لانگ مارچ جاری، بلوچستان اور پنجاب حکومت مسئلے کوپیچیدہ بنارہی ہیں، ہم نئی سکالرشپس اور وہ پرانی سکالرشپس کی بحالی کی بات کررہی ہیں، بلوچ طلبا
بلوچ طلبا کا لانگ مارچ بی زیو ملتان یونیورسٹی کی طرف سے2020سےداخلہ لینےوالے طلبا سے فیس وصولی کےخلاف نویں روز بھی جاری رہا۔واضح رہے طلبانے آج کے سفر کاآغاز حبیب آباد سے کیا جہاں کل رات مزدورکسان پارٹی نے ان کی میزبانی کی ۔جنہوں نے بلوچ طلبا کےتمام مطالبات کی حمایت کی اور اظہارِیکجہتی کی ،جس پربلوچ کونسل کے کارکنان نے ان کا شکریہ اداکیا،!دوپہر کےوقت قافلہ پتوکی پہنچا جہاں ٹیچرزیونین نے ان کا پرتپاک استقبال کیا اورانہیں خراج تحسین پیش کیا،جس پربلوچ طلبا نے ان کی حمایت اوراظہارِیکجہتی پرشکریہ ادا کیا ،واضح رہے مغرب کےوقت بلوچ طلبا جمبر پہنچے جہاں نجی ہوٹل والے ان کےساتھ حقارت سے پیش آئے جس کی ویڈیوزسوشل میڈیاپہ بھی وائرل ہے
اسی طرح آج !وزیراعلی عثمان بزدار کی طرف سے ایک مراسلہ جاری کیاگیا جس میں2023تک طلبا کوپڑھانے کی بات کی گئی ہے البتہ طلبا نے اس مراسلے کومستردکیا طلباکاموقف ہے کہ ہم یہ احتجاج اپنے نئےآنے والے طلبا کےلیے کررہے ہیں جنہوں نےامسال داخلہ لیناہے ان کےلیےمطالبہ کررہے ہیں ،ان کے لیےاسکالرشپس نہیں ہیں ،حکومت وقت صرف سیاسی پوائنٹ سکوائرنگ کررہی ہے ہمارا مسئلہ توسرے سے موجودنہیں ہےبلکہ ہم نئےطلبا کےاسکالرشپس کی بات کررہے ہیں
یادرہے!!پی ڈی ایم کےجلسے میں ڈاکٹرمالک بلوچ نے بلوچ طلبا کےاحتجاجی لانگ مارچ کی بھرپور حمایت کی اوراخترمینگل نے بھی بلوچ طلبا کےلانگ مارچ کی مکمل تائید کی
واضح رہے!طلبا بلوچستان سےنئےآنےوالے طلباکےلیےاسکالرشپس کی بحالی سمیت ڈیرہ غازی خان کےطلباکےلیے اسکالرشپس کی بات کررہے ہیں اورپنجاب کی تمام جامعات میں بلوچ طلباکے مسائل کےحل کرنے کی بات کررہے ہیں
علاوہ ازیںبلوچ اسٹوڈنٹس کونسل ملتان کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ بہاؤلدین زکریا یونیورسٹی ملتان نے سیشن 2020 ء کے بلوچستان کے طلباء کےلیے ایک نوٹیفیکیشن جاری کیا جس میں واضح طور پر نئے آنے والے طلباء سے فیسیں وصول کرنے کا ذکر ہے. بلوچستان جو کہ پورے ملک میں تعلیمی پسماندگی کا شکار ہے اور پورے خطے کا غریب ترین صوبہ ہے. بلوچستان میں طلباء کو اعلیٰ تعلیمی مواقع میسر نہیں ہیں اور وہ پنجاب کے تعلیمی اداروں کا رخ کرتے ہیں. لیکن اب ایک منصوبے کے تحت پنجاب کے مختلف جامعات میں بلوچ طلباء کے لیے تعلیم کے دروازے بند کر دیے جارہے ہیں.
نئے آنے والے سیشنز کےلیے ریزرو سیٹوں کے خاتمے کے خلاف بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل ملتان نے حکومت اور انتظامیہ کے تمام دروازے کٹھکٹھائے لیکن کوئ جواب نہ ملنے کے بعد جامعہ ذکریا کے مین گیٹ کے سامنے ایک احتجاجی کیمپ لگائ جو مسلسل 40 دن تک جاری رہا لیکن حکومتی شنوائی نہ ہونے کے باعث طلباء نے مجبوراً ملتان سے اسلام آباد پیدل لانگ مارچ شروع کیا جو کہ پچھلے نو دنوں سے جاری ہے اور اس وقت پتوکی ضلع قصور پہنچ چکی ہے.
کچھ دن پہلے لانگ مارچ کو ختم کرنے کے لیے بلوچستان حکومت نے دو کروڑ کا ایک گرانٹ یونیورسٹی کو فراہم کی جس میں واضح لکھا تھا کہ یہ بجٹ پہلے سے داخل شدہ طلباء کےلیے ہے، جب کہ مسئلہ پہلے سے داخل شدہ طلباء کا نہیں بلکہ آنے والے طلباء کا ہے اور آج پنجاب حکومت نے بھی ایک نوٹس لیتے ہوئے بلوچستان کے طلباء کےلیے 2023ء تک پڑھانے کے دو کروڑ جاری کرنے کا اعلان کیا.
حالانکہ 2023 ء تک کے سیشن ویسے بھی پہلے سے داخل شدہ ہیں اور اسکالرشپس پر تعلیم حاصل کررہے ہیں. اصل مسئلہ نئے آنے والے طلباء کے لیے ہے جو کہ 2020ء سیشن سے شروع ہوں گے.حکومت کی طرف سے معاملے کو حل کرنے کی بجائے مزید پیچیدہ بنایا جارہا ہے.
ہمارا دوسرا بڑا مطالبہ جو کہ پنجاب حکومت سے ہے کہ پنجاب کے تمام بڑے یونیورسٹیز بشمول بہاؤلدین ذکریا یونیورسٹی ملتان میں ڈیرہ غازی خان اورراجن پور کے طلباء کےلیے اسکالرشپس اور سیٹوں کا اجراء ہے، جس پر ابھی تک حکومت نے کوئ نوٹس ہی نہیں لیا.
جب تک ریزرو سیٹوں پر اسکالرشپس بحال اور ان کے مستقبل کے لئے ایک واضع پالیسی ترتیب نہیں دی جاتی اور ڈیرہ غازی خان اورراجن پور کے طلباء کےلیے سیٹوں کا اجراء نہیں کیا جاتا لانگ مارچ جاری رہے گا.


