اب ملک بھر ميں ايک بھی ٹڈی نہيں ہے، پاکستانی حکومت کا دعویٰ
پاکستانی حکام نے اعلان کيا ہے کہ ملک سے ٹڈيوں کا مکمل صفايا کر ديا گيا ہے۔ چند ماہ قبل ملک کےکئی حصوں ميں فصلوں پر ٹڈی دل کے حملوں کے تناظر ميں قومی سطح پر ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی تھی۔ ٹڈی دل کے حملوں کو روکنے کے ليے متحرک ادارے’نيشنل لوکسٹ کنٹرول سينٹر‘ کے سربراہ ليفٹيننٹ جنرل معظم عجاز نے جمعہ نو اکتوبر کو بتايا، ”خدا کی رحمت اور ہم سب کی کاوشوں کے سبب آج ہم يہ کہہ سکتے ہيں کہ پاکستان ميں اس وقت ايک بھی ٹڈی نہيں ہے۔‘‘
ٹڈياں گزشتہ برس جون ميں ايران سے پاکستان ميں داخل ہوئی تھيں۔ وسيع تعداد ميں ٹڈيوں نے ملک کے جنوب مغربی حصوں ميں فصلوں پر حملہ کيا اور بہت کم وقت ميں زرعی زمين تباہ کر دی۔ ٹڈيوں نے بالخصوص کپاس، گندم اور مکئی کی فصلوں پر حملہ کيا۔ اس پيش رفت کی وجہ سے دو سو بيس ملين آبادی والے ملک پاکستان کو کافی مالی نقصان اٹھانا پڑا اور کسان گندم کی دو ملين ٹن پيداوار کا اپنا ہدف حاصل کرنے ميں بھی ناکام رہے۔ نتيجتاً ايک دہائی بعد پہلی مرتبہ پاکستانی حکام کو مقامی کھپت پوری کرنے کے ليے گندم امپورٹ کرنی پڑی۔
ٹڈی دل کے سلسلہ وار حملوں کے نتيجے ميں رواں سال فروری نے متعلقہ حکام نے ہنگامی حالت نافذ کر دی تھی۔ مسئلے سے نمٹنے کے ليے ڈرون طياروں، ہيلی کاپٹروں اور جديد ترين ساز و سامان کا سہارا ليا گيا۔ ٹڈيوں سے نمٹنے ميں پاکستان کو چين کی مدد حاصل رہی۔ بيجنگ حکومت نے ڈرون، کيڑے مار ادويات اور تکنيکی ماہرين فراہم کيے۔ اس دوران کم پيداوار کا پاکستان ميں گندم کی قيمتوں پر بھی اثر پڑا۔ ستمبر ميں افراط زر دس فيصد رہی، جس سبب حکومت بھی دباؤ ميں رہی۔
گو کہ حکومت نے ٹڈيوں کا مکمل صفايا کر دينے کا دعوی کيا ہے مگر حکام کو کہنا ہے کہ مستقبل ميں دوبارہ اسی طرز کے کسی حملے کو خارج از امکان قرار نہيں ديا جا سکتا۔ تاہم اس پر پاکستان ڈيزاسٹر مينجمنٹ اتھارٹی کے سربراہ محمد افضل کا کہنا تھا، ”دوبارہ حملہ ہو سکتا ہے مگر اب ہم اپنے تجربے کے ساتھ تيار ہيں۔‘‘


