کچھ نہ کچھ ہونے والا ہے؟

تحریر: انور ساجدی
اس مرتبہ مقابلہ واقعی سخت ہے کیپٹن صفدر(ر) کی گرفتاری آنے والی سختیوں کی محض ایک جھلک تھی حکومت نے گرفتار ہونے والے ممکنہ رہنماؤں کی طویل فہرست تیار کرلی ہے ن لیگ کے تمام چیدہ چیدہ رہنماؤں کا نام اس فہرست میں شامل ہے امکانی طور پر کوئٹہ کے جلسہ عام کے بعد اس پلان پر عمل در آمد شروع کردیا جائے گا حکومت کو معلوم ہے کہ کوئٹہ کا جلسہ بڑا ہوگاکیونکہ وہاں پر جے یو آئی کے کارکنوں کی بہت بڑی تعداد موجود ہے جبکہ محمود خان اچکزئی اور سردار اختر مینگل بھی شرکاء کی تعداد بڑھانے کیلئے پورا زور لگا دیں گے امکان یہی ہے کہ صوبائی حکومت اس طرح کی رکاوٹیں نہیں ڈالے گی جو پنجاب حکومت نے گوجرانوالہ جلسہ کے وقت ڈالی تھیں ایک اہم بات یہ ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کوئٹہ کے جلسہ میں شرکت نہیں کریں گے جواز یہ ہے کہ وہ گلگت بلتستان میں اپنی پارٹی کی انتخابی مہم چلانے جائیں گے حالانکہ ان کی مہم کا کوئی فائدہ ہونے والا نہیں ہے اس حساس علاقہ کو کسی بھی صورت میں اپوزیشن کی کسی جماعت کے حوالے نہیں کیا جائے گا وہاں کے انتخابی نتائج پیشگی سب کو معلوم ہیں کوئٹہ کے جلسہ میں اس بات کا قوی امکان ہے کہ مسلم لیگ ن کے سپریم لیڈر میاں نواز شریف ایک اور تہلکہ انگیز خطاب کریں اس خطاب میں وہ حکمرانوں کو مزید اشتعال دلانے کی بھرپور کوشش کریں گے پیپلز پارٹی شکرادا کرے کہ کیپٹن صفدر(ر) کی ضمانت ہوگئی ورنہ پیپلز پارٹی کی ندامت اور پریشانیاں اور طویل ہوتیں۔
جہاں تک کیپٹن صفدر(ر) کا تعلق ہے وہ جہاں بھی جاتے ہیں اپنی اہلیہ اور جماعت کیلئے ضرور کوئی مسئلہ کھڑا کردیتے ہیں ایک مرتبہ پارلیمنٹ ہاؤس کی سیڑھیاں اترتے ہوئے وہ غازی ممتاز حسین قادری کی مدح سرائی کررہے تھے دوسری دفعہ انہوں نے پارلیمنٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قادیانیوں کے خلاف سخت تقریر کی اور انہیں فوج سمیت تمام سرکاری اداروں سے نکال باہر کرنے کا مطالبہ کیا حالانکہ ن لیگ کی یہ پالیسی نہیں ہے چند دن قبل انہوں نے باچا خان کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہماری سمجھ میں اب یہ بات آئی ہے کہ آپ نے جلال آباد میں دفن ہونا کیوں پسند کیا یہ ایسا بیانیہ ہے کہ ابھی تک پنجاب کے الٹرا محب الوطن لوگوں کیلئے قابل قبول نہیں ہے آج بھی نواب خیر بخش مری سردار عطاء اللہ خان مینگل اور خان عبدالولی خان کا نام غداروں کی فہرست میں شامل ہے کل ہی کی بات ہے کہ پنجاب کے چابکدست وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان کہہ رہے تھے کہ نواز شریف کے اتالیق محمود خان اچکزئی ہیں جن کے والد کا لقب”بلوچی گاندھی“ تھا اور انہوں نے قیام پاکستان کی مخالفت کی تھی لیکن چوہان کو اصل حقیقت کون سمجھا سکتا ہے انہیں کون بتائے گا کہ پنجاب نے قیام پاکستان کی تحریک میں حصہ نہیں لیا تھا قیام پاکستان کے وقت تک پنجاب میں کانگریس اور یونینسٹ پارٹی کی مخلوط حکومت قائم تھی اور سر خضر حیات وزیر اعلیٰ تھے موصوف نے 3 جون 1947 کو آل انڈیا ریڈیو پر پاکستان کے قیام کی خبر سنی تو منٹو پارک میں مسلم لیگ کے احتجاجی جلسہ میں اپنا قاصدبھیجا کہ میں آپ کے ساتھ ہوں جس پر جلسہ میں نعرہ لگا تھا کہ
ہنڑ خبر آئی ہے
خضر ساڈا بھائی ہے
پنجاب کا سیاسی کلچر یہی ہے چوہان صاحب نے زندگی کا آغاز ممتاز حسین قادری کے مرید کی حیثیت سے کیا تھا اور خلیفہ بننے کی کوشش کی تھی لیکن علامہ رضوی نے انہیں مزار سے نکال باہر کیا تھا مشرف وقت کے بلدیاتی انتخابات میں وہ بری طرح ہار گئے تھے نہ جانے کب تحریک انصاف میں شامل ہوگئے اور 2018 کے جھرلو سونامی میں ایم پی اے منتخب ہوگئے گزشتہ سال زبان درازی پر انہیں وزارت سے برطرف کردیا گیا تھا لیکن پھر اپوزیشن کو لگام ڈالنے کیلئے ان جیسے لوگوں کی دوبارہ ضرورت محسوس ہوئی تھی وہ گزشتہ شب ایک ٹی وی پروگرام میں مریم اور کیپٹن صفدر(ر) کی ذاتی زندگی کو ہدف بنا رہے تھے جب عارف نظامی نے ٹوکا تو موصوف نے کہا کہ ہم اپنی مدت پوری کرنے کے بعد آئندہ پانچ سال بھی حکومت کریں گے اور دوسری مدت میں بھی تمام خرابیوں کی ذمہ داری ن لیگ اور زرداری پر ڈال دیں گے ایک اور پروگرام میں وفاقی وزیر شفقت محمود گجر بھی ایک تعلیم یافتہ شخص کی بجائے تحریک انصاف کے کارکن بنے دکھائی دیئے ایک وفاقی وزیر علی حیدر زیدی ہیں وہ ٹی وی پر آکر فرما رہے تھے کہ مزار قائد کی بے حرمتی پر مریم نواز کو بھی فوری طور پر گرفتار ہوجانا چاہئے موصوف نے کیپٹن صفدر(ر) کو گرفتار کروانے میں اہم کردار ادا کیا تھا او رآئی جی سندھ کو فون لگا کر دھمکی دی تھی کہ اگر انہوں نے حکم نہیں مانا تو انہیں کل او ایس ڈی بنادیا جائے گا کیپٹن صفدر(ر) کے خلاف مقدمہ کے اندراج کیلئے صبح پانچ بچے تک ایم پی اے حلیم عادل شیخ پولیس تھانہ میں تشریف فرما تھے سعید غنی کے مطابق یہ سارا پلان پی ٹی آئی نے بنایا تھا رپورٹ درج کروانے والے شخص وقار شیخ صاحب کے بھانجے ہیں جونہی رپورٹ درج ہوئی اس کے ایک گھنٹے بعد کیپٹن صفدر(ر) کو مقامی فائیو اسٹار ہوٹل سے گرفتار کرلیا گیا اگرچہ اس گرفتاری میں سندھ حکومت کا ہاتھ نہیں تھا لیکن اس کی غفلت اور لاپرواہی کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا بلاول بھٹو نے کراچی آمد پر مریم کو بم پروف گاڑی اور پروٹوکول دیا لیکن یہ بات ذہن میں نہیں رکھی کہ مریم کو اس وقت شدید خطرات ہیں انہیں مریم کو بلاول ہاؤس یا وزیر اعلیٰ کے گھر میں ٹھہرانا چاہئے تھا تاکہ اس طرح کا افسوسناک واقعہ جنم نہ لیتا بلاول لاکھ خفت اور ندامت کا اظہار کریں لیکن مریم کی جس طرح توہین ہوئی وہ اس سے اپنے آپ کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتے غالباً بلاول ابھی تک سندھ کی روایات خواتین کی حرمت اور مریم کو در پیش خطرات سے واقف نہیں ہیں بوجوہ وہ خاص ہدف ہیں کیونکہ وہ پی ڈی ایم کی احتجاجی تحریک کی روح رواں ہیں ان کو گزند پہنچنے سے ریاست ایک ناگفتہ بہ صورتحال سے دو چار ہوسکتی ہے کیونکہ ان کے بغیر پی ڈی ایم کی تحریک آگے نہیں بڑھ سکتی اچھا ہوا کہ مولانا نے بروقت پریس کانفرنس کی اور پی ڈی ایم کو ٹوٹنے سے بچایا اس طرح کی سازش آئندہ بھی پیش آئیں گی اس مرتبہ ہدف بلاول ہونگے اسی لئے وہ کوئٹہ نہیں جارہے ہیں کیونکہ انہیں اطلاع ملی تھی کہ کوئٹہ کے جلسہ میں افغانستان سے بھی لوگ آئیں گے طالبان کی بھی بڑی تعداد شریک ہوگی جنہوں نے محترمہ کے قتل کی ذمہ داری قبول کی تھی اور احسان اللہ احسان نے گزشتہ ماہ بلاول کو براہ راست دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہم آپ کو جلد آپ کی والدہ کے پاس پہنچادیں گے اافسوس کہ 180 معصوم بچوں کا قاتل حراست سے فرار ہوا اور ایک ایسی محفوظ پناہ گاہ میں موجود ہے جہاں سے وہ دیدہ دلیری کے ساتھ دھمکیاں دے رہا ہے۔
یہ یاد رکھنے کی بات ہے کہ پی ڈی ایم نے جو موقف اختیار کیا ہے وہ بہت پر خطر ہے اور سیاسی رہنماؤں کو اس کی قیمت ادا کرنا پڑے گی یہ کوئی آسان معاملہ نہیں ہے کیونکہ پہلی مربتہ کسی سیاسی اتحاد نے نازک رگ چھیڑدی ہے جوں جوں تحریک آگے بڑھے گی مشکلات میں بھی اضافہ ہوگا بعض مبصرین کا تو یہ خیال ہے کہ مسئلہ کو ہمیشہ کیلئے طے کرنے کے دو راستے ہیں یا تو گفت و شنید کی جائے یا باڑہ کی تاریخ دہرائی جائے وزیراعظم کے پاس اس وقت جو انتہا پسند وزیر اور مشیر ہیں جب انہیں اپنی شکست نظر آجائے تو وہ کسی بھی قسم کی خطرناک کارروائی کرسکتے ہیں لیکن یہ بات بھی یقینی ہے کہ اگر حکومت نے غلط قدم اٹھایا تو اس کے ساتھ ہی تحریک انصاف کی تمت باالخیر ہوگی اور عمران خان کا سیاسی کیریئر ہمیشہ کیلئے معدوم ہوجائے گاحالات و واقعات نے ثابت کیا ہے کہ ان میں اعتدال نام کی کوئی چیز نہیں ہے وہ سیاسی مخالفین کو دشمن کی فوج کی طرح کچلنا جانتے ہیں افہام و تفہیم اور گفت و شنید ان کی لغت میں شامل نہیں ہے انہیں صرف بہت بڑی عوامی قوت کے ذریعے ہی سیدھا کیا جاسکتا ہے مولانا کو یہ بات ذہن میں رکھنا چاہئے کیونکہ ان کا گزشتہ سال کا دھرنا ناکام ہوگیا تھا جبکہ اس مرتبہ ناکامی کی کوئی گنجائش نہیں ہے ورنہ ایسی آمریت قائم ہو جائے گی کہ لوگ ایوب خان اور ضیا ء الحق کو بھی بھول جائیں گے اگر پی ڈی ایم کی تحریک ناکام ہوئی تو صدارتی نظام وحدانی طرز حکومت اور 1973 کے آئین کے خاتمہ کو کوئی نہیں روک سکے گا لہٰذا بھرپور تیاری اور عقل و فہم کے ساتھ تحریک کو آگے بڑایا جانا چاہئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں