مسیحی بچیوں کا اغواء وزبردستی مذہب تبدیل کرانا درست نہیں،شہزاد کندن
کوئٹہ:مسیحی قوم کوئٹہ اور سول سوسائٹی کے زیراہتمام بدھ کو شہزاد کندن کی قیادت میں کراچی میں 13سالہ آرزو راجہ مسیح کے ساتھ 44سالہ شخص کی جبری شادی کے خلاف کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔مظاہرین نے بینرز اٹھارکھے تھے جن پر نعرے درج تھے۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے شہزاد کندن نے کہا کہ پاکستان میں تمام اقلیتیں محب وطن ہیں اور ایک دوسرے ساتھ ملکر رہتی ہیں لیکن کچھ عناصرمسیحی اقوام کی بچیوں کواغواء کرکے انکا جبری طور پر مذہب تبدیل کراتے ہیں جو کسی بھی طرح درست اقدام نہیں ہے جس کی نہ تو اسلام اجازت دیتا ہے اور نہ ہی مسیحی مذہب اجازت دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں 13سالہ آرزو راجہ مسیح کے ساتھ 44سالہ اظہر علی نامی شخص نے زبردستی جبری شادی کی ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ 13سالہ معصوم مسیحی بچی کے ساتھ زبردستی شادی کرنے والے شخص کے خلاف پولیس اور کراچی انتظامیہ فوری طور پرکارروائی کرکے بچی کو واپس اسکے اہل خانہ کے حوالے کیاجائے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں جبری طور پر مذہب کی تبدیلی کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہے ایسا کرنے والوں کو حکومت قانون کے کٹہرے میں لائے۔


