سابق امریکی صد ربراک اوبامہ کے خدشات
سابق امریکی صدر براک اوبامہ نے اپنی کتاب”A Promised Land“میں پاک بھارت تصادم کے حوالے سے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ذرا سی غلطی خطے کو تباہ کر سکتی ہے۔اس میں شک نہیں کہ بظاہر ایسا ہی نظر آتا ہے لیکن فریقین کو زمینی حالات کا بھی بھرپور ادراک ہے اوروہ جانتا ہے کہ چینی افواج لائن آف ایکچوئل کنٹرول(ایل اے سی) عبورکرکے اس علاقے میں اپنی پوزیشن دن بدن مضبوط سے مضبوط تر کر رہی ہیں۔بھوٹان میں انہوں نے ایک شہر بسا دیا ہے اور لداخ کی اونچی چوٹیوں پر چینی افواج کا قبضہ ہے۔امریکی سابق صدر کی کتاب شائع ہونے کے بعد چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان لی جیان زاؤ نے پورے وثوق سے کہا ہے کہ سی پیک ناکام بنانے کی کوشش کرنے والوں کو مایوسی ہوگی۔اس تناظر میں قرین قیاس یہی ہے کہ چین کی وزارت خارجہ کے بیان کو بھارت کے پالیسی ساز نظر انداز نہیں کریں گے۔آرمی پبلک اسکول پشاور پر حملے کے بعد اس کے ذمہ داروں کے خلاف آپریشن نے صورت حال تبدیل کردی ہے۔آج کورونا بڑا مسئلہ دکھائی دیتا ہے۔
اس کے علاوہ امریکہ میں نو منتخب صدر جو بائیڈن کی حلف برداری کے بعدامریکی پالیسی سازوں کو بھی بعض معاملات میں سوچ بچار اور رد و بدل کی ضرورت ہوگی۔ایران کے ساتھ ٹرمپ کا رویہ ضرورت سے زیادہ جارحانہ رہا ہے۔ معاہدے کی یکطرفہ منسوخی کے بعد ایرانی جنرل کا قتل ابھی تک سلگتا ہوا مسئلہ ہے،کسی وقت بھڑک سکتا ہے۔افغانستان کے بارے میں بھی کھل کر کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ امریکہ نے کیا کھویا کیا پایا؟جو بائیڈن معاملہ فہم صدر ہوں گے،ان سے توقع کی جا سکتی ہے کہ کوئی قابل عمل راستہ نکالنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔کم از کم ٹرمپ کی طرح دنیا کو فتح کرنے کی احمقانہ ضد نہیں کریں گے۔ صلح جوئی کو ترجیح دیں گے۔کورونا نے امریکی معیشت کو بھی بری طرح متأثر کیا ہے۔ 2لاکھ 60ہزار سے زائد ہلاکتیں کسی بھی حکومت کے لئے پریشان کن مسئلہ ہوتی ہیں،امریکی حکمران ویکسین کی تیاری کے آخری مرحلے میں پہنچ چکے ہیں۔تاہم وبا اپنی جگہ موجود ہے اور آنے والے دنوں میں 136ملکوں میں کورونا کے حوالے سے حالات بگڑ سکتے ہیں۔اس ضمن میں بری خبر یہ ہے کہ آئندہ برس 20لاکھ بچوں کی ہلاکت کا خدشہ ہے۔اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف کی رپورٹ کے مطابق 2لاکھ پیدائش سے قبل دم توڑ سکتے ہیں۔ جبکہ پہلی لہر میں بچوں کی ہلاکتیں صفر تھیں۔پاکستان میں کورونا کا پھیلاؤ قدرے سست ہونے کے باعث عمومی رویہ غیر سنجیدہ ہے۔ 5،6روپے کاماسک نہیں پہنتے ا س کی بجائے دعاؤں سے کام چلایا جاتا ہے۔تمام عقید ہ پرست معاشروں میں اسی قسم کا ردعمل دیکھنے میں آتا ہے۔اس رویہ کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیئے، لوگوں کو سمجھایا جائے کہ اس کے نتیجے میں صورت حال بگڑ سکتی ہے۔زندگی سے نہ کھیلا جائے۔اس مرض سے مرنے والوں کی تعداد فی صدتناسب کے لحاظ سے کم ہے لیکن اس کے یہ معنے نہ لئے جائیں کہ کورونا کو چکھنا ہر پاکستانی پر فرض ہے۔اگر کورونا کی زد میں آنے کے بعد معلوم ہوا کہ اس کا پلہ بھاری ہے تو علاج مہنگا ہوگا۔تین لاکھ میں بھی انجکشن نہیں ملتا۔
اپوزیشن کی اپنی مجبوریاں ہیں۔حکومت کہے ڈرنا نہیں تو شور مچ جاتا ہے حکومت بے حس ہے،عوام کی جان اس کے نزدیک کوئی قیمت نہیں رکھتی۔اور حکومت یہ مشورہ دے کہ کورونا کے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر احتیاط کی جائے تو اپوزیشن کا مؤقف سامنے آتا ہے: حکومت جلسے جلوس کا حق نہیں دیتی۔حالانکہ اپوزیشن غیر سیاسی لوگوں پر مشتمل نہیں۔ پی ڈی ایم ملک کی 11چھوٹی بڑی سیاسی جماعتوں کا مشترکہ پلیٹ فارم ہے۔ تجربہ کار قائدین اس کے عہدیدار ہیں۔انہیں علم ہے کہ کورونا واقعی ایک خطرہ ہے۔ترقی یافتہ ملک اسے روکنے میں ناکام ہیں۔صورت حال قابو سے باہر نہ ہونے دی جائے۔یہ عمل کفران نعمت کے مترادف ہے، اَللہ کی طرف سے اس کی عبرت ناک سزا ملتی ہے۔اَللہ کے عذاب کو دعوت دینا کوئی دانشمندی نہیں۔ عام آدمی بھی جانتا ہے کہ جلسے جلوس ملتوی کر کے کورونا سے بچاؤ کو یقینی بنانا آج کی ضرورت ہے۔زندہ اور صحت مند رہے تو جلسوں میں شرکت کی جاسکتی ہے،لیکن جلسوں سے اپنے خاندان کے لئے بیماری کا تحفہ لانا اپنے خاندان کے ساتھ دشمنی کہلائے گی۔اسکول قبل از وقت بند کئے جا رہے ہیں۔شادی بیاہ کی تقاریب منعقد کرنا معمول کا کام نہیں رہا۔کھلی جگہ پر 300مہمانوں سے زائد بلانے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔یہ بلا وجہ نہیں۔ اول تو جلسوں جلوسوں سے پاکستان میں حکومتیں کبھی گھر نہیں بھیجی گئیں۔جب بھی ایسا ہواتو سیاست دانوں کوگیٹ نمبر چار کی حاضری بھی دینا پڑی۔73سال سے یہ نقصان دہ اور ذلت آمیزکھیل جاری ہے۔یہ افسوسناک روایت اب ختم ہونی چاہیے۔عوام کی جان و مال کے تحفظ کو سرفہرست رکھا جائے۔ پی ڈی ایم سب سے پہلے یہ دیکھے کہ جلسے جلوس کورونا کے پھیلاؤ میں مددگار تو نہیں۔جواب ہاں میں ہو تو احتجاج کچھ دنوں کے لئے مؤخر کرنے میں کوئی حرج نہیں۔عوام کی صحت کوداؤ پر لگانے سے گریز کیا جائے۔ جان ہے تو جہان ہے۔


