پی ڈی ایم سوچنے کو تیار بشرطیکہ۔۔۔
پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ(پی ڈی ایم) کے رہنما اورپشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرریاستی ادارے اعلان کردیں کہ ہم (آئندہ)پاکستان کی سیاست میں مداخلت نہیں کریں گے تو پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں سوچیں گی۔انہوں نے کہا ہمارا اپنی فوج سے کوئی جھگڑا نہیں ہے۔(دنیا میں)کوئی ملک فوج اور اس کے جاسوسی ادارے کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ جاسوسی ادارے چاہے سویلین ہوں یا ملٹری ہوں، حکومت کے کان اور آنکھیں ہوتے ہیں۔ہم کہتے ہیں کہ تمام ادارے اپنی اپنی حدود میں رہ کر کام کریں اور سب تسلیم کریں کہ طاقت کا سرچشمہ عوام کی منتخب پارلیمنٹ ہے اور ملک آئین کے تحت چلے گا۔ ہمارے ہزاروں لوگوں کو مار دیا گیا ہے جن میں بزرگ، بچے، نوجوان، وکلاء سمیت سب شامل ہیں۔اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ قدرت کی عطا کردہ نعمتیں بندوق کے زور پر لے جائے گاتو یہ بربادی کا راستہ ہے۔پی ڈی ایم سمجھتی ہے کہ پارلیمان کو عزت نہیں دی نہیں دی جارہی۔ پی ڈی ایم پاکستان کو بچانے کی تحریک ہے۔محمود خان اچکزئی سے پہلے اسی قسم کے خیالات کا اظہار مسلم لیگ نون کی سینئر نائب صدر مریم نواز بھی کر چکی ہیں۔گلگت بلتستان میں انتخابی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاتھا:فوج ہماری اپنی ہے، اس سے مذاکرات ہوسکتے ہیں لیکن یہ عوام کے سامنے ہوں گے۔انہوں نے یہ وضاحت بھی کر دی تھی کہ حکومت مذاکرات کا حصہ نہیں ہوگی،پہلے حکومت کو گھر بھیجا جائے۔
تجزیہ کار سیاست دانوں کے بیانات سے سیاسی سمت کا اندازہ لگاتے ہیں۔ان کے پاس کوئی باد نما نہیں کہ سیاسی ہوا کارخ متعین کر سکیں یا سیاسی درجہ حرارت ناپ سکیں۔تند و تیز بیانات اورکسی سے مذاکرات نہ کرنے کے اعلانات سے یہ پیغام ملتا ہے سیاستدان جلد یا بدیر کسی بند گلی میں داخل ہو جائیں گے اور جب اداروں سے پارلیمنٹ اور آئین کی عزت جیسے مطالبات کئے جائیں تو دوسری قسم کا تأثر ابھرتا ہے۔دنیا بھر کے محققین اس مؤقف کے حامی ہیں کہ جنگ سیاسی ہو یا دو ملکوں کے درمیان لڑی جانے والی فوجی جنگ ہو، اس کا حل ہمیشہ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے بعد ملتا ہے۔ تازہ ترین مثال آرمینیا اور آذر بائیجان کے درمیان لڑی جانے والی جنگ ہے۔اچھا ہواکہ پی ڈی ایم کی قیادت کو جلد ہی احساس ہو گیا معاملات بگاڑ کی طرف جارہے ہیں اوراب ہر پارٹی کا قائدباری باری عوام کو بتانے لگا ہے کہ مذاکرات کے دروازے بند نہیں کئے گئے۔بلکہ پختونخوا میپ کے سربراہ محمود اچکزئی کی ٹی وی چینل سے گفتگو ایک قدم آگے کا اشارہ دے رہی ہے۔اب تو مذاکرات کی شرط بھی ختم کر دی گئی ہے۔عسکری اداروں کی جانب سے صرف ایک اعلان آجائے کہ سیاست میں مداخلت نہیں کی جائے گی تو پی ڈی ایم اپنی تحریک ختم کرنے کے بارے میں سوچ سکتی ہے۔ نون لیگ کی دوسرے درجے کی قیادت کو عین ابتدائی دنوں میں ہی احساس ہو گیا تھا کہ مذاکرات کے دروازے بند کرنے کی حکمت عملی نقصان دہ ثابت ہوگی۔رانا ثناء اللہ اور احسن اقبال کھل کر کہنے لگے تھے تیسری پارٹی(اسٹیبلشمنٹ) مداخلت کرے۔یہ مطالبہ انہوں نے اپنی اعلیٰ قیادت کی آشیر باد کے بغیر نہیں کیا ہوگا۔نون لیگ اس حقیقت سے کسی بھی دوسری سیاسی جماعت کے مقابلے میں زیادہ باخبر ہے کہ سیاست کی اصل قوت مذاکرات میں پنہاں ہے۔نون لیگ کے پاس مذکراتی ونگ الگ ہے اور سیاسی گولہ باری کا ونگ الگ ہے۔دونوں ونگ بعض اوقات بیک وقت سرگرم ہوتے ہیں،لیکن مطلع ابر آلود ہو تو ایک ونگ خاموش ہوجاتا ہے۔
یہ رائے بسم اللہ سمجھی جا سکتی ہے۔جیسے جیسے وقت گزرے گا دھند چھٹتی جائے گی، گرد و غبار بیٹھ جائے گا۔سچ یہ ہے کہ سیاست میں قدم قدم پر نئی الجھنیں جنم لیتی ہیں، نئے مسائل سر اٹھاتے ہیں، چٹیل میدانوں میں اچانک ٹیلے نمودار ہوجاتے ہیں، راستے مسدود اور آگے بڑھنا محال ہوجاتا ہے۔ممکن ہے جوابی حملوں کی شدت کو محسوس کرتے ہوئے حکمت عملی میں تبدیلی ناگزیر ہوگئی ہو۔وجہ کچھ بھی رہی ہو، مذاکرات یا مذاکرات کے بغیر ہی مطلوبہ اعلان پر پی ڈی ایم کی جانب سے سوچنے کا عندیہ دینا موجودہ حالات میں دانشمندانہ فیصلہ ہے۔یورپی اقوام نے بھی پارلیمنٹ کی بالادستی کے لئے طویل جدوجہد کی ہے۔پاکستان میں بھی کوئی شارٹ کٹ نہیں۔سیاست دانوں کو نئے سرے سے ہوم ورک کرنا ہوگا۔ بیانیے کے خدوخال اور جملوں کی ترتیب پر مناسب محنت درکار ہے۔ویسے بھی حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تومختلف الخیال اور باہم متصادم 11جماعتی ”اتحاد“ کے لئے عجلت میں اتنے بڑے ہدف کے حصول کی متفقہ دستاویز مرتب کرنا ممکن ہی نہیں۔علاوہ ازیں کورونا کی دوسری لہر سے آنکھیں بند رکھنا عوام کو بدترین صورت حال کی جانب دھکیلنے کے مترادف ہے۔مرکزی اہلحدیث کے ناظم اعلیٰ حافظ عبدالکریم کورونا وائرس کا شکار ہو گئے ہیں۔چیئرمین قائمہ کمیٹی قانون و انصاف ریاض فتیانہ نے کوروناٹیسٹ مثبت آنے پر خود کو قرنطینہ کر لیا ہے۔چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ چند روز قبل کورونا میں مبتلاء ہوکر جان کی بازی ہار چکے ہیں۔عالمی وبا کو جھٹلانا درست نہیں، اس کے انکار کی حمایت نہیں کی جاسکتی۔ پی ڈی ایم کی قیادت اتنے بڑے بڑے سیاسی فیصلوں میں رد و بدل کر رہی ہے اسے چاہیئے کہ کورونا کے حوالے سے بھی سنجیدگی کا مظاہرہ کرے،عوامی صحت اور زندگی کی حفاظت کا معاملہ ہے،عمیق غورو فکر کی ضرورت ہے۔اسے جلسے جلوس روکنے کا حکومتی سیاسی حربہ قرار دینا درست نہیں۔


