بلوچستان کا مسئلہ حل کئے بغیر پاکستان میں پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ نا ممکن ہے، سمینار
کوئٹہ :سنیئر صحافیوں اور وکلا ء رہنمائوں نے کہا ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ حل کئے بغیر پاکستان میں پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ نا ممکن ہے، ملک میں غیر جمہوری قوتیں اور آمرانہ رویے برسر اقتدار ہیں ، صحافت اپنے مشکل ترین دور سے گزر رہی ہے میڈیا بد ترین سنسر شپ کا شکار ہے، صحافیوں میں وہ کمٹمنٹ نظر نہیں آرہی جس کی وجہ سے ہم نے صحافت کی آزادی، روزگار کا تحفظ سمیت وہ سب کچھ کھودیا جو صحافی اکابرین کی قیادت میں حاصل کیا تھا۔ یہ بات سینئر قانون دان سپر یم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر علی احمد کرد، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے صدر شہزادہ ذوالفقار، سیکرٹری جنرل ناصر زیدی، بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے صدر ایوب ترین، ناصر ملک، ، انسانی حقوق کمیشن بلوچستان کے سربراہ حبیب طاہر ایڈووکیٹ، سینئر صحافی سلیم شاہ، عصمت اللہ نیازی ودیگر نے بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام 70سالہ جدوجہد کے عنوان سے منعقدہ سمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔ سپریم کورٹ بار کے سابق صدر اور معروف وکیل علی احمد کردنے کہا کہ بلوچستان پاکستان کے سلگتے مسائل کے ساتھ موجود ہے بلوچستان کا مسئلہ حل کئے بغیر بے چینی کا خاتمہ ممکن نہیں۔صحافیوں نے سر بازار عوام تک سچ کی رسائی کی پاداش میں کوڑے کھائے۔ میڈیا لوگوں میں ہمت پیدا کرے لوگوں میں اتنا جنون ہونا چاہئے کہ وہ اپنی آرزو کا بلاخوف اظہار کرے اس عمل کے ہونے سے مزید لوگ خواب دیکھتے ہیں اس ملک میں لوگ اظہار آزادی کی تمنا رکھنے لگے ہیں اور سوشل میڈیا میں اظہار ہو رہا ہے سوشل میڈیا پر بھی قدغن کو روکنے کیلئے سیاسی جماعتوں کو کردار ادا کرنا ہوگا موجود اپوزیشن کا اتحاد بھی عوام کے دباؤ کا نتیجہ ہے سیاسی جماعتوں کے بعد وکلا اور صحافی کا کردار آتا ہے وہ لوگ جنہوں نے آزادی اظہار کی ضرورت محسوس کی اور سختیاں برداشت کی اس کا پھل سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ملک کو لیڈر شپ طلبا سیاست سے ملی سب کا فرض بنتا ہے جنون کو سامنے لانے کیلئے کام کرے۔ آزادی اظہار کو یقینی بنانے کیلئے منظم تحریک نہ چلی تو خود روتحریک کے نتائج سب کو بھگتنا ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ وکلاء کی تحریک 2سال تک جاری ہی اور انتہائی کامیاب تحریک تھی ملک کی تاریخ کی پہلی تحریک تھی کہ جس پر کوئی بھی الزام نہیں، کوئی ماہی کا لعل آج یہ نہیں کہہ سکتا کہ انہوں نے علی احمدکرد کو ہدایت دی وکلاء بحالی تحریک کے دوران تقریرکرنے کے بعد لوگ فون کرتے تھے تو خیال کیا کریں مگر آج بھی میں زندہ ہوں حالانکہ بلوچستان کے 70سال کے قریب ساتھی یہاں شہید ہوئے تاہم کچھ لمحوں کے فرق سے میں بچاپاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے صدر شہزادہ ذولفقار ،سیکرٹری جنرل ناصر زیدی نے کہا کہ میڈیا سے وابستہ افراد سول سوسائٹی وکلا اور انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والے ملک میں سچ کی آواز کو بلند کرنے کیلئے جہدوجہد کرکے اظہار آزادی کو یقینی بنائیں گے انہوں نے کہا کہ پی ایف یو جے اپنے قیام سے لیکر اب تک آزادی صحافت کیلئے جدوجہد کررہی ہے ہر دور میں رائے کی آزادی پر پابندی رہی ہے مگر ستر سالوں میں اتنی بد ترین سینسر شپ کبھی نہیں دیکھی گئی جتنی گزشتہ دو سالوں سے ہے ایسی پابندیاں لگائی گئی ہیں جو بظاہر نظر نہیں آتیں،ان پابندیوں کے پیچھے ڈیپ اسٹیٹ ہے۔ہم آج بھی ان پابندیوں کے خلاف جدو جہد کیلئے میدان عمل میں ہے۔ ہم نے اپنی جدوجہد جاری رکھی ہے اور اس کے نتیجے میں اپنی آزادی واپس حاصل کریں گے ہمارے لئے عاصمہ جہانگیر اور علی احمد کرد جیسے لوگ مشعل راہ ہیں ہم ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے جدوجہد کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ وہ قوتیں حاوی ہوگئی ہیں جو ملک میں جمہوریت چاہتی ہیں اور نہ آئین کی پاسداری کرنا چاہتی ہیں۔ ریاست اور معاشرہ تقسیم ہے آج بھی ایڈیٹر گرفتار ہے،صحافی پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کرتے ہوئے شہید ہوئے ہیں اور ان میں سب سے زیادہ قربانیاں بلوچستان کی ہیں۔ اس موقع پر انسانی حقوق کمیشن بلوچستان کے سربراہ حبیب طاہر ایڈووکیٹ نے کہا کہ انسانی حقوق سے وابستہ تنظیمیں،وکلا اور صحافی ایک ہی کشتی کے سوار ہیں۔ان تینوں کے مشترکہ پلیٹ فارم کے لئے آئی اے رحمان نے بڑی جہدوجہد کی ہے۔ جنرل ضیاالحق کے دور میں صحافت پر بہت سختی آئی۔انسانی حقوق کمیشن اور صحافت کیلئے کام کرنے والے قدغن کا شکار ہیں ایسے حالات میں پارلیمنٹ کا کردار نمایاں نہیں رہا۔ طلبا سیاست پر پابندی کے بعد ایسے سیاستدان مسلط ہورہے ہیں جنہیں عوامی خدمت سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ قانون سازی کرتے وقت عوام مفاد کا خیال نہیں رکھا جارہا۔موجودہ حکومت کے دور میں جو پابندیاں لگائی جارہی ہیں ان میں مزید سختی کا امکان ہے وکلا اور صحافی آواز اٹھاتے ہیں اس لئے وہ آخری سپاہی تک لڑیں گے سیاسی جماعتیں آزادی تحریر کو یقینی بنائے۔ سینئر صحافی ناصر ملک نے اپنے خطاب میں آزادی صحافت کیلئے منہاج برنا، نثار عثمانی، حفیظ ذاکر اور دیگر اکابرین کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہ اکابرین تھے جو مخلص ور نڈر تھے اور کسی سے ڈرتے نہیں تھے، انہوں نے آمروں کے سامنے بھی جرئت مندی سے اپنا مؤقف سامنے رکھا، آج صحافیوں میں وہ کمٹمنٹ نظر نہیں آرہی جس کی وجہ سے ہم نے صحافت کی آزادی، روزگار کا تحفظ سمیت وہ سب کچھ کھودیا جو صحافی اکابرین کی قیادت میں حاصل کیا تھا۔ اس میں ہمارا بھی اتنا ہی قصور ہے جتنا ظالم کا ہے، ہم ہر ظلم برداشت کرتے جارہے ہیں۔حکومت اور مالکان کے سامنے آنے سے کترارہے ہیں، ورکرز سڑکوں پر نہیں نکل رہے حتیٰ کہ ملازمت سے نکالے گئے صحافی اور ورکرز بھی اپنے حق میں ہونے والے احتجاج میں شامل نہیں ہوتے۔ ہمیں خود احتسابی کے عمل سے گزرنا ہوگا اور اپنی کمزوریوں کو دیکھنا ہوگا کہ ہم کیوں ان حالات میں واپس پہنچ گئے ہیں جہاں سے جدوجہد کا آغاز کیا تھا۔ ناصر ملک نے کہا کہ آج صحافیوں کو روزگار کا تحفظ حاصل نہیں، مالکان بیک قلم جنبش درجنوں سینکڑوں ملازمین کو نکال دیتے ہیں، پچھلے ایک سال میں چار ہزار اور تین سالوں میں مجموعی طور پر سات ہزار صحافی اور ورکرز بے روزگار ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ڈیپ اسٹیٹ نے وہ تمام آزادیاں چھین لی ہیں جو ستر سالوں میں لڑ کر حاصل کی گئی تھیں۔ انہوں نے مالکان کو یا تو ڈرادیا ہے یا خرید لیا ہے، صحافت کثیر الجہت حملوں کی زد میں ہے خاص طور پر جب سے عمران خان کی حکومت آئی ہے ڈیپ اسٹیٹ نے مالی طور پر اس صنعت کو کمزور کردیا ہے۔ مالکان نے سینکڑوں ملازمین نکال دیئے۔ اس صورتحال سے سب سے زیادہ بلوچستان متاثر ہوا ہے یہاں کئی چینلز کے بیووز بند ہوگئے ہیں ایسا اس لئے بھی کیا جارہا ہے کہ اس صوبے کی آواز کو ختم کیا جاسکے۔ یہ ایک منصوبہ بندی کے تحت ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافی آج بھی نہیں بکے اس لئے مالکان کے ذریعے انہیں کنٹرول کرنے کی کوشش کی گئی، آزادی اظہار کی بات کرنے والوں کو کھڈے لائن لگادیا گیا لیکن صحافی آج بھی خاموش نہیں ہوئے انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی بات کرنا شروع کردی۔ اب سوشل میڈیا پر بھی پابندیوں کیلئے کالا قانون لایا جارہا ہے، ایف اے ٹی ایف کی آڑ میں جس طرح قانون سازی کی گئی وہ ساری سیاسی جماعتوں کے ماتھے پر کلنگ کا ٹیکہ ہے، سیاسی جماعتیں میں بھی اب دم نہیں کہ وہ اس ڈیپ اسٹیٹ کے خلاف لڑ سکے، سیاسی جماعتیں عوام کی بجائے اپنے مفادات کیلئے لڑ رہی ہیں۔ ایسے میں ہماری امید پی ایف یو جے، سول سوسائٹی، انسانی حقوق اور وکلاء تنظیمیں ہیں جنہیں ملکر لائحہ بناناچاہیے۔عصمت اللہ نیازی نے کہا کہ میڈیا واچ ڈاگ ہوتا ہے وہ گورننس، شفافیت کے مسائل کو رپورٹ نہیں کرے گا تو مسائل کا پتہ نہیں چلے گا۔یہاں ہائبرڈ سیاستدانوں اور اسٹیبلشمنٹ کا گٹھ جوڑ ہے انہوں نے صحافت سمیت ہر شعبے میں بد عنوان عناصر داخل کرکے کلیدی عہدے دلادیئے یہ لوگ صرف انہی کی ہدایات پر چلتے ہیں۔ انہوں نے پی ایف یو جے کے اعلامیے کو سراہا اور کہا کہ مختلف حلقوں میں اس پر بڑی بحث چل رہی ہے اور اس کی تعریف کی جارہی ہے کہ پہلی مرتبہ واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ملک میں آزادی اظہار رائے مکمل طور پر ختم ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان حالات میں کرپشن کیسے ختم ہوسکتی ہے۔ ان ممالک میں کرپشن سب سے زیادہ ہوتی ہے جہاں آزادی اظہار رائے پر پابندی ہوتی ہے۔ آج پاکستان میں مہنگائی میں بے انتہاء اضافہ ہوگیا ہے۔ آٹے، چینی، گھی اور ادویات کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں، ادویات کی قیمتوں میں تو پانچ سو فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ میڈیا مالکان بھی اس صورتحال کے ذمہ دار ہیں، بیشتر میڈیا مالکان نے کسی مشن کیلئے نہیں بلکہ صرف اپنے ان کاروباری مفادات کے دفاع کیلئے میڈیا کے ادارے بنائے جن میں وہ گھپلے کرتے ہی۔ انہوں نے کہا کہ سول سوسائٹی، میڈیا، وکلاء اور ایکٹیویسٹس کو اس صورتحال میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگاکیونکہ اسٹیبلشمنٹ صرف میڈیا ہی نہیں بلکہ معاشرے کے ہر اس شعبے پر کام کررہی ہے جو متحرک ہے تاکہ انہیں تقسیم کا شکار کیا جائے۔ عصمت اللہ نیازی نے بھی مشترکہ جہدوجہد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس کیلئے جلد از جلد منصوبہ بندی بنانے کی ضرورت ہے۔ سینئر صحافی سلیم شاہدنے کہا کہ ماضی کی لیڈر شپ اسلئے کامیاب تھی انہوں نے صحافتی اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا، انہوں نے صحافت کی تنظیم کی بنیاد رکھی صحافت کا گلہ دبانے کی کوشش کے درعمل میں تنظیم بنی۔ آزادی صحافت کیلئے اس صنعت سے وابستہ تمام افراد کو پی ایف یو جے نے سپورٹ کیا۔تمام ورکرز کے ایک پلیٹ فارم پر متحد ہونے سے آزادی صحافت کی تحریک مظبوط ہوتی ہے وکلا سول سوسائٹی اور دیگر ٹریڈ یونین حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں صحافیوں کو اہنے مفاد سے بالاتر ہوکر فرائض سرانجام دینا ہونگے۔ماضی میں اصولوں پر سمجھوتہ نہیں ہوا صحافیوں کے کوڑے کھائے اور سختیوں اور قربانیوں کو کبھی کیش نہیں کیا۔ صحافی کو قانون سے بالاتر نہیں ہونا چاہیے اور مراعات کی جدوجہد سے باز رہنا چاہئے۔


