوئی کمیٹی یا کمیشن بنایا گیا ؟ایک موقع پر چیف جسٹس نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی 65افراد نہیں بلکہ 1کروڑ 20لاکھ سے زائد آبادی کی نمائندہ ہے اپوزیشن نظام کی بہتری کے لئے تجاویز دے پارلیمٹ سپریم ہے ہم اسے تسلیم کرتے ہیں عوام کی حالت بہتر بنانا پارلیمنٹ کا کام ہے انہوں نے کہا کہ عوامی مفاد میں اگر اتوار کو بھی عدالت لگانی پڑی تو لگائیں گے چیف جسٹس نے ایڈوکیٹ جنرل سے استفسار کیا کہ آیا عدالتی فیصلوں کو مدنظر رکھتے ہوئے پی ایس ڈی پی تشکیل دی گئی یا نہیں لوگوں کے گھروں پر سرکاری ٹیوب ویل نصب ہیں اس موقع پر ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ پی ایس ڈی پی میں کچھ اسکیمات دوبار شامل ہوئیں کچھ میں غلطیاں تھیں جنہیں درست کرلیا گیا ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہ غلطیاں صرف حکومتی حلقوں کے لئے کیوں ہوتی ہیں انہوں نے اے سی ایس سے استفسار کیا کہ کیا اسکیمات پی ایس ڈی پی میں شامل ہونے کے بعد انکے کانسپٹ پیپر تیار نہیں ہوئے ؟ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ اگر پی ایس ڈی پی کی تیاری میں 50فیصد عدالتی فیصلے کی روشنی پر عملدآمد کیا گیا تو میں اپوزیشن کی درخواست خارج کردونگا، ایڈوکیٹ جنرل نے جواب دیا کہ ہم نے 90فیصد تک عدالتی فیصلوں اور اصولوں پر عملدآمد کیا ہے چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا حکومت قوانین ،عدالتی فیصلوں پر عملدآمد کروانا چاہتی ہے جس پر ایڈوکیٹ جنرل نے جواب دیا کہ جی ہاں حکومت عملدآمد کروانے کے اقدامات کررہی ہے جسکی واضح مثال فنانشل منیجمنٹ ایکٹ 2020ہے کوئی انہوںنے کہا کہ اپوزیشن کے پاس بہترین فورم اسمبلی ہے جہاں انہوں نے 93کٹ موشن بھی پیش کیں جبکہ اگر یہی تجاویز اسمبلی میں دی جاتیں تو عدالت کا وقت بھی بچتا ۔چیف جسٹس نے کہا کہ اپوزیشن کا مدعا یہی ہے کہ حکومت نے پارلیمنٹ کو بے وقط کر دیا ہے انہوں نے استفسار کیا کہ کیا پارلیمنٹ میں کوئی کمیٹی ایسی ہے جہاں پر بجٹ پیش ہونے سے پہلے اس پر بات ہو جس پر رکن صوبائی اسمبلی ثنا ء بلوچ نے کہا کہ ایسی کوئی کمیٹی نہیں نہ ہی حکومت نے پری بجٹ سیشن بلایا اپوزیشن نے جب ریکوزیشن اجلاس بلایا تو حکومت نے کورم کی نشاندہی کردی ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کو یقین دہانی کروائی کہ عدالت جو ہدایت دے گی حکومت اس پر عملدآمد کریگی چیف جسٹس نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں پہلے سے موجود اسپورٹس کمپلکس مکمل کرنے کے بجائے نئے اسپورٹس کمپلکس تعمیر کئے جارہے ہیں بعدازاں عدالت پی ایس ڈی پی 2020-21پر فیصلہ محفوظ کرلیا

اپنا تبصرہ بھیجیں