طلباء تنظیموں کا”ریکور لیاقت سنی موومنٹ“شروع کرنے کا اعلان

کوئٹہ :بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی چیئرمین نذیر بلوچ کے زیر صدارت طلبا ء تنظیموں بی ایس او،بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی،پشتون اسٹوڈنٹس فیڈریشن آزاد،بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پجار،ہزارہ اسٹوڈنٹس فیڈریشن کا مشترکہ منعقد ہوا بی ایس او کے مرکزی وائس چیئرمین خالد بلوچ، کوئٹہ زون کے آرگنائزر صمند بلوچ،ناصربلوچ،عزیز بلوچ، بساک مرکزی وائس چیئرپرسن ڈاکٹر صبیحہ بلوچ، ڈاکٹر سیف بلوچ، پی ایس ایف آزاد کے مرکزی چیرمین زبیر شاہ آغا، اورنگ زیب مندوخیل، بی ایس او پجار کے مرکزی جوائنٹ سیکرٹری ابرار برکت بلوچ، ایچ ایس ایف کے رکزی جنرل سیکرٹری مجتبیٰ زاہدی نے شرکت کی اجلاس میں جامعہ بلوچستان کے پروفیسرز ڈاکٹر لیاقت سنی،شبیر شاہوانی،نظام شاہوانی کے اغوا کی مذمت کی گئی اور”ریکور لیاقت سنی موومنٹ“احتجاجی تحریک چلانے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ جامعہ بلوچستان اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن کی احتجاج کے حمایت فیصلہ کیا گیا آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کل 4 بجے پریس کانفرنس میں کیا جائے گا اجلاس کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ جامعہ بلوچستان کے اساتذہ کرام کو امتحانات کے وزٹ کے دوران اغواء کیا گیا 2 پروفیسرز کو تشدد کے بعد چھوڑ دیا گیا لیکن پروفیسر لیاقت سنی تاحال لاپتہ ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے بلوچستان میں طلباء اساتذہ کرام سمیت تمام شہری مکمل عدم تحفظ کا شکار ہوچکے ہے بلوچستان میں جبری طور پر امن امان کے نام پر گمشدگیاں روز کا معمول بن چکے ہے جبکہ اس کے ساتھ ہی سماج دشمن عناصر کو بھی بلوچ روایات سماجی اقدار و علم و شعور کو روکنے کے لئے کھولی چھوٹ دے کر برائے کاونٹر انسرجنسی کے نام پر بلوچستان کے شہریوں کو تیسرے درجے کے طور پر دیکھا جارہا ہے سیاسی مسائل کو بجائے قومی برابری کے بنیاد پر حل کرنے کے طاقت کے زریعے مسائل پر آواز بلند کرنے کو دبایا جارہا یے اگر پروفیسر کے اغوا میں پلانٹڈ سماج دشمن عناصر اور سرکاری ادارے ملوث نہیں تو انکے بازیابی کے لئے تاحال کوئی اقدامات نہیں کئے گئے اس سے بلوچستان میں سرکاری اداروں کے ذریعے قائم کیا گیا خوف کا ماحول سنی بلوچ کے اغوا کو بھی ان ہی کاروائیوں کا تسلسل قرار دی جاسکتی ہے جس کے تحت بلوچ نوجوانوں کو سیاسی آواز بلند کرنے پر لاپتہ کی گئی سنی بلوچ کے بازیابی کے لئے ریکور ڈاکٹر لیاقت سنی مومنٹ کے تحت احتجاجی تحریک کے حوالے سے تمام سیاسی جماعتوں ادبی تنظیموں اساتذہ کرام و عمائدین کو احتجاج میں شمولیت میں دعوت دی جائے گی تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کے روک تھام اور سنی بلوچ کو بازیاب کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں