اسرائیلی وزیراعظم کی سعودی ولی عہد سے ملاقات
پاکستانی عوام کے لئے یہ اطلاع کتنی ہی ناقابل یقین ہومگر یہ ایسی حقیقت ہے جس کے شواہد اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے فضائی معاہدے کی صورت میں جلدسامنے آجائیں گے۔ عالمی میڈیاپورے وثوق سے کہہ رہا ہے کہ اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نتن یاہونے سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان سے ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب بحر احمر کے ایک ساحلی شہرنیوم میں ملاقات کی۔امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیواور اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سربراہ یو سی کوہن بھی اس موقعے پر موجود تھے۔سعودی وزیرخارجہ فیصل بن فرحان السعود ان خبروں کی تردید کررہے ہیں جبکہ اسرائیلی وزیر تعلیم یایوگیلنٹ نے کہا ہے کہ ہمارے باپ دادا کا خواب پورا ہوگیا ہے۔فلائنگ ٹریکنگ ڈیٹا سے بھی اسرائیلی صحافی باراک راویدکے ٹوئیٹ کی تصدیق ہوجاتی ہے۔اسرائیلی وزیر اعظم کے زیر استعمال ایک طیارے نے شام 5بجے تل ابیب کے بن گوریان ایئر پورٹ سے اڑان بھری اور 5گھنٹے بعد واپس اسرائیل کے لئے ٹیک آف کیا۔اسرائیل کے وزیر دفاع نے نیتن یاہو کے طیارے کی خفیہ پرواز کو لیک کرنا ایک غیر ذمہ دارانہ حرکت قرار دیا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ نے کہا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ کی موجودگی میں نیتن یاہو کے دورہئ سعودی عرب کا مقصد ایران پر ممکنہ حملہ ہو سکتا ہے۔اگر واشنگٹن پوست کی اطلاع میں صداقت ہے تو بہت جلد اس منصوبے کے خدوخال سامنے آنا شروع ہو جائیں گے۔اس اطلاع کو یکسر مسترد کرنا درست نہیں ہوگا اس لئے کہ مشرق وسطیٰ میں امریکی فرنٹ مین عراقی صدر صدام حسین نیٹو افواج کے ہاتھوں گرفتار ہوئے پھر انہیں پھانسی دے دی گئی تھی۔اس کے بعد سے امریکہ ان کے جانشین کی تلاش میں ہے۔اسی مقصد کے لئے اسامہ بن لادن کو زندہ یا مردہ گرفتار کرنے کے بہانے افغانستان پرحملہ کیاتھا مگراندازوں کی غلطی کے باعث وہاں بری طرح الجھ گیا۔آج تک اس سے جان نہیں چھڑا سکا۔
البتہ اس د وران سعودی عرب اور قطرکو سینکڑوں ارب ڈالر کا اسلحہ فروخت کرنے میں کامیاب ہو گیا۔یمن کی جنگ کوتوسیع دینے میں اگر پاکستان کوئی فعال کردار قبول کر لیتا تو خطے کا نقشہ مختلف ہوتا، مگر پاکستان نے ایک بار پھر پارلیمنٹ سے رائے لی اورغیر جانبدارانہ کردا رپسند کیاچنانچہ فوری جنگ کا خطرہ ٹل گیا۔مگرڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو تہس نہس کرنے کی خواہش اپنی جگہ برقرار رہی۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور سعودی ولیعہد محمد بن سلمان کے درمیان مذکورہ خفیہ ملاقات کو اسی تناظر میں دیکھا جائے۔امریکہ کی آبادی35کروڑاوراس کا قرضہ اس کے جی ڈی پی کا 97 فیصد ہو چکا ہے جبکہ چین کا قرضہ اس کے جی ڈی پی کا صرف 13فیصد ہے اور آبادی150کروڑ ہے۔اس تقابل سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ امریکی حکمران اور اس کے پالیسی ساز کتنے پریشان ہیں۔ایک بھرپور جنگ ان کی بنیادی ضرورت ہے۔ سینکڑوں ارب ڈالرکی ڈیل صرف جنگی خوف کے نتیجے میں ممکن ہے۔نارمل حالات میں اتنی بھاری مالیت کا فوجی سازوسامان کوئی ملک کیوں خریدے گا؟ دنیا 2014سے حالت جنگ میں ہے۔1945میں جاپان کے دو شہروں ہیرو شیما اور ناگاساکی پرایٹم بم گرا کر امریکہ نے عالمی وسا ئل میں حصہ دار ہونے کا اعلان کیا۔اس سے پہلے اسے اپنی حدود سے باہر فوجی طاقت کی حیثیت سے کوئی نہیں جانتا تھا۔پاکستان وجود میں آیا تو امریکہ اور روس دوعالمی مراکز سمجھے جاتے تھے۔پاکستان کے پالیسی سازوں نے اس وقت کے حالات کے تناظر میں امریکی کیمپ میں جانا پسند کیا۔ چند ملکوں نے غیرجانبداری کے نام پردونوں سے روابط رکھے،ان میں مصر اور بھارت بھی شامل تھے۔مصر نیٹو کے اتحاد میں شامل ہونے کے باوجود معاشی لحاظ سے پریشان ہے اور بھارت غیر جانب داری کا بھرم دھیرے دھیرے کھونے لگا ہے جبکہ پاکستان اپنی امریکی کیمپ والی شناخت شائد زیادہ دیر برقرار نہ رکھ سکے۔
گویا دو کیمپوں (روس اور امریکہ)والے مناظر تبدیل ہوچکے ہیں۔آج کل کورونا دنیا کو نئی سمت اور نئی سوچ دینے میں مصروف ہے۔تیل پیدا کرنے والے ملکوں کی معیشت کورونا کا صدمہ برداشت نہیں کر سکی۔تیل کی طلب کم ہوئی تو ان کی آمدنی اچانک نیچے آگئی۔متبادل ذریعہ آمدنی سیاحت تھا،وہ بھی کورونا کی لپیٹ میں آگیا۔جدیدٹیکنالوجی سے نابلدعرب حکمرانوں کی عقل ماؤف ہے، انہیں کچھ سجھائی نہیں دے رہا کہ اپنی معیشت کو کیسے سدھاریں؟پاکستان سے اپناقرضہ واپس مانگنے میں ان کی اپنی معاشی مجبوریاں بھی ایک بڑی وجہ بن گئی ہیں۔صرف ملائیشیا جانے پر ناراضگی اور حاکمیت اس کا سبب نہیں۔اسرائیلی وزیراعظم سے ملاقات سے یہی اشارہ ملتا ہے کہ عرب ممالک کو اپنا معاشی مستقبل بھارت میں زیادہ محفوظ نظر آتا ہے۔یاد رہے کہ ہر ملک کی سیاست اس کی معیشت کے تابع ہوتی ہے۔کبھی ایک کیمپ اور کبھی دوسرے کیمپ میں شمولیت کے پس پردہ معیشت کارفرما ہوتی ہے۔ آرمینیا کی پسپائی سے ایک کیمپ کی کمزوری ثابت ہوئی،کمزور کیمپ ادھر ادھر ہاتھ پاؤں مارتا نظر آتا ہے۔ابھی ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں موجود ہیں،امریکی مفادات کے لئے جو کچھ کر سکتے ہیں، کرتے رہیں گے۔ اسرائیل کے ساتھ ان کے تعلقات ڈھکے چھپے نہیں۔اسرائیلی دارالحکومت کی یروشلم منتقلی میں ان کا کردار سب کے سامنے ہیں۔انہوں نے امریکی سفارت خانہ یروشلم لے جانے کا اعلان کیاہوا ہے، جسے آئندہ صدر جو بائیڈن بھی تبدیل نہیں کریں گے۔اسرائیل اپنی مضبوط معیشت اور عالمی سرمائے پر بلا شرکت غیرے گرفت رکھنے کے باعث جوچاہتاہے منوالیتا ہے۔ عوام کی بد قسمتی ہے کہ اتنے قیمتی اثاثوں کی حفاظت اور استفادہ کی اہلیت کے حامل، دوربین نگاہ اور نیک و بد کی تمیز رکھنے والے سیاست دان میسر نہیں آئے۔ریکوڈک کاپر اینڈگولڈپروجیکٹ کا معاہدہ اس تکلیف دہ حقیقت کاواضح ثبوت ہے۔ اب بھی ہوشمندی سے کام لیا جائے تو عوام کو ترقی اور خوشحالی کی منزل تک لے جانا ممکن ہے بشرطیکہ سیاست دان ”بیانیے“ کے مخمصے سے باہر نکلیں۔


