کیچ کے برطرف اساتذہ کی تادم مرگ بھوک ہڑتال ، متعدد کی حالت غیر ہوگئی،ہسپتال منتقل

کوئٹہ : کیچ کے 114 جبری برطرف مرد و خواتین اساتذہ کا تادم مرگ بھوک ہڑتالی کیمپ تیسرے روز بھی جاری رہا جی ٹی اے کیچ کے صدر اکبر علی اکبر سمیت تا دم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھے متعدد اساتذہ کی حالت غیر ہوگئی ہے تفصیلات کے مطابق کیچ کے 114 اساتذہ کوسولہ ماہ قبل آر ٹی ایس ایم کی غلط رپورٹنگ کی وجہ سے بغیر کسی انکوائری کے بلاجواز برطرف کردیا گیا تھا جوکہ اپنی بحالی کے لیے کئی ماہ تک کیچ میں احتجاج پررہے مگر اُنہیں بحال نہ کیا گیا بعد ازاں جی ٹی اے کے زیر اہتمام اساتذہ نے علامتی بھوک ہڑتال شروع کی جو 23 روز تک جاری رہی مگر حکومتی سطح پر کوئی خاطر خواہ جواب نہ ملنے پر جی ٹی اے نے صوبہ بھر میں ڈویژن کی سطح پر احتجاجی مظاہروں اور ریلیوں کا انعقاد کیا اور 16 نومبر کو کوئٹہ ڈویژن کے احتجاج کے بعد اساتذہ تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھ گئے ہیں جی ٹی اے کے صوبائی صدر حاجی حبیب الرحمن مردانزئی نے گزشتہ شب کیمپ کا دورہ کیااس موقع پر اُنہوں نے حکومتی بے حسی اور پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اساتذہ کے ساتھ ایسے نامناسب رویے کی مثال ملکی تاریخ میں لگنے والے کسی مارشل لاء میں بھی نہیں ملتی حکومتی اراکین کا اُنہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی انکوائری کے بغیر اساتذہ کو نوکریوں سے نکالنا اُن کا معاشی قتل ہے اور اگر اساتذہ کو فوری طور پر بحال نہ کیا گیا تو جی ٹی اے صوبہ بھر میں سخت سے سخت احتجاج پر مجبور ہو گا جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی اُنہوں مزید کہا کہ اساتذہ کو کسی بھی موڑ پر تنہاء نہیں چھوڑیں گے اور نہ ہی آر ٹی ایس ایم جیسے نام نہاد ادارے کے رحم وکرم پر چھوڑا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں