شاہینہ کا قتل بلوچ معاشرے کے قتل کے مترادف ہے،
کراچی (رفیق بلوچ) شاہینہ شاہین کمیٹی کی جانب سے مختلف تنظیموں بلوچ یکجہتی کمیٹی، بی ایس او، سول سوسائٹی، انسانی حقوق کی تنظیموں کے رہنماؤں اور کارکنوں سمیت بلوچ خواتین نے ہفتہ کو کراچی پریس کلب کے باہر شاہینہ شاہین کے بہیمانہ قتل کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا، شرکاء نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے جن پر مطالبات درج تھے مظاہرین نے احتجاج کے دوران نعرے بازی کی انہوں نے اس موقع پر پاکستان بھر میں تمام ترقی پسند، قوم پرست اور انسانیت دوست قوتوں سے اپیل کی کہ وہ شاہینہ شاہین کے قتل اور اس کے قاتل کی فوری گرفتاری کے لئے بھرپور آواز اٹھائیں، مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مختلف تنظیموں کے رہنماؤں نے کہا کہ بلوچ آرٹسٹ، جرنلسٹ کا دن دھاڑے قتل کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے جو نہ صرف خواتین کے حقوق اور تعلیم کے لئے سرگرم محل تھیں بلکہ بلوچ سوسائٹی میں اس کی آرٹس اور فنکارانہ تصاویر اپنی مثال ااپ تھے انہوں نے کہا کہ شاہینہ شاہین کا قتل بلوچ معاشرہ کا قتل ہے اور تاحال قاتل کا گرفتار نہ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے جو کہ تربت مکران اور بلوچستان کے چپے چپے میں موجود ہیں قاتل کو گرفتار نہ کرنا قابل مذمت فعل ہے۔ مقرین نے کہا کہ تربت جیسے شہر میں گزشتہ چند مہینوں میں بلوچ خواتین ملک ناز بلوچ، کلثوم بلوچ اور بلوچ طالب علم حیات بلوچ کی مبینہ طور پر قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے ہاتھوں قتل ایک خطرناک طرز عمل کی نشاندہی کرتا ہے ریاستی قوتوں کے پشت پناہی پر ڈیٹھ اسکواڈ اور منشیات فروش بلوچ معاشرہ میں ایک غلط رجحان کو پیدا کر رہے ہیں جس کو روکنا ہم سب کا فرض ہے انہوں نے کہا کہ حیات بلوچ کے قتل پر جس طرح بلوچ طلباء عوام، بلوچ یکجہتی کمیٹی، سول سوسائٹی، انسانی حقوق کی تنظیموں، پروگریسیو اور بائیں بازو کی سیاسی پارٹیوں نے جو شدید ردعمل دیا وہ ہمارے لئے باعث ہمت اور شہید کے خاندان کے لئے دلجوئی کا باعث بنا۔


