پسنی ,منشیات کیخلاف احتجاجی ریلی ، خواتین و بچوں کی شرکت

پسنی(بیورورپورٹ) بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) پسنی زون کے زیراہتمام منشیات کے خلاف ایک ریلی نکالی گئی ریلی پسنی کے نیادی سر سےشروع ہوئی اور مین بس اسٹاپ پر آکر احتجاج کی شکل اختیار کرگئی ریلی کے شرکا نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڑبھی اُٹھارکھے تھے جن پر منشیات کے خلاف نعرے درج تھے ریلی میں خواتین کی ایک بڑی تعدادشریک تھی جبکہ وہ خاندان بھی شریک تھے جن کے بچے منشیات سے متاثر ہوچکے ہیں ریلی کے شرکا سے بی این پی خواتین ونگ کی آرگنائزرمریم صاحب خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ منشیات کی وجہ سے نوجوان خود تو تباہ ہوگئی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنے خاندان اور گھروں کو بھی تباہ کردیا ہے انہوں نے کہاکہ جس طرح غریب کے بچے بھوکے نہیں مرتے منشیات فروش اگر اپنا مکروہ دھندہ بند کردیں یقینا اُنکے بچے بھی بھوکے نہیں مریں گے انہوں نے کہاکہ آج جہاں بھی نظر دوڑائیں ہر گھر سے آپ کو ایک منشیات زدہ نوجوان ملے گا یہ نوجوان قوم کے مستقبل ہیں لیکن منشیات نے اُنکو تباہ کردیا ہے انہوں نے کہاکہ آج کی اس سے ریلی میں وہ خاندان اور بوڑھی عورتیں بھی شامل ہیں جنکے بچے منشیات کی زد میں آچکے ہیں وہ نوجوان جنہیں اپنے خاندان کا سہارہ بنناچاہیے لیکن آج وہ خود کسی سہارے کے لیئے دردرپھررہے ہیں منشیات نے ہمارے کتنے معصوم بچوں کو ہم سے چھین لیا ہے انہوں نے کہاکہ ایک خوددارانسان مر تو سکتا ہے لیکن اپنے بچوں کی پیٹ پالنے کے لیئے منشیات جیسی سماج اور نسل دشمن کا بیوپاری کھبی بھی نہیں بنے گا انہوں نے کہاکہ حکومت سمیت مقامی انتظامیہ کو بھی علم ہے کہ منشیات کون بھیج رہاہے انتظامیہ منشیات فروشوں کے خلاف کاروائی کرتی ہے لیکن ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ان کاروائیوں میں مذید تیزی لائی جائے اور منشیات فروشوں کو کیفر کردارتک لایا جائے،احتجاجی ریلی سے بی این پی کے مرکزی فشریز سیکرٹری ملا واحدنوعی،ضلعئ جنرل سیکرٹری محمدعلی سنگھور،تحصیل صدر کہدہ عبدالغفور اور قائم مقام تحصیل سیکرٹری زاہدداد نے بھی خطاب کیا ہے انہوں نے کہا نکہ منشیات فروش علاقائی غیر سے نہیں آئے ہیں بلکہ یہ ہم میں سے کسی نہ کسی کا رشتہ دارہیں اور بلوچ ہیں لہذا ہم انکو بلوچی کا واسطہ دیتے ہیں کہ وہ منشیات کا دھندہ ترک کرکے اس قوم پر احسان کردیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں