کوٗٹہ پریس کلب صحافت کے نام پر بلیک میلنگ کرنیوالوں کیخلاف کارواٸی کرے،بشریٰ رند

کوٸٹہ 1 دسمبر: صوباٸی پارلیمانی سیکڑیری اطلاعات بلوچستان محترمہ بشریٰ رند نے کہا ہے کہ صحافت ایک ایسا پیشہ ہے جو سننے میں تو بہت آسان لگتا ہے مگر حقیقت میں بہت مشکل ہے۔ یہ ایک ایسی منزل ہے جہاں تک پہنچنے کا کوئی واضح راستہ نہیں ہے، ہر کسی کو اپنے لیے خود راستہ بنانا پڑتا ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے میڈیا اکیڈمی اور پریس کونسل بلوچستان کی بلڈنگ کے دورے کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوٸے کیا اس موقع پر کوٸٹہ پریس قلب کے صدر رضا الرحمان سنٸیر صحافی سلیم شاہد جنرل سیکڑیری پریس کلب ظفر بلوچ سنٸیر صحافی افضل مغل و دیگر موجود تھے پارلیمانی سیکڑیری اطلاعات بلوچستان محترمہ بشریٰ رند نے کہا کہ بد قسمتی سے ہم یہ آج تک طے ہی نہیں کر سکے کہ صحافی اصل میں کہتے کسے ہیں۔ صحافت ریاست کا چوتھا ستون ہے۔ میڈیا کی اخلاقیات کیا ہوتی ہیں، ہمیں ان تمام باتوں سے کوئی غرض نہیں ہے۔پاکستان میں کسی کو بھی شعبہ صحافت میں آنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ بس اسے خیال آ جائے کہ اسے صحافی بن جانا چاہیے۔ اس خیال میں ہی ایسا جادو ہے کہ آپ خود مشاہدہ کریں گے کہ کچھ دیر پہلے ایک بندہ اچھا بھلا پھر رہا تھا لیکن اب وہ باقاعدہ صحافی بن چکا ہے۔اس کو یہ تک معلوم نہیں کہ خبر ہوتی کیا ہے لیکن وٹس ایپ گروپوں کی مہربانی کی وجہ سے اس کی خبریں اخبارات کی زینت بن رہی ہیں کچھ عناصر بلوچستان میں صحافت کے نام سے بلیک مینگ کرتے ہیں سوشل میڈیا گروپس بناٸے ہوٸے ہیں آٸے روز انکا یہی کام ہے کہ شریف لوگوں کی پگڑیاں اچھالیں پریس کلب کی انتظامیہ کو چایٸے ایسے عناصر کے خلاف کارواٸی کریں کوٸٹہ پریس کلب کے صدر رضا الرحمان نے پارلیمانی سیکڑیری اطلاعات کو میڈیا اکیڈمی اور پریس کونسل کے بلڈنگ کے حوالے سے تفصلی بریفنگ بھی دی۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں