عقیدہ ختم نبوتؐ ایمان کی اساس ہے، ناموس رسالتؐ و صحابہ پر آنچ نہیں آنے دیں گے،حافظ حمد اللہ
کراچی: عقیدہ ختم نبوتؐ ایمان کی اساس ہے۔ قادیانیت فرقہ نہیں فتنہ اور ناسور ہے۔ ناموس رسالتؐ و صحابہ پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔ فرقہ واریت پھیلانے کی سازشیں کامیاب نہیں ہونے دی جائے گی۔ قادیانیت اور دین دشمنوں کا تعاقب جاری رہے گا۔ حکومت قادیانیت اور گستاخ طبقے کی پشت پناہی چھوڑ دے۔ ان خیالات کا اظہار جمعیت علماء اسلام کے مرکزی رہنماء حافظ حمداللہ، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا اللہ وسایا، شیخ الحدیث مولانا منظور احمد مینگل اور جمعیت علماء اسلام کے مرکزی رہنماء قاری محمد عثمان نے جمعیت علماء اسلام شیرشاہ کے زیراہتمام جامعہ عثمانیہ شیرشاہ جامع مسجد طور میں سالانہ تحفظ ختم نبوتؐ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مولانا حافظ حمداللہ نے کہا کہ پارلیمنٹ کے اندر مغرب نواز اور اسلام مخالف قانون سازی کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ جمعیت علماء اسلام ہے۔ جمعیت علماء اسلام کی قیادت اور ملک کے کروڑوں دیندار مسلمانوں کے ہوتے ہوئے انکے مکرو ہ عزائم کامیاب نہیں ہونگے ۔ریاست قادیانیت کیلئے راہیں ہموار کررہی ہے۔ پاکستان میں سر بازار ختم نبوتؐ کا انکار کیا جارہا ہے لیکن ریاست اس عمل کی سرکوبی کے بجائے پشت پناہی کررہی ہے۔ کیا وجہ ہے کہ دنیا کے دیگر ممالک میں تو قادیانی خود کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں اور پاکستان میں حکومت کی پشت پناہی میں سرعام ختم نبوت کا انکار کرتے ہیں۔ اگر حکومت کی سرپرستی نہیں ہے تو قانون اور آئین کے مطابق سزا کیوں نہیں دی جاتی۔ سزا کے بجائے قادیانیوں کو رہائی دلائی جاتی ہے، ڈالر وصول کئے جاتے ہیں، امریکہ اور مغرب کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے ریاست ملک کو خانہ جنگی کی طرف دھکیل رہی ہے۔ عمرانی حکومت امریکہ اور یورپ کے سامنے گھٹنے ٹیکنے والے ممالک کا انجام یاد رکھے کہ آج انکا تذکرہ بھی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی حکومت آتی ہے ختم نبوتؐ اور ناموس رسالت کے قانون کو چھیڑتی ہے۔ پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 260 تحفظ ختم نبوت کی ضمانت دیتا ہے۔ پھر کیوں اس قانون کو چھیڑا جارہا ہے؟ ۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا اللہ وسایا نے کہا کہ قادیانیت فرقہ نہیں فتنہ اور ناسور ہے۔ قادیانیت امت مسلمہ کی جڑیں کھوکھلی کررہی ہے۔ 100 سال سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مغربی فنڈنگ اور پشت پناہی میں یہ فرقہ اسلام کا آفاقی نظام مسخ کرنے کی ناکام کوشش کررہا ہے۔ وقت کے فرعونی اوردجالی قوتوں کے سامنے علماء ہی ہیں جو سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنے ہوئے ہیں۔ قوم علماء کی قیادت میں متحد ہو کر کفریہ سازشوں اور انکے زرخرید ایجنٹوں کامقابلہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کے نام پر بننے والی مملکت میں اسلام کے سوا کوئی نظام قبول نہیں۔ اسلامی نظام کے نفاذ کی خاطر ہمارے اسلاف نے لازوال قربانیاں دی ہیں۔ انکے مشن کی تکمیل کیلئے دن رات ایک کرکے جدوجہد کریں گے ۔پاکستانی آئین کی رو سے قادیانی کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ قیامت کی صبح تک فتنہ قادیانیت کا تعاقب کرتے رہیں گے۔ شیخ الحدیث مولانا منظور احمد مینگل نے کہا کہ گستاخیاں ہمیشہ پاکستان میں ہی کیوں ہوتی ہیں؟ اسکی پشت پر بیرونی قوتیں کارفرما ہیں۔ ایک منصوبے کے تحت اس طرح کے حالات پیدا کرکے ملک کے امن کو پارہ پارہ کیا جارہا ہے۔ صحابہ کرام معیار حق ہیں انکی شان میں نازیبا کلمات کسی صورت برداشت نہیں۔ ریاست کی خاموشی یہ ثابت کرتی ہے کہ ریاست کی مرضی شامل ہے ان واقعات میں۔ جب تک جسم میں جان ہے ان سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔ قاری محمد عثمان نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوتؐ پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔ موجودہ حکومت بیرونی ایماء پر قادیانیت کیلئے راہیں ہموار کررہی ہے۔ جان بوجھ کر ایسے حالات پیدا کئے جارہے ہیں کہ ملک کو انارکی اور خانہ جنگی کی طرف دھکیلا جائے۔ جمعیت علماء اسلام ایسی کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیگی۔ ہم پرامن لوگ ہیں لیکن کسی کو مغربی آقاوں کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے امن کو سبوتاژ نہیں کرنے دیں گے۔اس موقع پرمولانا اعجاز مصطفی ،قاضی احسان احمد، قاری عبدالباسط حنفی ،قاری تاج محمد ہزاروی، مولانا گل محمد تالونی ،مولانا نورالحق،مفتی فیض الحق ،مولانا عبدالسلام شاہ ،مولانا محمد بلال،مفتی اشرف،مفتی کفایت اللہ، مولانا تاج محمد ،مولانا ہارون الرشید ،قاری بخت نذیر، مولانا احمد سعید ،مولانا مصباح العالم ،مولانا طالوت ،ڈاکٹر عطاء الرحمن، مولانا گل حسین کمال ،مولانا سیف الرحمن ،مولانا گل رفیق ،حاجی عزیزالرحمن عزیز، مولانا عبدالرشید ارشد،مفتی نثار اور دیگر موجود تھے۔


