ڈونلڈ ٹرمپ اور جوبائیڈن کے درمیان سخت مقابلہ‘ پولز میں ڈیموکریٹس امیدوار کو برتری‘ اس مرتبہ ٹرن آؤٹ زیادہ ہوگا‘ ماہرین

واشنگٹن (انتخاب نیوز)امریکا میں 59 ویں صدارتی انتخاب کیلئے ووٹنگ کا عمل مکمل ہوگیا‘نتائج کا سلسلہ آج سے آنا شروع ہوجائیگا‘ قبل ازیں مختلف امریکی ریاستوں میں صدارتی انتخاب کے لئے پولنگ کا عمل شروع ہوا اور پولنگ اسٹیشنز پر ووٹرز کی قطاریں لگی رہیں۔سب سے پہلے کینیڈا کی سرحد کے قریب ریاست نیو ہیمپشائر کے چھوٹے سے گاؤں سے ووٹنگ کا آغاز ہوا۔ امریکا میں الیکشن ’منگل‘ ہی کو کیوں ہوتے ہیں؟ ماہرین نے اس مرتبہ توقع سے زیادہ ٹرن آؤٹ کی پیش گوئی کی ہے جب کہ قبل از وقت ووٹنگ اور ڈاک کے ذریعے تقریباً 10کروڑ سے زائد امریکی اپنا حق رائے دہی استعمال کرچکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق قبل ازوقت ووٹ کاسٹ کرنے والوں میں 45 فیصد لوگوں وہ ہیں جو ڈیموکریٹس یعنی جو بائیڈن کے حامی ہیں جب کہ 30.5 فیصد ری پبلکن جماعت یعنی ڈونلڈ ٹرمپ کے حامی ہیں۔ امریکی صدارتی انتخاب میں موجودہ صدر اور ری پبلیکن امیدوار ٹرمپ اور ڈیموکریٹک امیدوار جوبائیڈن کے درمیان سخت مقابلہ ہے جب کہ مختلف انتخابی جائزوں (پولز) میں جوبائیڈن کو ٹرمپ پر واضح برتری حاصل ہے۔امریکی انتخابات میں دونوں حریفوں نے عوام کا اعتماد جیتنے کیلئے سر دھڑ کی بازی لگا دی۔ پنسلوانیا اور مشی گن میں جوبائیڈن اور ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اپنے حمایتیوں سے خطاب کیا۔ امریکی صدارتی الیکشن میں ڈونلڈ ٹرمپ اور جو بائیڈن میں سخت مقابلہ متوقع ہے۔ امریکا کے 10 کروڑ افراد حق رائے دہی استعمال کر چکے ہیں جس سے امریکا میں ارلی ووٹنگ کا نیا ریکارڈ قائم ہوا ہے۔ ریاست مشی گن میں خطاب کرتے ہوئے ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار جوبائیڈن نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ٹرمپ اپنا بیگ پیک کریں اور گھر چلے جائیں، انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ اپنے دور اقتدار میں نسلی امتیاز ختم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ایسی صدارت کا خاتمہ کر دیں گے جس نے پوری قوم میں نفرت پھیلائی اور ہر نسلی واقعے پر مزید پٹرول پھینکا۔ ریاست مشی گن میں خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کہتے ہیں اگر وہ مشی گن سے جیت گئے تو کام ہو گیا۔ وہ ڈٹ کر مقابلہ کر رہے ہیں آج ٹی وی پر جیت کی خبریں سنیں گے۔دوسری جانب صدر ٹرمپ کی اہلیہ ملانیا ٹرمپ نے بھی اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔دریں اثناء سماجی رابطے کی معروف ویب سائٹ ٹویٹر نے اعلان کیا ہے کہ امریکی صدارتی انتخابات 2020 کے نتائج کے حوالے سے جیتنے والے امیدوار کا نام سرکاری طور پر اعلان کرنے کے سلسلے میں صرف سات میڈیا پلیٹ فارمز پر اعتماد کیا جا سکتا ہے۔اس فہرست میں چھ ٹی وی چینلزاورایک نیوزایجنسی شامل ہے،ٹویٹر نے اس سے پہلے کہا تھا کہ وہ اس بات کا مطالبہ کرے گا کہ یا تو ریاست میں انتخابی ذمے داران یا پھر ذرائع ابلاغ کے جن سرکاری قومی اداروں کو نتائج کے اعلان کی اجازت دی گئی ہے، وہ ٹویٹس پر نتائج جاری ہونے سے قبل جیتنے والے امیدوار کا اعلان کریں۔اگر ٹویٹر پر کسی رپورٹر یا صارف نے منتخب ذرائع میں سے کسی کا حوالہ دیے بغیر نتائج کے حوالے سے ٹویٹ کی تو اس ٹویٹ کو بلاک کر دیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں