کوئٹہ، مغوی بچی کی عدم بازیابی، لواحقین کی وزیر اعلیٰ ہاوس کے گھیراؤ کی دھمکی
کوئٹہ: کوئٹہ کے ریلوے کالونی سے گزشتہ ہفتے اغواء ہونے والی 7سالہ لاریب کے لواحقین اور اہلیان ریلوے کالونی کوئٹہ نے وزیراعظم، آرمی چیف، وزیراعلیٰ بلوچستان و دیگر اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ اغواء ہونے والی لاریب کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے بصورت دیگر جوائنٹ روڈ بلاک اور وزیراعلیٰ ہاؤس کا گھیراؤ کریں گے۔ کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے 7سالہ مغوی بچی لاریب کے والد سید رسول شاہ، ارشد یوسفزئی، لعل جان بلوچ، سابق ناظم جاوید ودیگر نے کہا کہ 8روز قبل کوئٹہ کے علاقے ریلوے کالونی میں لاریب بچوں کے ساتھ کھیل رہی تھی کہ ایک شخص بچی کو پیسے دے کر اپنے ساتھ سائیکل پر بٹھا کر لے گیا جس کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی موجود ہے جس میں اغواء کار لاریب کو لے جاتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے، بچی کی اغواء سے متعلق متعلقہ تھانے میں ایف آئی آر درج کرایا جاچکا ہے مگر 8دن گزرنے کے باوجود بچی کا کوئی سراغ نہیں لگایا جاسکا ہے۔ بچی کی اغواء کی وجہ سے ان خاندان ذہنی کوفت میں مبتلا ہے اس کے علاوہ اہل علاقہ میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے اور لوگوں نے اپنے بچوں کو گھروں تک ہی محدود کردیا ہے۔ بچی کی اغواء سے متعلق میڈیا پر رپورٹس اور پیکجز چلنے کے بعد ایک کمیٹی تشکیل دی گئی لیکن اس کے باوجود بچی کی بازیابی میں کوئی پیش رفت نہ ہوسکی ہے۔ مظاہرین نے وزیراعظم پاکستان، چیف آف آرمی سٹاف، وزیراعلیٰ بلوچستان اور آئی جی پولیس و دیگر متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ لاریب کی بازیابی اور ملزم کی گرفتاری کے لئے عملی اقدامات اٹھائے جائیں بصورت دیگر سخت لائحہ طے کرکے جوائنٹ روڈ کو ہر قسم کی ٹریفک کے بلاک اور وزیراعلیٰ ہاؤس کا گھیراؤ کیا جائے گا جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔


