بلوچستان کی تقسیم و ساحل پر قبضہ کی کوششیں کامیاب ہونے نہیں دینگے، شہدائے عالمو چوک کے حوالے سے بی این پی کاتعزیتی ریفرنس

کوئٹہ : بلوچستان نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام شہدائے 10اکتوبر عالمو چوک کی برسی کے حوالے سے تعزیتی ریفرنس منو جان روڈ ہدہ کوئٹہ میں پارٹی کے مرکزی کمیٹی کے ممبر پبلک اکا?نٹس کمیٹی کے چیئرمین اختر حسین لانگو کی رہائش گاہ پر منعقد ہوا پروگرام کی صدارت شہدائ کی تصاویر سے کرائی گئی جبکہ مہمان خاص پارٹی کے مرکزی ہیومن رائٹس سیکرٹری موسیٰ بلوچ ‘ اعزازی مہمان پارٹی کے مرکزی کمیٹی کے ممبر ایم پی اے اختر حسین لانگو تھے شہدائے 10اکتوبر ‘ شہدائے بلوچستان اور دنیا کے تمام شہدائ￿ کی عظیم قربانیوں اور جانوں کے نذارنے کے احترام میں ایک منٹ کھڑے ہو کر خاموشی اختیار کی گئی تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی مرکزی ہیومن رائٹس سیکرٹری موسیٰ بلوچ ‘ مرکزی کمیٹی کے اراکین اختر حسین لانگو ‘ غلام نبی مری ‘ میر جمال لانگو ‘ ضلعی صدر ایم پی اے احمد نواز بلوچ ‘ جنرل سیکرٹری آغا خالد دلسوز ‘ بی این پی ہرنائی کے ضلعی جنرل سیکرٹری عبدالواحد بلوچ ‘ کوئٹہ کے سینئر نائب صدر ملک محی الدین لہڑی ‘ انفارمیشن سیکرٹری یونس بلوچ ‘ لیبر سیکرٹری ڈاکٹر علی احمد قمبرانی ‘ حاجی عبدالکریم لانگو ‘ میر زعفران مینگل ‘ ملک صلاح الدین کاکڑ ‘ پرنس رزاق بلوچ اور رضا جان شاہی زئی نے خطاب کرتے ہوئے شہدائ￿ 10اکتوبر شہید علی محمد لانگو اور جان محمد مری اور دیگر ساتھیوں کے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے ان کی قربانیوں کو زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہدائ￿ نے بلوچ قوم اور بلوچستان کے خلاف ہونے والے سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہوئے اپنے جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے ثابت کیا کہ اپنی سرزمین اور قوم کے خلاف کسی قسم کی سازش برداشت نہیں کریں گے اسی پاداش میں اپنی جانوں کی قربانی دے کر عملی ثبوت پیش کیا بلوچستان کی قومی تحریک شہدائ￿ کی قربانیوں سے بھری پڑی ہے ہر شہدائ￿ کی قربانی کا پس منظر اور فلسفہ کا بنیادی مقصد بلوچ قوم اور بلوچستان کو ترقی و خوشحالی اور تعلیم یافتہ دیکھنا چاہتے ہیں اور ان کی قربانیوں کا بنیادی مقصد کا محور یہی رہا کہ اپنے قومی حقوق ‘ واک و اختیار ‘ تہذیب و تمدن ‘ بقائ￿ شناخت وجود کو ہر حالت میں بحال رکھا جائے بلوچ قوم کی تاریخ صدیوں پر محیط ہے جنہوں نے ہر چیز‘ ظلم و ناانصافی کے سامنے نہتے ہو کر بھی سر تسلیم خم نہیں کیا مقررین نے کہا کہ شہدائ￿ عالمو کے بلوچ فرزندوں کو ایک ایسے حالات میں قتل و غارت ‘ ظلم و جبر کا نشانہ بنایا گیا جب وہ ہزار گنجی میں زرعی کالج کی تعمیر کرانا چاہتے تھے تاکہ ہمارے نوجوان طالب علم تعلیم سے آراستہ ہو کر صوبے و قوم کی بہتر انداز میں خدمت کر سکیں اور انہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر دنیا کے سامنے یہ واضح کیا کہ بلوچ قوم ایک تعلیم دوست قوم ہے اور وہ تعلیمی معیار کو اپنے علاقے میں بہتر بنانے کے لئے عملی طور پر جدوجہد اور کوششیں کر رہے ہیں حکمران نہیں چاہتے ہیں کہ بلوچ قوم کے نوجوان تعلیم سے آراستہ ہو کر حقوق ساحل وسائل کا دفاع کر سکیں کیونکہ بلوچ نوجوانوں نے ہمیشہ قلم و کتاب کو ہتھیار بنا کر ترقی پسند قوم بننے کی جستجو کی بی این پی شہدائ￿ کی قربانیوں کو کسی بھی صورت فراموش نہیں کر ے گی ان کے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں شہدائ￿ کی قربانیاں رائیگاں جانے نہیں دیں گے مقررین نے کہا کہ آج بھی بلوچستان کے ساحل وسائل و قدرتی وسائل پر قبضہ جمانے کیلئے بلوچستان کو جنوبی اور شمالی بلوچستان کے نام پر تقسیم کرنے اور بلوچستان کے جیو پولیٹیکل اہمیت کے حامل جزائر کو وفاق کے حوالے کرنے اور جدی پشتی اراضیات کو الاٹمنٹ کے نام پر قبضہ کرنے کی کوشش کا بنیاد مقصد ایک مرتبہ پھر بلوچستان میں جاری استحصال ‘ لوٹ کھسوٹ ‘ توسیع پسندانہ عزائم کو دوام دینا ہے جسے کسی بھی صورت میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے بلوچستان مادر وطن ہے ہمارے اکابرین نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر ہمارے حوالے کیا اپنی شناخت کو کسی بھی صورت ملیا میٹ ہونے نہیں دیں گے مقررین نے پارٹی عہدیداروں و کارکنوں سے کہا کہ 25اکتوبر کو کوئٹہ میں ہونے والے پی ڈی ایم کے زیر اہتمام قانون و آئین کی حکمرانی ‘ پارلیمنٹ کی بالادستی ‘ سیاست میں مداخلت ‘ جمہوریت کو حقیقی معنوں میں فروغ دینے ‘ عدلیہ و میڈیا کی آزادی ‘ قوم کو برابری کی بنیاد پر حقوق فراہم کرنے ‘ انسانی برابری اور معاشرتی انصاف کے لئے عظیم الشان جلسہ عام نئی تاریخ رقم کرے گی کیونکہ ہمارے اکابرین آج سے نہیں بلکہ دہائیوں سے اسی سلوگن پر کاربند رہ کر جدوجہد کرتے چلے آ رہے ہیں اسی پاداش میں ہمارے اکابرین کو بلا جواز دہائیوں تک پابند سلاسل ‘ قیدوبند کی صعوبتوں سے دوچار کیا گیا اور اذیتیں دی گئیں سیاسی کارکنوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دینے سے دریغ نہیں کیا آج ہمارے اکابرین اور سیاسی کارکنوں کی ناقابل فراموش جدوجہد اور قربانیوں کی ملکی سطح وفاق ‘ مذہبی جماعتیں ہماری موقف کی تائید کرتے ہوئے یہ سمجھتے ہوئے جدوجہد کرنے پر متفق ہو چکے ہیں کہ ملک کو بحرانی حالات ‘ جاری کشمکش ‘ تضادات ‘ دیگر سنگین مسائل سے نکالنے کا واحد حل آئین و قانون کی بالادست ‘ جمہوریت کے فروغ دینے میں ہے اس موقع پر بی این پی کوئٹہ کے ضلعی کسان و ماہی گیر سیکرٹری محمد یوسف رند ‘ سابق نائب صدر حاجی نذیر لانگو و دیگر سینکڑوں عہدیدار و کارکنوں بھی موجود تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں