ٹرمپ نے انتخابی ہارکی پہلی قسط تسلیم کر لی

امریکہ میں انتخابات 3نومبر کو ہوتے ہیں جبکہ حلف برداری 20جنوری کو ہوتی ہے۔اس دوران نئے صدر کو کابینہ کے چناؤ سمیت دیگر متعلقہ امور طے کرنے کے لئے ڈھائی مہینے کا وقت مل جاتا ہے۔ امریکہ کے بارے میں یہ کہا جاتا تھا کہ کہ ہارنے والا امیدوار غیر سرکار ی نتائج سامنے آتے ہی اپنی شکست تسلیم کر لیتا ہے اور جیتنے والے کو اعلانیہ جیت کی مبارکباد دیتا ہے۔ماضی میں الگور اور بش کے درمیان ووٹوں کی گنتی کا تنازعہ پیدا ہوگیاتھا،مشینی اور انسانی گنتی بار باراعتراضات کی نذر ہوتی رہی چنانچہ فیصلہ عدالت نے اپنی صوابدید کے مطابق بش کے حق میں سنایا۔ایک صحافی نے الگور سے کہا آپ کی جیت یقینی تھی،آپ نے فیصلہ کیوں تسلیم کر لیا؟الگور کا جواب تھا:”میں چار سال بعد جیت جاؤں گا،لیکن عدلیہ کے دامن پر کوئی داغ لگا تو صدیوں دور نہیں ہوگا“۔ اب صد رڈونلڈ ٹرمپ ہیں جو اپنی انتخابی ہار کو قسطوں میں تسلیم کررہے ہیں۔اگلے روزانہوں نے انتظامیہ سے کہہ دیا ہے کہ صدارتی تبدیلی کے قانونی تقاضے پورے کرنے کا عمل جاری رکھیں۔جبکہ انتظامیہ نے ان کی اس ہدایت سے بہت پہلے جہازوں کی پرواز جو بائیڈن کے گھر کے اوپر سے بند کر دی تھی۔اور میڈیا ان سے ٹرمپ کی جانب سے وائٹ ہاؤس خالی نہ کرنے والے بیان پر ردعمل چاہتا تو بائیڈن صرف یہ کہتے کہ یہ کام متعلقہ ادارے انجام دیں گے۔اسی دوران ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی بیوی کا بیان بھی میڈیا کی زینت بنا کہ ٹرمپ بڑی ضدی طبیعت کا مالک ہے، آسانی سے نہیں مانے گا۔ان کی بیٹی بھی مشورہ دے چکی تھیں کہ وائٹ ہاؤس خالی نہ کرنے کا دعویٰ درست نہیں نیز انہیں شکست تسلیم کرنے کے لئے بھی کہا تھا۔اسے بھی موصوف صدر نے نہیں مانا۔مگر انہیں خود ہی احساس ہوگیا ہے کہ ریاست سے لڑنا ٹھیک نہیں۔لہٰذا آسان اقساط میں ہار ماننے کا راستہ اختیار کر لیا ہے۔
پاکستان کی تاریخ امریکہ سے بہت مختلف ہونے کے باوجود کئی دہائیوں سے انتخابی نتائج تسلیم نہ کئے جانے کے حوالے سے سے تھوڑی بہت مماثلت رکھتی ہے۔ مگر یہاں کسی نے وزیر اعظم ہاؤس یا پریذیڈنٹ ہاؤس خالی کرنے سے انکار کبھی نہیں کیا۔اسکندر مرزابیرون ملک چلے گئے،غلام اسحاق خان اور نوازشریف نے ایک ساتھ اپنی سرکاری رہائش گاہیں خالی کرنے کی مثال بھی قائم کی۔ایک دوسرے کو قبل ازوقت گھر بھیجنے کی روایت بھی ایک سے زائد بار دہرائی گئی۔بعد میں اس کام سے توبہ کرنے کا اعلان ضرور ہوا مگر یہ توبہ دیرتک برقرار نہیں رہ سکی۔آج کل ایک بار پھر پاکستان کی 11 سیاسی جماعتیں ”پی ڈی ایم“ کے نام اور اپنے اپنے جھنڈوں کے ساتھ 16اکتوبر سے جلسے کررہی ہیں۔ اب تک چار جلسے ہوچکے ہیں۔پانچواں جلسہ 30نومبر کو ملتان میں اور آخری جلسہ13دسمبر کو مینار پاکستان(لاہور) منعقد کرنے کااعلان کیا گیا ہے۔اگر ان جلسوں کے بعد بھی پی ٹی آئی کی حکومت نہ خودگھر گئی اور نہ ہی خلاف توقع گھر بھیجی گئی تو آئندہ جنوری میں اسلام آباد کی طرف ایک لانگ مارچ کیاجائے گا۔پی ڈی ایم کی قیادت کو یقین واثق ہے کہ یہ حکومت اگر دسمبر کا مہینہ گزارنے میں کامیاب ہوگئی تب بھی جنوری کا مہینہ نہیں دیکھ سکے گی۔حکومت تاحال کورونا کی دوسری لہر کوڈھال کے طور پر استعمال کرتی دکھائی دیتی ہے۔ کورونا ساری دنیا میں خطرہ بنا ہواہے اور امریکہ سمیت ترقی یافتہ ممالک میں ایک آفت سمجھا جاتاہے مگر پاکستان میں کورونا کو معمولی فلو کہہ کر اتنی اہمیت نہیں دی جاتی جس کا تقاضہ ڈاکٹر کررہے ہیں۔سندھ میں مزارات اور درگاہوں کی بندش کا نوٹیفکیشن جاری کر دیاگیا ہے مگرمدارس نے حکومتی فیصلے کے برعکس اپنی تعلیمی سرگرمیاں معطل کرنے سے انکار کر دیا ہے۔حکومتی مشیر برائے نذہبی امور مولانا طاہر اشرفی بھی ٹی وی ٹاک شوز میں مدرسوں کے بند نہ ہونے کے حامی دکھائی دیتے ہیں۔ جبکہ مشیر اطلاعات پنجاب فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ وفاق المدارس سے مشاورت کے بعد یہ مسئلہ حل کر لیا جائے گا۔
عام آدمی اپنے مصائب میں الجھاہواہے۔مہنگائی کا بوجھ برقرار ہے۔عرب ممالک سے بھی روزگار کے حوالے سے اچھی خبریں نہیں آرہیں۔خدشہ ہے کہ بیروزگاری کے علاوہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کا مطالبہ ایک ہتھیار کے طور پر آزمایا جا سکتا ہے۔مبصرین کا خیال ہے کہ پاکستان سے کہا جارہا ہے کہ سعودی عرب سے پہلے یہ اعلان کیا جائے تاکہ سعودی عرب کے لئے آسانی پیدا ہو۔ اس کے ساتھ ہی یہ خبریں بھی گشت کر رہی ہیں کہ شاہ سلمان کی زندگی میں سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا۔بہر حال امریکی ایسٹبلشمنٹ چاہے گی کہ یہ کام ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں ہوجائے۔ اس لئے کہ عرب اسرائیل تعلقات کو بہتر بنانے میں جتنی دلچسپی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لی اس کی مثال پہلے نہیں ملتی۔بہرحال جو ہونا ہے کرسمس کی تقریبات کے دوران جنوری کے نصف تک ڈونلڈ ٹرمپ کی رخصتی سے پہلے ہوجائے گا۔پاکستان خطے کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر یہ اعلان کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔چین اور بھارت کے مفادات متصادم ہیں۔چین ایل اے سی عبور کرکے بھارتی علاقے لداخ میں اپنی فوجیں اتار چکا ہے۔اور دن بدن اپنی پوزیشن مستحکم کر رہا ہے۔سی پیک کوئی سیاسی نعرہ نہیں،اس کی معاشی ضرورت ہے۔پاکستان نے بھی اپنا مستقبل چین کے ساتھ وابستہ کر دیاہے۔تنہا پاکستان کی بات ہوتی تو ہر انہونی ممکن ہے مگر چین کے ساتھ طویل مسافت طے کرنے کے بعد اب پاکستان اتنا بڑا فیصلہ تنہا نہیں کر سکے گا۔مذہبی جماعتیں اسرائیل مخالف مہم چلانے میں ایک لمحے کی تاخیر نہیں کریں گی۔قبلہئ اول کی آزادی کے نعرے کے ساتھ ایران بھی میدان میں کود پڑے گا۔حوثی قبائل کے حملے یکسر نظرا انداز نہیں کئے جا سکتے۔سعودی عرب بھی عجلت میں ایساکوئی فیصلہ نہیں کرے گا جو اس کی حکومت کے لئے خطرہ بن جائے۔ابھی تیل دیکھو تیل کی دھار دیکھو کی پالیسی پر عمل کو ترجیح دی جائے گی اور یہی مناسب بھی رہے گی۔پاکستان امریکہ کے اثر سے کافی حد تک نکل چکا ہے۔ایسی غلطی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں