کالج اساتذہ اب ناعاقبت اندیش ٹولے کی مرضی چلنے نہیں دینگے، بی پی ایل اے یکجہتی پینل

کوئٹہ; بلوچستان پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن یکجہتی پینل نے کالج اساتذہ کو درپیش مسائل کے پیش نظر انتخابات میں حصہ لینے کا جو فیصلہ کیا تھا وہ تاریخ ساز فیصلے کے طور پر یاد رکھا جائے گا کیونکہ ایک نااہل ترین کابینہ کے نقصان دہ کارناموں کے سبب کالج اساتذہ کو جس بحرانی کیفیت سے گزرنا پڑ رہا ہے اس میں ایسا کوئی بھی مثبت قدم خلوص نیت کے بغیر ممکن نہیں ان خیالات کا اظہار یکجہتی پینل کے نامزد صدر پروفیسر حمید خان نے کیا اور کہا کہ انتخابات جیتنے پر یکجہتی پینل اپنےانتخابی منشور برائے 2020-2022 میں بلوچستان لازمی تعلیمی سروسز ایکٹ 2019 کا خاتمہ، وفاق اور دیگر صوبوں کے ساتھ ون سٹیپ اپ گریڈیشن کے لئے اجتماعی جدوجہد، بی۔ایس کی بنیاد پر ٹیچنگ الاونس کی منظوری، ٹائم سکیل 21 کی منظوری، اضافی کلاسز کے لئے ریمونریشن ریٹس کو لیکچرر کی بنیادی تنخواہ کے مساوی معاوضہ، ایم فل اور پی ایچ ڈی الاونس میں 100 فیصد اضافہ، ہاوس رینٹ کی رننگ بنیادی تنخواہ کے مطابق ادائیگی اور کوئٹہ و دیگر اضلاع کے درمیان فرق کا خاتمہ، فور ٹیئر (چار درجاتی) فارمولا کی بحالی اور فائیو ٹیئر (پانچ درجاتی) فارمولا کی منظوری، ریٹائرمنٹ پر بینوویلنٹ فنڈ اسمبلی سے منظور شدہ ریٹس پر ادائیگی کے لئے دیگر تنظیموں کے ساتھ مل کر جدوجہد کرنا، مرکزی کارپوریشنز کی طرز پر ہیلتھ کارڈ کا اجراء، کوئٹہ میں پروفیسرز ہاوس کا قیام اور اگلے مرحلے میں ڈویژنل اور ضلعی ہیڈ کوارٹرز میں پروفیسرز ہاوسز کا قیام، بی ایس پیکج کی منظوری، جس میں پیپر سیٹنگ، مارکنگ اور اسائنمنٹس کے معاوضے یونیورسٹی ریٹس کے مطابق مقرر کرنا، ایکس کیڈر/پرنسپلز کی اسامیوں کے لئے مشتہر کر کے فکس ٹینور کے لئے روٹیشن کی بنیاد پر تعیناتی، لائبریری سائنسز اور فزیکل ایجوکیشن پروفیسرز کے لئے دیگر مضامین کی طرز پر سروس سٹرکچر کا حصول اور بی پی ایل اے کی تنظیم نو جیسے اہم امور کے تحت تمام تر جائز انسانی و قانونی ذریعے سے چارٹر آف ڈیمانڈ کے مطابق کام کرے گا۔ نامزد صدر پروفیسر حمید خان ، نامزد جنرل سیکریٹری پروفیسر طارق بلوچ اور الیکشن آرگنائزنگ کمیٹی کے ممبران نے بلوچستان بھر کے کالجز کے دورے کے موقع پر تمام کالج پروفیسروں کے والہانہ اور محبت سے بھرپور استقبال اور مہمان نوازی کے علاوہ یکجہتی پینل کے منشور اور پروگرام میں دلچسپی پر شکریہ ادا کیا اور خصوصی پیغام میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ بی پی ایل اے یکجہتی پینل کے ذمہ داران کسی بھی قیمت پر برادری کو تنہا نہیں چھوڑے گا اور کسی بھی قسم کے منفی اقدامات کے آگے سیسہ پلائی دیوار بنے گا بیان میں واضح کیا گیا کہ چند ناعاقبت اندیش افراد پر مشتمل ٹولے نے گزشتہ کچھ عرصہ سے کالج اساتذہ کو یرغمال بنایا ہوا تھا اب ان کی مرضی نہیں چلنے دی جائے گی۔ بلوچستان پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن کے رہنماؤں نے اپنے بیان میں بلوچستان کی تعلیمی صورت حال میں اساتذہ کے کردار کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کالج اساتذہ کے عزت و وقار پر سمجھوتا نہیں کیا جائے گا اور اس سلسلے میں برادری کو اپنے اندر سے کالی بھیڑوں کو نکالنا ہوگا۔ یکجہتی پینل کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ ہم صرف حقوق کی جنگ نہیں لڑرہے ہیں بلکہ ہم اپنے فرائض سے بھی غافل نہیں ہیں سب سے پہلے کلاس رومز کی پالیسی کے زریں اصول پر کاربند رہ کر ہی ہم کامیابی کے راستے پر چل سکیں گے۔ بلوچستان پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن یکجہتی پینل کے ترجمان پروفیسر نقیب زیب کاکڑ نے اس موقع پر کہا کہ برادری میں موجودہ بحرانی دور میں یکجہتی پینل کا قیام اتنا آسان نہیں تھا کیونکہ سابقہ نااہل کابینہ نے برادری میں انتشار اور مایوسی پھیلانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی یہی وجہ تھی کہ بلوچستان کے سینئر اور نوجوان کالج اساتذہ نے طویل مشاورت کے بعد یکجہتی پینل کی تشکیل کی اور برادری کو صاف و شفاف منشور بھی پیش کرنے کے لیے بلوچستان بھر کے دورے کئے گئے اور ہر فورم پر کالج پروفیسروں کے حقیقی مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے ان کے حقیقت پسندانہ حل پر یکجہتی کا موقف پیش کیا۔ ترجمان یکجہتی پینل نے
نامزد مرکزی صدر حمید خان انٹر کالج بوستان،جنرل سیکرٹری طارق بلوچ ڈگری کالج کوئٹہ، سینئر نائب صدر عبدالرازق الفت کاکڑ سائنس کالج کوئٹہ، نائب صدر (خاتون) ثمینہ ترین جناح ٹاؤن گرلز کالج کوئٹہ ، ڈپٹی سیکرٹری فاروق کبدانی انٹر کالج بروری کوئٹہ،جوائنٹ سیکرٹری حافظ عبد الباقی ڈگری کالج تربت، جوائنٹ سیکرٹری (خاتون) صالحہ ربانی ڈگری کالج کوئٹہ کینٹ, انفارمیشن سیکرٹری علی بابا تاج موسی کالج کوئٹہ،فنانس سیکرٹری ڈاکٹر نقیب اللہ کاکڑ ڈگری کالج پشین، پبلیکیشن سیکرٹری ڈاکٹر غلام دستگیر صابر ڈگری کالج نوشکی، آفس سیکرٹری دین محمد کاکڑ انٹر کالج میختر، کوئٹہ ڈویژن کے لیے ڈویژنل کوآرڈینیٹر امجد حسین سائنس کالج کوئٹہ، ڈپٹی کوآرڈینیٹر (خاتون) زیب النساء لونی کینٹ گرلز کالج کوئٹہ ، ڈویژنل جنرل سیکرٹری، محمد یوسف کاکڑ سائنس کالج کوئٹہ، ڈویژنل ڈپٹی جنرل سیکرٹری فیض اللّٰہ اچکزئی ڈگری کالج چمن، ڈویژنل پریس سیکرٹری محمد آصف انٹر کالج پشتون آباد کوئٹہ، قلات ڈویژن کے لیےڈویژنل کوآرڈینیٹر محمد عمر زہری ڈگری کالج خضدار، ڈپٹی کوآرڈینیٹر (خاتون) مس ذاکرہ افضل گرلز کالج مستونگ، ڈویژنل سیکرٹری ظہیر بلوچ انٹر کالج مشکے، ڈویژنل ڈپٹی سیکرٹری شکیل دہوار ڈگری کالج قلات، ڈویژنل پریس سیکرٹری قاسم رونجھا ڈگری کالج لسبیلہ، سبی ڈویژن کے لیے ڈویژنل کوآرڈینیٹر شیخ بشیرڈگری کالج سبی، ڈپٹی کوآرڈینیٹر (خاتون)طاہرہ شبیر گرلز کالج سبی، ڈویژنل سیکرٹری: بشیر مریانٹر کالج کوہلو،ڈویژنل ڈپٹی سیکرٹری امرالدین ناصرڈگری کالج ہرنائی،ڈویژنل پریس سیکرٹری نقیب اللّٰہ کاکڑ ڈگری کالج زیارت، نصیرآباد ڈویژن کے لیے ڈویژنل کوآرڈینیٹر جلیل سرپرہ ڈگری کالج ڈی ایم۔جمالی، ڈپٹی کوآرڈینیٹر(خاتون) عمارہ گرلز کالج مچھ، ڈویژنل سیکرٹری ریاض محمود کھوسہ ڈگری کالج اوستہ محمد، ڈویژنل ڈپٹی سیکرٹری نذیر بھٹو ڈگری کالج ڈی ایم۔جمالی،ڈویژنل پریس سیکرٹری: *اقبال ناظر انٹر کالج مچھ، مکران ڈویژن کے لیے ڈویژنل کوآرڈینیٹر منصور احمد بلوچ ڈگری کالج تربت،
ڈپٹی کوآرڈینیٹر(خاتون)حرس بشیر بلوچ گرلز کالج تربت، ڈویژنل سیکرٹری مجیب الرحمٰن نوشیروانی ڈگری کالج پنجگور ، ڈویژنل ڈپٹی سیکرٹری عبیداللہ ثنا(خیام ثنا) ڈگری کالج گوادر، ڈویژنل پریس سیکرٹری گلاب غالب انٹر کالج پسنی، ژوب ڈویژن کے لیےڈویژنل کوآرڈینیٹر عبدالرحمان کاکڑ ڈگری کالج لورالائی،ڈپٹی کوآرڈینیٹر(خاتون) میڈم فوزیہ وہاب گرلز کالج ژوب، ڈویژنل سیکرٹری وزیر خان مندوخیل ڈگری کالج ژوب، ڈویژنل ڈپٹی سیکرٹری شفیق الرحمن حسنی انٹر کالج کنگری، ڈویژنل پریس سیکرٹری محمد انور کاکڑ ڈگری کالج قلعہ سیف اللّٰہ ، رخشان ڈویژن کے لیے
ڈویژنل کوآرڈینیٹر عبدالحلیم بلوچ ڈگری کالج خاران، ڈپٹی کوآرڈینیٹر(خاتون) زیب النساء بلوچ گرلز کالج خاران،ڈویژنل جنرل سیکرٹری میر احمد ساتکزئی ڈگری کالج دالبندین، ڈویژنل ڈپٹی سیکرٹری ایف جے فیضی ،انٹر کالج مسکان قلات اور ڈویژنل پریس سیکرٹری سید فقیر شاہ ڈگری کالج خاران کے علاوہ پروفیسر کلیم اللہ تارن، پروفیسر خلیل خان ، پروفیسر شیر زمان خان، پروفیسر اقبال سمالانی، پروفیسر حضرت علی ، پروفیسر بشیر سمالانی، پروفیسر اسماعیل جاموٹ، پروفیسر ہارون خان اور دیگر تمام ہمدردوں اور سینئر و جونیئر پروفیسروں کی معاونت اور مشاورت پر شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ہرقدم پر برادری میں شعور و آگاہی کی اس تاریخی مہم کو آگے بڑھایا بلکہ سابقہ نااہل اور کوتاہ اندیش کابینہ کی وجہ سے بحران و ابتلاء کے اس دور میں اپنا بہترین اور مثبت کردار ادا کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں