جنگ سیاستدانوں کی نہیں، اداروں میں تناؤ ہے، مولانا شیرانی

پشین :جمعیت علماء اسلام پاکستان کے مرکزی رہنما و سابق چیئر مین اسلا می نظر یا تی کو نسل مولانا محمد خان شیرانی نے کہا کہ بلوچستان، سندھ اور خیبر پختونخوا پہلے سے ہی مظلومیت کی فریاد میں مگن ہیں اب اگر پنجاب بھی یہی نعرہ لگائے کہ ”جاگ پنجابی جاگ۔تیری پگ نوں لگ گئی آگ“ تو حالات ٹھیک نہیں ہوں گے۔ یہ بات انہوں نے پشین کے علاقے منزکی میں ڈاکٹر عزیز اللہ چشتی کی رہائشگاہ پر منعقدہ تربیتی کنونشن کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔اس موقع پر سید قاسم آغا، امین اللہ امین،مولوی عبدالقدیر،مولوی نظر حقانی، مولوی جمیل الرحمن اور دیگر انکے ہمراہ تھے۔حضرت مولانا محمد خان شیرانی نے کہا کہ ملک میں سیاستدانوں کی جنگ نہیں بلکہ اداروں کے اندر ایک تناؤ ہے اور یہ مناسب نہیں کہ سیاسی جماعتیں اداروں کے آپس کے تناؤ میں اپنا حصہ ڈالیں ملک میں جمہوریت کا نعرہ لگانے والی جماعتوں کاما سوائے جماعت اسلامی کے مجھے نہیں لگتا کہ کوئی اور جماعت جمہوریت کی بنیاد پر قائم یا چلتی ہو انہوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کی اپنی ذاتی صلاحیت ہوتی ہے اور حالات کی واقفیت اور منصوبہ بندی کی مہارت میں اسکا قائل ہوں البتہ میرا اختلاف اُن کے استعمال سے ہے کہ یہ صلاحیت جس انداز سے استعمال ہورہا ہے یہ غلط ہے استعمال کیلئے جو بین الاقوامی یا علاقائی مجبوریاں ہیں انکا ہمیں بھی احساس ہیں لیکن یہ مجبوری اُس حد تک بھی نہیں کہ ہم ایک آسان ترین نقطے سے اپنے امن کا آغا زنہ کرسکے اسٹیبلشمنٹ کے ذمہ داروں سے جب بھی میری نشست ہوتی ہے تو میرا موقف واضح ہوتا ہے کہ صلاحیت مسلم ہے لیکن استعمال غلط ہے انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی حالات ایسے رہے تو پھر ہمارے آپس کے جھگڑے ہماری غلامی کی تناؤ کو کم نہیں مضبوط کرے گا آپس میں لڑنے سے دشمن کی گرفت ہم پر مضبوط ہوگی ہمیں چاہئے کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ مل بیٹھے جب ہم سنجیدگی سے ایک دوسرے کو بات سنیں گے تو اس سے آسان ترین نقطہ بھی نکالا جاسکتا ہے نبی کریم ﷺ کی تعلیمات میں بھی یہی ہے کہ جب کوئی کام شروع کرو تو آسان ترین نقطے سے شروع کرو انہوں نے کہا کہ یہاں حاکمیت اقوام متحدہ کی ہے اور پوری دنیا کیلئے آئین اور دستور یو این چارٹر ہے تمام ممالک اور حکومتیں انکے ساتھ معاہدوں کے ذریعے سے مربوط ہیں کوئی بھی حکومت یا مملکت اقوام متحدہ کے چارٹر سے باہر نہ کوئی قانون سازی کرسکتا ہے نہ ہی فیصلہ صادر کرسکتا ہے انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام پاکستان ایک جماعت ہے جس کے ہم ارکان ہیں جبکہ جے یو آئی (ف) ایک گروپ ہے پارٹی کے اندر اختلاف ہیں مگر جماعت دو حصوں میں تقسیم نہیں ہوا انہوں نے کہا کہ جماعت کے ذمہ دار ساتھی کہتے رہے ہیں کہ تنظیم سازی اور رکن سازی میں خیانت کی گئی ہے اب خیانت ایسا جرم ہے جس میں جھوٹ، وعدہ خلافی،دھوکہ اور خود غرضی بھی ہوتی ہے گویا منافقت کے چار خاصیت اور صفات جو نبی کریم ﷺ نے بیان فرمایا ہے منافقت میں وہ تمام شامل ہیں ہم خیانت کو پسند نہیں کرتے ہیں کبھی ساتھ بھی نہیں دیں گے انہوں نے کہا کہ تربیتی کنونشن اور کارنر میٹنگز کا مقصد جماعت کے قدیم ساتھیوں اور ہم اُسکو اپنے طور پر ان ساتھیوں کو جو جماعت کے قدیم اور موقف پر قائم ہے انکو باہم مربوط رکھنے کیلئے تربیتی اجتماعات کا انعقاد کرتے رہتے ہیں اگر ہم انکے درمیان رابطے کا ذریعہ نہ بنے تو خطرہ یہ ہے کہ وہ مایوسی کے شکار ہوکر کسی اور سیاسی جماعت میں چلے جائیں گے یا پھر بلکل کام کرنے سے بھی دستبردار ہوجائیں گے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عمران خان اور موجودہ حکومت کی چند باتیں مجھے کچھ زیادہ نامناسب نظر نہیں آتی عمران خان کی سب سے پہلے کورونا کے بارے میں جو رائے تھی کہ لوگوں کو ڈراؤ مت،لوگوں کو گھروں میں مت بیٹھاؤ اور دو ہاتھ کی مزدوری سے رکھاؤ مت وہ آخر تک اس با ت پر ڈٹے رہے انکی یہ موقف سیاسی اور شرعی اعتبار سے معقول ہے دوسری بات انہوں نے اسٹیٹ بنک اپنی ضلعی بنکوں کو قرضے دیا کرتا تھا سوا تیرہ فیصد سود پر اب انہوں نے یہ سود کم کرواکر صرف سات فیصد کردیا ہے جو کہ بہترین اقدام ہے لگ رہا ہے2028ء تک حکومت عمران خان کی ہے۔انہوں نے کہا کہ جہانگیر ترین میدان میں آگیا ہے اُمید ہے مہنگائی کی لہر بلخصوص چینی کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے کو ملی گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں