بی پی ایل اے کا سابقہ کابینہ کی جانب سے تنظیمی ومالیاتی ریکارڈ کی عدم فراہمی پر تشویش کا اظہار
کوئٹہ:گزشتہ دنوں بلوچستان پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن کی مرکزی کابینہ کا اجلاس بی پی ایل اے کے صدر پروفیسر حمید خان کی صدارت میں مرکزی دفتر میں ہوا۔ اجلاس میں ممبر سازی کے حوالے سے تمام ڈویژنل کوآرڈینیٹروں سے تفصیلی بریفننگ لی گئی جس پر مرکزی کابینہ نے اب تک کی گئی ممبر سازی پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا گیا کہ آئین میں درج یونٹ الیکشن کےطریقہ ء کار کے لیے ضروری ہے کہ ممبرشپ مکمل ہو کیونکہ ایسوسی ایشن کے ممبران ہی یونٹ الیکشن کے اہل ہوں گے۔ مرکزی کابینہ نے فیصلہ کیا کہ ہر یونٹ میں ہر ممبر کو رکنیت کا حق دیا جارہا ہے تاکہ کوئی بھی ممبر ووٹ کے حق سے محروم نہ رہے لہذا ممبرشپ کے مکمل ہونے اور کووڈ کی صورت حال کو مد نظر رکھتے ہوئے یونٹ الیکشن کا اعلان کیا جائے گا۔ بی پی ایل اے کابینہ نے بلوچستان بھر کے معزز پروفسیروں کے مسائل و مشکلات کے مناسب اور فوری حل کے لیے مختلف کمیٹیاں بھی تشکیل دیں اور ہر کمیٹی کے ممبران کو بھی نامزد کردیا گیا۔ مرکزی کابینہ میں کالج اساتذہ کی سنیارٹی فہرستوں کے حوالے سے پیش رفت کا جائزہ لیا گیا جس پر صدر نے باقی ماندہ کام کو مکمل کرنے کے لیے متعلقہ کمیٹی کو ہدایات جاری کیں۔کابینہ نے سابقہ کابینہ کی طرف سے اب تک تنظیمی اور مالیاتی ریکارڈ کی عدم فراہمی پر تشویش کا اظہارکیا اور اس سلسلے میں سابق صدر سے تھرڈ پارٹی رابطوں کی منظوری بھی دی گئی اور برادری کی امانت پر کسی قسم کا سمجھوتا نہ کرنے کا اعادہ کیا گیا۔تقریب حلف برداری کے حوالے سے صدر پروفیسر حمید خان نے کابینہ کو انتظامات اور تقریب میں مہمانوں کی شرکت پر اعتماد میں لیا اور کہا کہ حلف برداری کی شایان شان تقریب کے وقت اور مقام کا اعلان جلد کیا جائے گا۔ بلوچستان پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن کی مرکزی کابینہ کے اجلاس میں ژوب کالج کے نامور پروفیسر عمر خان ، ریٹائرڈ پروفیسر ڈاکٹر احمد خان شیرانی اور دیگر مرحومین کی روح کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی بھی کرائی گئی اور پسماندگان سے تعزیت کا اظہار بھی کیا گیا۔


