بلوچستان اور طلباء سیاست

تحریر: اسرار بلوچ
طلبہ کسی بھی معاشرے کا کوئی مخصوص طبقہ یا مستقل سماجی پرت نہیں ہوتے۔ یہ مختلف طبقات سے آتے ہیں اور ان کی زندگی کا یہ عہد جب نوجوانی سے جوانی میں داخل ہورہا ہوتا ہے شاید ان کی عمر کا سب سے خوشگوار اور نسبتاً کم سماجی ومعاشی بوجھوں کا وقت ہوتا ہے۔ گو سماج کی محنت کش پرتوں سے آنے والی طلبہ کی اکثریت اس دور میں بھی معاشی پریشانیوں سے مبرا نہیں ہوتی۔ لیکن اسی دور میں آنے والی زندگی اور مستقبل کے کردار‘پیشے اور نظریات پروان چڑھتے ہیں۔ لیکن جوانی کی توانائیاں اور تازگی ایسے جذبوں اور ولولوں سے بھی سرشار ہوتی ہیں جن کی بنیاد پر غیر معمولی ارادے اور کردار جنم لیتے ہیں اور پھر یہی غیر معمولی کردار نظریات کی وجہ سے ایک بلند کردار بن جاتی ہے اور اور اس کے بعد اس کردار کے غیر معمولی ارادے ایک انقلاب بن جاتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ طلبہ کی تحریکوں کا انقلابات میں ایک اہم ابتدایہ کا کردار بنتا ہے۔

شاید اسی صورت حال کو مدِ نظررکھتے ہوئے ٹراٹسکی نے یہ تجزیہ پیش کیا تھا کہ طلبہ درختوں کی بلند ٹہنیوں کی طرح ہوتے ہیں جو آنے والے انقلابی طوفانوں میں سب سے پہلے جھولنے لگتی ہیں اوران انقلابی ہواؤں کی آمد کا پیغام دیتے ہیں۔ اور پھر طلبہ کا اسی دور میں جب طالب علم سٹدی سرکلز کا رخ کرتے ہیں تو ان کو نظریات کا سبق دی جاتی ہے جس میں اس کے سرزمین پر اس کے حقوق ان کے سرزمین کے لیے ان کے اباؤ اجداد کی قربانیاں پیش کی جاتی ہے چونکہ جوانی کی آمد ہے جوش سے برپور جوانی قوم کے لیے کچھ کرنے کا غم اور دل سے نکلنے کی آواز یک جا ہو جاتی ہے جس سے اس کے نظریات پختگی کی جانب رواں ہوتی ہے اور پھر دل میں قوم کے لیے کچھ کرنے کا جذبے کے ساتھ ساتھ نیت میں خلوص اور قوم کے غم میں ایمانداری اس کے نظریات کو آہستہ آہستہ اس کے عمل میں ڈالنا شروع کر دیتی ہے جس کی وجہ سے اس کے نظریات پختگی کی انتہا کو پہنچنے لگتی ہے اور نظریات کی انتہا کی وجہ سے کردار مزید وسیع تر ہو جاتی ہے اور مزید عمل کی وجہ سے ایک بہترین کردار کچھ اس طرح بن جاتی ہے کہ شہید حمید ۔شہید مجید اور بهگت سنگ جیسے کردار جو جھکنے کا نام تک نہیں لیتا

جو جیلوں میں بھی اسٹڈی سرکلز کو جاری رکھتے تھےاور اس طرح کے کردار کے نہ جھکنے کی وجہ سے انقلابی تحریک مزید مظبوط ہو جاتی ہے اور ان کی نہ جھکنے کا جرنل ضیاء کو بخوبی علم تھا اور اس کو یہ بھی علم تھا آمر جرنیلوں کے تختے الٹانے میں بھی طلبہ کا ہی کردار رہا ہے جس کی اہم مثال جرنل ایوب خان کا اور اسی وجہ سے جرنل ضیاءالحق نے اپنے آمریت بچانے کے لیے انقلاب کی پہلی سیڑھئ کو تھوڑنے کی کوشش کی یعنی کہ طلبہ یونینز اور طلبہ تنظیموں پر پابندی عاہد کی انقلاب کی اس ڈر کی وجہ سے جرنل پرویز مشرف نے بھی طلبہ پر ظلم میں کوئی کسر نہیں چھوڑی

انقلاب کی اس چنگاری یعنی طلبہ سے ریاست کو آج تک ڈر ہے کیونکہ پہلی چنگاری ہی بڑی آگ کا سبب بن تھا ہے اور اس لیے ریاست اپنی اس ڈر کو طلبہ کی خوف میں تبدیل کرنا چاہتاہے اس لیے تعلیمی ادارے چھاونیوں میں تبدیل ہو چکھے ہے جن میں داخل ہونے سے پھلے طلبہ کو اپنے بستے بھی چیک کروانا پڑتا ہے انقلاب کی اس ڈر نے ریاست کو اس طرح مجبور کیا ہے کہ بندوق بردار اشخاص بارڈرز کو چھوڑ کر تعلیمی اداروں میں طلبہ کو ذہنی غلام بنانے کی کوششوں میں مصروف ہے
ریاست اپنی ڈر کو طلبہ کی خوف میں تبدیل کرنے کے لیے ان کو ذہنی غلام بنا ککوشش کر رہا ہے کہ انقلاب کی چنگاری آگ بننے سے پہلے ہی بجھ جاۓ اور انقلاب کی پہلی سیڑھی ٹوٹ جاۓ تہ کہ دوسری سیڑھی تک رساہی نہ ممکن ہو جاۓ

اپنا تبصرہ بھیجیں