سعودی عرب: بین الاقوامی مسافر پروازوں پر پابندی کل سے تقریباﹰ ختم

ریاض :سعودی عرب اپنے ہاں کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے عائد بین الاقوامی مسافر پروازوں کی آمد پر پابندی کل منگل پندرہ ستمبر سے تقریباﹰ ختم کر دے گا۔ یوں لاکھوں غیر ملکی کارکن اب واپس سعودی عرب لوٹ سکیں گے۔

سعودی دارالحکومت ریاض سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق ملکی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ کووڈ انیس کی عالمی وبا کے باعث حکومت نے جو بین الاقوامی سفری پابندیاں تقریباﹰ چھ ماہ پہلے عائد کی تھیں، وہ کل منگل کے دن سے زیادہ تر ختم کر دی جائیں گی۔

ايران کی متنازعہ جوہری سرگرميوں کو محدود رکھنے کی غرض سے چھ عالمی طاقتوں کے ساتھ سن 2015 ميں طے پانے والے معاہدے سے آٹھ مئی سن 2018 کو امريکا نے يکطرفہ طور پر دستبردار ہونے کا اعلان کرتے ہوئے ايران پر اقتصادی پابندياں بحال کر ديں۔ روايتی حريف ممالک ايران اور امريکا کے مابين کشيدگی کی تازہ لہر کا آغاز در اصل اسی پيش رفت سے ہوا۔

شروع میں صرف وہ پابندیاں ختم کی جائیں گی، جو خلیج کی اس قدامت پسند بادشاہت میں بین الاقوامی مسافر پروازوں کی آمد پر چھ ماہ قبل عائد کی گئی تھیں۔

ریاض میں وزارت داخلہ نے اعلان کیا کہ باقی ماندہ پابندیاں، جن میں ہر طرح کے فضائی سفر کے علاوہ سعودی شہریوں کے زمینی اور سمندری راستوں سے سفر پر عائد پابندیاں بھی شامل ہیں، اگلے سال یکم جنوری سے پوری طرح ختم کر دی جائیں گی۔

حکومتی اعلان کے مطابق کل منگل 15 ستمبر سے خلیجی ممالک کے شہری اور سعودی عرب کے رہائشی ویزوں کے حامل غیر سعودی باشندے بذریعہ ہوائی جہاز سعودی عرب جا سکیں گے اور انہیں ملک میں داخلے کی اجازت دے دی جائے گی۔ تاہم ایسے غیر ملکیوں کے لیے لازمی ہو گا کہ وہ کورونا وائرس سے متاثر نہ ہوں۔

سعودی وزارت داخلہ کی ویب سائٹ پر کیے گئے اعلان اور سرکاری خبر ایجنسی ایس پی اے کی طرف سے جاری کردہ اس کی تفصیلات کے مطابق کل منگل کے دن سے ہی مسافروں کی استثنائی کیٹیگریز سے تعلق رکھنے والے افراد، جن میں حکومتی اور عسکری شعبوں کے ملازمین، سفارت خانوں کے اہلکار، طلبہ اور علاج کی غرض سے آنے والے مریض بھی شامل ہوں گے، سعودی عرب آ جا سکیں گے۔

زائرین سعودی شہر مکہ میں واقع خانہ کعبہ کے گرد طواف کرتے ہیں۔ یہ اسلامی مذہب کا سب سے مقدس ترین مقام ہے۔ ہر مسلمان پر ایک دفعہ حج کرنا واجب ہے، بشرطیکہ وہ اس کی استطاعت رکھتا ہوا۔ سن 1941 میں حج کرنے والوں کی تعداد محض چوبیس ہزار تھی جو اب سفری سہولتوں کی وجہ سے کئی گنا تجاوز کر چکی ہے۔ رواں برس یہ تعداد بیس لاکھ سے زائد ہے۔

سعودی عرب نے اپنے ہاں آنے والی تمام بین الاقوامی مسافر پروازیں اس سال مارچ میں معطل کر دی تھیں ، جس کے بعد بہت سے سعودی شہری اور اس ملک میں کام کرنے والے غیر ملکی کارکن بھی بیرون ملک پھنس کر رہ گئے تھے۔

سعودی وزارت داخلہ نے یہ بھی کہا ہے کہ ریاض حکومت بیرون ملک سے آنے والے مسلمانوں کو دوبارہ لیکن بتدریج عمرے کی اجازت دینا بھی شروع کر دے گی۔ کورونا وائرس کی وبا سے تحفظ کے لیے حکومت نے عمرے کے ویزوں اور اس مقصد کے لیے غیر ملکیوں کے ملک میں داخلے پر بھی اس سال مارچ میں پابندی لگا دی تھی۔

سعودی عرب میں ہر سال حج کے لیے دنیا بھر سے جانے والے مسلمانوں کی تعداد بھی ڈھائی ملین کے قریب رہتی ہے۔ اس سال لیکن کووڈ انیس کی عالمی وبا کی وجہ سے ہی معمول کا حج بھی منسوخ کر دیا گیا تھا اور صرف دس ہزار مسلمانوں کو، جو پہلے ہی سے سعودی عرب میں موجود تھے، استثنائی طور پر حج کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔

خلیج کی عرب ریاستوں میں سے آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا ملک سعودی عرب خطے میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ریاست بھی ہے۔ اب تک سعودی عرب میں مجموعی طور پر سوا تین لاکھ انسان کورونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔ ان میں سے تاحال چار ہزار دو سو کا انتقال بھی ہو چکا ہے جبکہ کُل تقریباﹰ تین لاکھ دو ہزار مریض دوبارہ صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔

کورونا وائرس کی وبا کے عروج کے دنوں میں ریاض حکومت نے پورے ملک میں کرفیو بھی لگا دیا تھا۔ تقریباﹰ ایک سہ ماہی کے بعد ملک میں کاروباری ادارے، سینما گھر اور تفریحی مراکز دوبارہ کھولنے کی اجازت جون میں دی گئی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں