بحرین اور اسرائیل نے باہمی تعلقات کے معاہدے کی باضابطہ منظوری دے دی
بحرین اور اسرائیل نے معمول کے تعلقات استوار کرنے کے لیے گزشتہ ماہ ہوئے امن معاہدے کو باضابطہ منظوری دیتے ہوئے دو طرفہ تعاون کے متعلق ایک مشترکہ اعلامیہ پر اتوار کے رو زمنامہ میں دستخط کردیے۔
بحرین اور اسرائیل کے مابین تعلقات استوار کرنے کے لیے گزشتہ ماہ واشنگٹن میں ہونے والے امن معاہدے کو دونوں ملکوں نے باضابطہ تسلیم کر لیا ہے اور اتوار کے روز امریکی حکام کی موجودگی میں منامہ میں ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کر دیے۔
گزشتہ ماہ بحرین سے پہلے متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے ساتھ اپنے معمول کے تعلقات استوار کرنے کے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اس پیش رفت نے ایک علیحدہ ریاست کا مطالبہ کرنے والے فلسطینیوں کو حیرت زدہ کردیا تھا۔ اس پیش رفت کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کی کامیابی قرار دیا جارہا ہے، جو اگلے ماہ ہونے والے صدارتی انتخابات میں دوبارہ اس عہدہ پر فائز ہونے کے لیے کوشاں ہیں۔ امریکا کی ان کوششوں کو ایران پر دباو ڈالنے کی حکمت عملی بھی قرار دی جارہی ہے۔
بحرین کے ساتھ ہونے والے امن معاہدے کی باضابطہ منظوری کے لیے ایک اسرائیلی وفد ایل ال اسرائیل ایرلائنز کے چارٹرڈ فلائٹ سے منامہ پہنچا تھا۔ امریکی وزیر خزانہ اسٹیو نوشین اس کی قیادت کر رہے تھے۔
بحرینی وزیر خارجہ عبداللطیف الزیانی نے، اسرائیلی وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل ایلن اسفیز اور فومی سلامتی مشیرمیر بن شبات کے ساتھ مشترکہ اعلامیے پر دستخط کرنے کے بعد کہا”ان سمجھوتوں پر دستخط سے اسرائیل اور بحرین کے درمیان سود مند تعاون کا راستہ کھلا ہے، ان سے خطے میں امن و سلامتی کو فروغ ملے گا۔ نیز ان سے شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ کے ویژن کے مطابق خطے میں امن کی اساس کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔”


