چین کی آسٹریلیاکو وارننگ

کینبرا میں چین کے سفارت کار نے پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران آسٹریلیا کے بدلتے ہوئے رویہ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ آسٹریلیا جان بوجھ کر دو طرفہ تعلقات خراب کر رہا ہے۔آسٹریلیا فہرست میں شامل پالیسیوں سے پیچھے ہٹ جاتا ہے تو یہ دونوں ملکوں کے درمیان بہتر ماحول کے لئے موزوں ہوگا۔14نکات پر مشتمل ڈوزیئر آسٹریلوی میڈیا کے سپرد کرتے ہوئے چینی عہدیدار نے کہا اگر چین کو دشمن بنایا جائے گا تو چین دشمن بن جائے گا۔آسٹریلیا نے چینی الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔لیکن گزشتہ چند ماہ میں جس طرح امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیواس خطے میں سرگرم رہے ہیں اور چین کے خلاف بھارت اور آسٹریلیاسمیت ایک محاذ تشکیل دینے کی کوشش کرتے رہیں اس کی روشنی میں چینی سفارت کار کی وارننگ کو آسان لینا درست نہیں ہوگا۔اس کے معنے یہی ہوتے ہیں کہ امریکہ اس خطے میں اپنی ساکھ بہتر بنانے کے لئے کوشاں ہے۔یہ الگ بات ہے کہ اسے اپنے مشن میں کس حد تک کامیابی ہوگی اور کتنی ناکامی؟دراصل جب سے چین ایل اے سی عبور کرکے لداخ میں داخل ہواہے اور بھارت اپنے اعلانات کے مطابق اسے کوئی جواب نہیں دے سکاتو بھارت کاپنے اسٹرٹیجک پارٹنر امریکہ سے مدد مانگنا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔آسٹریلیا برطانوی کیمپ کاحصہ ہونے کے ناتے چین مخالف پالیسی میں کردار ادا کر سکتا ہے۔لیکن اس سے یہ سمجھنا کہ آسٹریلیا اور دیگر چھوٹے ملک مل کر چین کے لئے کوئی بڑی رکاوٹ بن سکتے ہیں تو عملاً ایسا ممکن نہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ چین کی بھارت میں پیش قدمی اور وہاں بلند چوٹیوں پر قابض ہوجانا فوجی زاویہئ نگاہ سے کس قدر اہم ہے بھارت بخوبی جانتا ہے۔علاوہ ازیں امریکہ میں حکومت بھی تبدیل ہورہی ہے۔اگرچہ منتخب صدر جو بائیڈن نے واضح کر دیا ہے کہ ان کے دور حکومت کو براک اوبامہ کی حکومت کا احیاء نہ سمجھا جائے۔
لیکن اسکے یہ معنے بھی نہیں ہوسکتے کہ آنے والی حکومت ڈونلڈ ٹرمپ کا تسلسل ہوگی۔جو بائیڈن نے خود ہی کہا ہے کہ اب عالمی تقاضے تبدیل ہو چکے ہیں۔نئے سوالات اٹھ رہے ہیں۔انہیں امریکہ میں قومی ہم آہنگی کے حوالے سے مسائل کا سامناہے۔نسلی رنجشیں ٹرمپ دور میں بڑھ گئی ہیں۔ایران اورامریکہ کے مابین مخاصمت کو کم کرنا بھی امریکی ترجیحات میں شامل ہوگا۔شنگھائی تعاون تنظیم کا بھارت رکن ہے، ایران اور افغانستان مبصر ہیں۔افغانستان میں ابھی تک دھماکوں کا سلسلہ جاری ہے، آئے روزجانی و مالی نقصان ہو رہا ہے۔ امریکی معیشت پاکستان کی طرح قرضوں جکڑی ہوئی ہے۔ کورونا کی وجہ سے اس میں مزید بگاڑ آگیا ہے۔اس کا اندازہ 20جنوری کو جوبائیڈن کی حلف برداری کے وقت کی جانے والی تقریر سے ہوگا۔امریکہ جتنی چاہے کوشش کر لے اس کے لئے فوجی سازوسامان کے لئے نئی منڈیوں کا حصول دن بدن مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ا سلحہ خریدنے والے ممالک کی قوت خرید کم ہو چکی ہے۔ بھارت کورونا کے علاوہ دیگرداخلی مسائل کا شکار ہے۔ چین کا مقابلہ کرنا ہے تو امریکہ بھی چین جیسی سستی اشیائے صرف مارکیٹ میں لائے۔جو گزرتے وقت کے ساتھ اس کے بس میں نہیں رہا۔اب توچین بھی اپنے کارخانے ان ممالک میں منتقل کرنے لگا ہے جہاں لیبر مقابلتاً سستی ہے۔ پاکستان اس کی مثال ہے۔بنگلہ دیش نے اپنی سستی لیبر کی وجہ سے خاطر خواہ ترقی کی ہے۔اس کا ٹکہ پاکستانی روپے سے مضبوط ہے۔پسماندہ ملکوں کے پاس سستی لیبر بڑا ذریعہ آمدنی ہوتا ہے۔ چین سے لڑنے کے لئے آسٹریلیا اور اس کے ہمسایہ ملکوں کو عراق کی طرح تیار نہیں کیا جا سکتا۔ آسٹریلیا یہ حماقت نہیں کرے گا۔عرب ممالک پر حملہ آور ہونے کے لئے سوچنے کی ضرورت نہیں تھی۔اسرائیل کے ذریعے انہیں اتنا خوفزدہ کر دیا گیا ہے کہ وہ حوثی قبائل کا مقابلہ کرنے کی ہمت نہیں رکھتے۔بھارت میں دم ہوتا تو چین کو ایل اے سی کے پار دھکیل دیتا۔
امریکہ کو اپنا اسلحہ فروخت کرنے کی بجائے کوئی اور شعبہ تلاش کرناہوگا۔1945سے فوجی اسلحہ امریکی معیشت کو سنبھالے ہوئے ہے۔ لینن اور کارل مارکس 100سال پہلے لکھ گئے ہیں کہ جیسے جیسے مقامی صنعت اپنی ضروریات پوری کرنے کے قابل ہوتی جائے گی،اسی رفتار سے سامراج پسپائی اختیار کرے گا۔آج پاکستان نے اپنی اسلحہ سازی کی صلاحیت بڑھا لی ہے، خود کفالت سے آگے بڑھ کر ایف16لڑاکا طیاروں جیسے جنگی جہاز (جے ایف تھنڈر17)دوسرے ملکوں کو فروخت کرنے لگا ہے۔ جو کارکردگی میں بہتر اور قیمت میں سستے ہیں۔ایران اسی سمت آگے بڑھ رہاہے۔ بھارت امریکہ کا اسٹریٹجک پارٹنر ہونے کے باوجو د لڑاکا طیارے ”رافیل“فرانس سے خرید رہا ہے۔امریکی تھنک ٹینک سوچیں؛ آسڑیلیا امریکی مفادات کی جنگ اپنی سرزمین پر کیوں لڑے گا؟ کیا آسٹریلیا چین کو بھی عرب ممالک جیسا ٹیکنالوجی سے محروم، اسرائیل سے ڈراہوا،تیل بیچ کر گزر بسر کرنے والا ملک سمجھتاہے؟کیا چین اور عراق یا لیبیاء میں کوئی مماثلت ہے؟کیاآسٹریلیا اپنا سب کچھ ہزاروں میل دور واقع امریکہ پر قربان کر دے گا؟یہ غلطی امریکی تھنک ٹینکس کو ویت نام اور افغانستان فتح کرنے والی حکمت عملی سے زیادہ نقصان دہ ثابت ہوگی۔اس ضمن میں آسٹریلیا جو کرسکتا تھا،کرچکا۔چین کی جانب سے وارننگ ملنے کے بعد اسے معلوم ہوگیا ہوگا کہ چین صرف دوستی کا خواہشمند نہیں، دشمنی لینی پڑے تواس کے لئے بھی تیار ہے۔معروضی حالات کو نظر انداز کرکے، خواہشات کے بل پر زبانی کلامی بہت کچھ کیا جا سکتا ہے لیکن عملی تقاضے مختلف ہوتے ہیں۔چین نے کورونا کو شکست دی ہے، سیدھی سی بات ہے؛کورونا سے ہارے ہوئے ملک چین کو نہیں ہرا سکتے۔آنے والے ہفتوں میں آسٹریلیا کا رویہ بتائے گا کہ اسے اپنا مفاد عزیز ہے یا کرائے پر دوسروں کے لئے پرانی تنخواہ پر کام کرتا رہے گا؟جبکہ آقامیں اس مرتبہ تنخواہ ادا کرنے کی سکت نہیں، وہ تو مال غنیمت میں سے تھوڑی سی ادائیگی کرنے کاعادی ہے اور چین سے جنگ کی صورت میں تاوان کے امکانات زیادہ دکھائی دیتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں