انسداد منشیات کمیٹی بلیدہ زامران کی جانب سے تربت تک ریلی نکالی گئی
کوئٹہ:انسداد منشیات کمیٹی بلیدہ زامران کی جانب سے تربت تک ریلی نکالی گئی ریلی کی قیادت کمیٹی کے چیئرمین حاجی برکت بلیدی، سابق سینیٹرمیر اسلم بلیدی،سابق رکن صوبائی اسمبلی میرفتح محمدبلیدی،شے نذیر احمد،شے غلام قادر، ایوب جان گچکی، صلاح الدین سلفی، معتبر شیر جان سمیت دیگر کررہے تھے ریلی کے شرکاء زبیدہ جلال روڈ ،یونیورسٹی روڈ ،ڈی بلوچ ، تمپ، مند اور دشت سے ہوتے ہوئے تربت پہنچے جہاں ڈگری کالج تربت میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انسداد منشات کمیٹی بلیدہ زامران کے چیئرمین حاجی برکت بلیدی نے کہا کہ بلیدہ زامران کے عوام کی طرف سے یہ عظیم الشان ریلی منشیات فروشوں اور ان کے آقاؤں کے لیئے پیغام ہے کہ وہ ہماری نسل کشی سے باز آئیں، یہ عوامی طاقت ثابت کرتی ہے کہ یہاں کے لوگ مذید نسل کشی کی اجازت نہیں دیں گے،ہماری سرزمین کے ہزارو ں لخت جگر اس خاموش دشمن کے ہتھے چڑھ کر تباہی کا شکار ہو گئے ہیں،سینکڑوں ماؤ ں کی گود اجاڑ دی گئیں اور یہ لت کم ہونے کے بجائے روز بروز زور پکڑتی جارہی ہے ۔انہوں نے کہاکہ منشیات کے خلاف تحریک کو نوجوانوں نے شروع کیا اور علاقے کے پیر و کماش ان کے پیچھے کھڑے ہوئے جس کی بدولت تحریک منظم ہوئی، نوجوانوں کی خلوص اور نیک نیتی کی وجہ سے ہم نے ایک سال کا ٹارگٹ صرف تین مہینوں میں پورا کیا جو حوصلہ افزا ہے، اس عظیم الشان ریلی کی توسط سے ہم یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ اگر ہماری نسل کشی بند نہیں کی گئی تو اس سے کئی گنا بڑی ریلی نکال کر عوامی طاقت سامنے لائیں گے، انہوں نے کہاکہ بلیدہ جیسے چھوٹے سے علاقے میں 15سو سے زائد نوجوان منشیات کے عادی ہیں جن میں تین سو کا ہم نے اپنے خرچے پر علاج کرایا اور مزید نشہ کے عادی لوگوں کا علاج کرائیں گے مگر ہمیں افسوس ہے کہ حکومت نے ہمارے ساتھ کوئی تعان نہیں کیا جو منشیات فروش ہمارے نوجوانوں نے حراست میں لے کر پولیس کے حوالے کیئے تھے انہیں بھی چھوڑ دیاگیا،انہوں نے کہاکہ بلیدہ کے نوجوان سلوٹ کے لائق ہیں جنہوں نے ایک بہت بڑی قربانی دی اور عظیم کام کا بیڑا اٹھایا جس کے مثبت اثرات ہمیں پورے بلید اور زامران میں منشات کے اڈوں کی مکمل خاتمے کی صورت میں نظر آرہے ہیں۔جلسہ سے انسداد منشیات کمیٹی کے مرکزی رہنما میر اسلم بلیدی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہماری سرزمین کو منشیات کے سب سے بڑے روٹ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، منشیات سے لدی گاڑیاں آسانی کے ساتھ گزر جاتی ہیں انہیں کچھ پوچھا نہیں جاتالیکن افسوس ہے کہ ڈیزل اور تیل بردار گاڑیوں کو تنگ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ منشیات کا پھیلاؤ ہماری نسل کشی کا ایک نیا سامراجی ایجنڈا ہے موجودہ دور میں بندوق سے جنگ نہیں کی جاتی بلکہ قوموں کو تباہ کرنے کے نت نئے طریقے دریافت کیئے جاچکے ہیں جن میں منشیات فروشی ایک اہم ہتھیار ہے جس کے اثر سے قوموں کی نسل کشی کی جاتی ہے،اس کا مقابلہ کرنے کے لیئے ہمیں اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کر کے ثابت قدم ہونا چاہیے، ہم یہ چیلنج دیتے ہیں کہ اس دہندے کو ہماری زمین پر سے بند کیا جائے ورنہ ہم مجبور ہو کر ایسے عناصر کا نام پاش کر دیں گے جو ہماری نسل کشی کررہے ہیں، انہوں نے اگر منشیات فروشی بند نہیں کی گئی تو اپنے علاقے کے تمام منشیات فروشوں کے سماجی بائیکاٹ پر مجبور ہوجائیں گے۔جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے معروف شخصیت میر حسین واڈیلہ نے کہا کہ بلیدہ زامران سے جو تحریک یہاں کے نوجوانوں نے شروع کی ہے اس کی کرن پورے بلوچستا ن کو جلا بخشے گی،اس تحریک سے متاثر ہو کر پورے مکران میں منشیات مخالف تحریک شروع ہوچکی ہے اور انشاء اللہ بلوچستان بھی میں پھیل کر پورے بلوچستان کو منشیات سے صاف کرے گی۔ انہوں نے کہاکہ سب سے بڑے دہشت گرد منشیات فروش ہیں ۔انہوں نے کہاکہ بلوچ کبھی بے حیا نہیں تھے مگر منشیات نے بلوچوں سے ان کا حیا چھین لی ہے، بلوچی حمیت اور غیرت ہاتھ سے جاچکی ہے۔منشیات کے ذریعے بلوچ نسل کشی زور شور سے کی جارہی ہے۔انہوں نے کہاکہ منشیات فروشوں کے پیچھے طاقتیں کارفرما ہیں ہمیں متحد ہو کر ایسے دشمنوں کا مقابلہ کرنا چاہیے جو ہماری نسل کشی میں مصروف ہیں، بلوچوں کو آج اتحاد اور یکجہتی کی اشد ضرورت ہے تاکہ اپنی نسل کو محفوظ بنا سکیں۔جلسہ عام سے معروف شخصیت شے نذیر احمد نے بھی خطاب کیاجبکہ دس مختلف قرار دیںپیش کی گئیں جن میں منشات فروشوں کی سرکوبی کے ساتھ منشیات کے عادی افراد کو علاج کی سہولت دینے کے مطالبات شامل تھے ۔


