خیبرپختونخوا اسمبلی اجلاس، آوازیں کسنے پر نگہت اورکزئی اور لیاقت خان کے درمیان تلخ کلامی
پشاور:خیبرپختونخوا اسمبلی کے اجلاس میں پیپلزپارٹی کی خاتون رکن اسمبلی اور تحریک انصاف کے ایم پی اے کے درمیان شدید تلخ کلامی ہوئی۔اجلاس کے دوران کے دوران آوازیں کسنے پر خاتون رکن اسمبلی نگہت اورکزئی پی ٹی آئی کے لیاقت خان پر برس پڑیں۔تفصیلا ت کے مطابق پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی نگہت اورکزئی گزشتہ اجلاسوں میں وقت نہ ملنے پر ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں اور ایوان سے باہرجانے لگیں تو انہوں نے کہا کہ ان کے پیچھے کسی نے آواز نکالی تو وہ اس کا برا حشر کریں گی تاہم جب نگہت اورکزئی نے ایوان سے واک آؤٹ کیا تو پیچھے سے تحریک انصاف کے رکن لیاقت خان نے آوازیں کسیں جس پر نگہت اورکزئی واپس مڑیں اور حکومتی بینچوں کی جانب دوڑ پڑیں ، اس دوران دونوں اراکین کے درمیان گالم گلوچ اور تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، دونوں اراکین ایک دوسرے کو گالیاں دیتے رہے۔نگہت اورکزئی نے پی ٹی آئی کے رکن لیاقت خان کیخلاف اسپیکر ڈائس کے سامنے احتجاجی دھرنا بھی دیا تاہم اسپیکرمشتاق غنی کے کہنے پرلیاقت خان نے اپنے الفاظ واپس لے لیے اور معاملہ رفع دفع ہوگیا۔ڈپٹی سپیکرمحمودجان اورپی پی رکن نگہت اورکزئی کے مابین تلخ جملوں کاتبادلہ بھی ہوا ، اس دوران اس دوران جب پی پی کی رکن نگہت اورکزئی بات کرناچاہ رہی تھی تو ڈپٹی سپیکر محمودجان نے انہیں بولنے کا موقع نہیں دیا جس پر خاتون رکن نے شدیداحتجاج کرتے ہوئے ایوان سے واک آئوٹ کرگئی۔جب نگہت اورکزئی دوبارہ ایوان آئیں تو انہوں نے ایوان میں ہنگامہ کھڑا کردیا اورچیخناچلاناشروع کردیا ڈپٹی سپیکرنے واضح کیاکہ کوئی جتنابھی چلائے کسی کو ہائوس یرغمال نہیں کرنے دونگا میں صرف ایجنڈے پرچلوں گا مجھے کوئی پریشرائزنہیں کرسکتا جس پردیگراپوزیشن خواتین نے نگہت کاساتھ دیتے ہوئے ایوان سے واک آئوٹ کیا۔


