وکلاءتیاری کے ساتھ عدالت آئے تاکہ ججز کو بروقت فیصلے کرنے میں آسانی ہو،جسٹس گلزار احمد

کوئٹہ ۔چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس گلزار احمد نے کہاہے کہ وکلاءتیاری کے ساتھ عدالت آئے تاکہ ججز کو بروقت فیصلے کرنے میں آسانی ہو اور سائلین کو انصاف کی فراہمی جلد یقینی بنایاجاسکے ۔ بلوچستان کے نوجوان وکلاءقانون کے ساتھ فلسفے تاریخ اور لٹریچر کی کتابوں کا بھی مطالعہ جاری کرے تاکہ قانونی مسائل جاننے میں آسانی کے ساتھ ان کے علم میں بھی اضافہ ہو، ماتحت عدلیہ میںزیادہ تر کیسز کے فیصلے آنے پر مقدمات اختتام پذیر ہوتے ہیں اور سائلین کی بہت کم تعداد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہیں ان خیالات کااظہار انہوںنے بدھ کو بلوچستان بار کونسل کی جانب سے ضلعی کچہری کورٹ میں نوجوان وکلاءمیں کتابیں تقسیم کرنے اور کچہری کی تزئین و آرائش کا افتتاح کرنے کے بعد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج جسٹس اعجاز الحسن بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جمال خان مندوخیل ‘ سینئر پونی جج جسٹس نعیم اختر افغان ‘ جسٹس ہاشم خان کاکڑ ‘ جسٹس عبدالحمید بلوچ ‘ جسٹس کامران ملا خیل جسٹس روزی خان بڑیچ ‘ جسٹس نذیر احمدلانگو ‘ جسٹس ظہیر الدین کاکڑ ‘ ایڈووکیٹ جنرل ارباب طاہر کاسی ایڈووکیٹ ‘ رجسٹرار ہائی کورٹ راشد محمود ‘ وائس چیئرمین بلوچستان بار کونسل منیر احمد کاکڑ ‘ چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی بار کونسل سلیم لاشاری ‘ کوئٹہ بار ایسوسی ایشن کے صدر آصف ریکی ایڈووکیٹ راحب بلیدی ایڈووکیٹ سمیت نصیب اللہ ترین ایڈووکیٹ علی کاکڑ ایڈووکیٹ ‘سید سلیم اختر ایڈووکیٹ اور دیگر بھی موجود تھے ۔چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ آج کوئٹہ ڈسٹرکٹ کچہری دیکھ کر بڑی خوشی ہوئی پاکستان کے مختلف شہروں کے ڈسٹرکٹ کچہریوں کا دورہ کر چکا ہوں ضلعی کچہری کوئٹہ کی تزئین و آرائش و توسیع پر چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ سمیت دیگر تمام لوگ خراج تحسین کے مستحق ہیں سپریم کور ٹ کے چیف جسٹس نے کہا کہ نوجوان وکلاءعدالتوں میں پیش ہونے سے قبل پوری تیاری اور ریفرنس کی کتابیں بھی ساتھ لیکر جایا کرے تاکہ کیسز کا فیصلہ جلد ممکن ہوجوڈیشل اکیڈمی اسلام آباد میںبلوچستان کے نوجوان وکلاءکے ٹریننگ کا سلسلہ ماضی کی طرح جاری رہے گا اور اس ضمن میں تمام متعلقہ حکام کو ضروری ہدایات جاری کرونگا بلوچستان بار کونسل کے عہدیداران اور نوجوان وکلاءاس بارے میں مطمئن رہے ۔تقریب سے بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ‘ جسٹس جمال خان مندوخیل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضلعی کچہری کوئٹہ تزئین و آرائش کے بعد تاریخی عمارت کی شکل کر گئی ہے انصاف دینے کے ساتھ ماحول اور سہولیات کا ہونا بھی ضروری ہے بطور وکیل جب ضلعی کچہری کوئٹہ میں پریکٹس شروع کرنے کے وقت محسوس کیا تھا کہ ضلعی کچہری کی عمارت کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے تقریب میں شرکت کرنے پر چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس گلزار احمد کا شکریہ ادا کیا ۔ اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان بار کونسل کے وائس چیئرمین منیر احمد کاکڑ نے کہا کہ سانحہ 8 اگست کے زخم و درد ابھی تازہ ہے شہید ہونے والے وکلاءکا خلاءآئندہ 100 سالوں میں پر نہیں ہوسکتا شہید ہونے والے تمام وکلاءاپنی ذات میں انجمن تھے چونکہ نوجوان وکلاءکی صلاحیتوں کو بڑھانا ناگزیر ہے اس لئے بلوچستان بار کونسل صرف ووٹ کی حد تک محدود ہونے کے بجائے وکلاءبرادری کے تمام مسائل کے حل کیلئے تندہی سے کام کررہی ہے ۔ انہوںنے بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سمیت دیگر ججز اور ایڈووکیٹ جنرل کا ضلعی کچہری کی تزئین و آرائش میںخصوصی دلچسپی لینے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے تجویز دی کہ ضلعی کچہری میں وکلاءکے لئے ڈیجٹل لائبریری ‘ آڈیٹوریل سمیت دیگر چیزیں بنانے کی ضرورت ہے تقریب کے اختتام پر چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس گلزار احمد ‘ جسٹس اعجاز الحسن اور بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اوردیگر ججز نے نوجوان وکلاءمیں کتابیں تقسیم کی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں