پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے غیر حاضر رہنے والوں میں بی این پی، نیشنل پارٹی اور پشتونخوامیپ کے ارکان بھی شامل
اسلام آباد:پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے غیر حاضر رہنے والے چالیس اراکین پارلیمنٹ کے نام سامنے آگئے ہیں ۔ قومی اسمبلی کے 23اراکین جبکہ سینیٹ کے 17اراکین انسداد منی لانڈرنگ سمیت 8بلز کی منظوری کے موقع پر ایوان سے غائب تھے ۔قومی اسمبلی کی 342مجموعی نشستیں ہیں دو نشستیں خالی ہیں 340کے ایوان میں 23 اراکین غیر حاضر اور 317موجود تھے ۔ پی ٹی آئی اے کے 6، بی این پی مینگل کے 2، پیپلز پارٹی کے7، (ن) لیگ کے 4، (ق) لیگ ، اے این پی ، متحدہ مجلس عمل کا ایک آزاد رکن بھی ایوان سے غائب تھا ۔متحدہ مجلس عمل کے آفرین خان ، اے این پی کے امیر حیدر ہوتی ، آزاد امیدوار علی وزیر ، (ق) لیگ کے مونس الٰہی ، پی ٹی آئی کے امتیاز چوہدری ،عاصم نذیر ، احمد حسین ڈھیر، عبدالمجید خان، عامر لیاقت حسین اور جویریہ ظفرغیر حاضر اراکین میں شامل تھیں ۔(ن) لیگ کے افضل کھوکھر ، احمد رضا مانیکا ، احسان الحق باجوہ ،ریاض پیرزادہ بھی ایوان میں موجود نہیں تھے ۔ پیپلز پارٹی کے میر عامر علی خان مگسی ،خالد احمد خان لونڈ، خورشید احمد شاہ ،آصف علی زرداری ،روشن الدین جونیجو، جمیل الزمان اور غلام علی تالپور نے بھی مشترکہ اجلاس میں شرکت نہیں کی ۔بی این پی کے سربراہ اختر مینگل اور شہناز بلوچ بھی ایوان سے غیر حاضر تھے ۔جبکہ سینٹ کے غیر حاضر اراکین میں مسز کلثوم پروین ،محمد اکرم ، سردار محمد شفیق ترین ،محمد طاہر بزنجو ،سلیم ضیاء ،چوہدری تنویر خان،مولانا عطاء الرحمان ، دلاور خان ،محمد طلحہ محمود ،روبینہ خالد ،ستارہ آیاز،سید مظفر حسین شاہ ،ہلال الرحمان،مومن خان آفریدی ،شمیم آفریدی ،راحیلہ مگسی ،سلیم ضیاء اور تنویر خان شامل ہیں ۔


