سوراب، تیل بردار گاڑیوں سے بھتہ وصولی منافع بخش کاروبار میں تبدیل

سوراب:سوراب میں تیل بردار گاڑیوں سے پولیس کی بھتہ وصولی آفیسران کے لئے منافع بخش کاروبار بن چکا، آمدنی بڑھانے کے لئے پنجگور شاہراہ پر ایک کلومیٹر کے فاصلے پر تیغک بائی پاس اور زیرو پوائنٹ پر دو الگ ناکے قائم کرکے سوراب پولیس کے اہلکار مارپیٹ کے زریعے لاچار مزدور طبقہ کی محنت کی کمائی لوٹ رہے ہیں مگر پوچھنے والا کوئی نہیں، وزیر اعلی آئی جی بلوچستان ڈی آئی جی قلات ریجن سوراب میں پولیس کی ظالمانہ بھتہ خوری کا نوٹس لیکر ہمیں ان کی زیادتیوں سے نجات دلائیں متاثرہ ڈرائیورز کی اپیل، تفصیلات کے مطابق پنجگور سے تیل لانے والے مزدور طبقہ سے بھتہ وصولی سوراب پولیس کا منافع بخش کاروبار بن چکا ہے، پنجگور سے تیل لانے والے گاڑی ڈرائیورز سے مارپیٹ اور تشدد کے زریعے مبینہ طور پر آفیسران کے لئے روزانہ لاکھوں روپے کی رقم جمع کی جاتی ہے، جبکہ اس رقم کو بڑھانے کے لئے اب ایک کلومیٹر کے اندر دو دو ناکے قائم کرکے فی چھوٹی گاڑی دو ہزار روپے بھتہ وصول کیا جارہا ہے ان ناکوں پر کھڑے نقاب پوش اہلکاروں کے مطابق آفیسران کی جانب سے انہیں رقم جمع کرنے کے لئے روزانہ کا ہدف دیا جاتا ہے، بھتے سے حاصل ہونے والی رقم کے حساب کتاب کے لیئے سوراب پولیس تھانے میں جو مخصوص اہلکار مقرر ہے وہ بھی اس ناجائز کمائی سے راتوں رات لگژری گاڑیوں اور کروڑوں کے اثاثوں کا مالک بن چکا ہے، متاثرہ ڈرائیور کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بچوں کے پیٹ پالنے کے لئے تیل برداری کے اس پرمشقت کاروبار کو مجبورا اختیار کرچکے، اپنے خاندان اور بچوں کی کفالت کے لئے ہم اپنے دن رات کا سکون آرام اور نیند قربان کرکے اس مہنگائی میں گھر کا چولہا جلانے کے لئے انتھک کوشش کررہے ہیں مگر ہماری تمام محنت کی کمائی پولیس اور اداروں کے ناکوں پر لوٹی جارہی ہے ہمیں اس کاروبار میں منافع نہ ہونے کے برابر ہے بلکہ اکثر اوقات بھتے ادا کرنے کے نتیجے میں مقروض ہوجاتے ہیں اس صورتحال میں تیل لانے والا لاچار ڈرائیور طبقہ شدید ذہنی اذیت سے دوچار ہے ان کے پاس خودکشی کے علاوہ کوئی چار نہیں، انہوں نے وزیر اعلی بلوچستان آئی جی پولیس اور تمام متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ انہیں سوراب میں پولیس ایکسائز اور دیگر اداروں کے ظالمانہ بھتے سے نجات دلائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں