یورپ کی مسلم خواتین کو وسیع پیمانے پر امتیازی سلوک کا سامنا ہے، ہیلینا ڈالی
یورپی یونین کی کمشنر برائے مساوات و شمولیت ہیلینا ڈالی نے اس بات پر انتہائی رنج کا اظہار کیا ہے کہ یورپ کی مسلم خواتین کو وسیع پیمانے پر امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسلم خواتین کو اکثر ایک خاص طرح کے صنفی اسلامو فوبیا سے گزرنا پڑتا ہے، جہاں انہیں جنس، نسل اور مذہب کی بنیاد پر نسلی امتیاز کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے یورپین پارلیمنٹ کے انٹرا گروپ برائے انسداد نسلی امتیاز و تنوع اور فورم آف مسلم یوتھ اینڈ اسٹوڈنٹ آرگنائزیشنز FEMYSO کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی ایک آن لائن کانفرنس میں کیا۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ یہ امتیازی سلوک نام اور لباس سے آگے بڑھ کر کئی اور پرتیں بھی رکھتا ہے جہاں ان خواتین کو سماجی اور معاشی رتبے پر پرکھا جاتا ہے۔ جو ان کے آزادانہ کام کرنے اور اپنے آپ کو سماج میں جس طرح وہ چاہیں، آگے بڑھانے کی راہ میں سخت رکاوٹ ہے۔
ہیلینا ڈالی نے مزید کہا کہ ہم سب کو اس سماجی پسماندگی اور علیحدہ کر دینے والی سوچ کے خلاف فعال جنگ لڑنا ہوگی اور مسلم خواتین کو وہ مدد فراہم کرنا ہوگی جہاں وہ مکمل آزادی اور خود مختاری کے ساتھ ہر اس شعبے کو اختیار کرسکے جسے وہ کرنا چاہے۔


