اپوزیشن نے استعفے دیئے تو پھر ضمنی نہیں عام انتخابات ہونگے، احسن اقبال
اسلام آباد :مسلم لیگ (ن) کے جنرل سیکرٹری احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کی تمام جمہوری قوتیں متفق ہیں کہ اس حکومت کو مزید چلایا نہیں جا سکتا،حکومت کی یہ ون ویلنگ قابل قبول نہیں،تیرہ دسمبر سے جنوری تک کے احتجاجی پروگرام کا شیڈول بنائیں گے، لانگ مارچ کی تاریخ بھی طے کی جائے گی، تمام پارٹیوں کے اراکین 31 دسمبر تک اپنے لیڈران کو استعفے جمع کرائیں گے،یہ 25 حلقے نہیں یہ تین سو سے زیادہ حلقے ہیں ،یہاں ضمنی الیکشن نہیں بلکہ جنرل الیکشن ہی ہو سکتا ہے، اگر ضمنی الیکشن ہوا تو ہم پولنگ اسٹیشن کا ایسا بائیکاٹ کرینگے جو تاریخ میں بھی نہیں ہوا ہوگا۔منگل کو نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے جنرل سیکرٹری احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کی تمام جمہوری قوتیں متفق ہیں کہ اس حکومت کو مزید چلایا نہیں جا سکتا،یہ ون ویلنگ قابل قبول نہیں۔ حکومت کی نااہلی کا بوجھ عام آدمی پر پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس میں تیرہ دسمبر سے جنوری تک کے احتجاجی پروگرام کا شیڈول بنائیں گے۔ لانگ مارچ کی تاریخ بھی طے کی جائے گی۔ جس کااعلان تیرہ دسمبر کے جلسے میں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تمام پارٹیوں کے اراکین 31 دسمبر تک اپنے لیڈران کو استعفے جمع کرائیں گے۔ یہ 25 حلقے نہیں یہ تین سو سے زیادہ حلقے ہیں۔ یہاں ضمنی الیکشن نہیں بلکہ جنرل الیکشن ہی ہو سکتا ہے۔ اگر ضمنی الیکشن ہوا تو ہم پولنگ اسٹیشن کا ایسا بائیکاٹ کرینگے جو تاریخ میں بھی نہیں ہوا ہوگا۔اگر الیکشن ہونے ہیں تو آزاد اور منصفانہ ہوں۔ ضمنی الیکشن کرائے گئے تو عوام بھی اس کا بائیکاٹ کرے گی۔ تمام اسٹیک ہولڈر ز کو مل کر آزاد الیکشن کے لئے لائحہ عمل بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اسٹرئینگ کمیٹی فیصلہ کرے گی کہ لانگ مارچ کا دورانیہ کتنا ہوگا۔ ہم ایسا ہلہ مارے گے کہ سو سونار کی ایک پی ڈیم اے کی۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف، شہباز شریف اور پارٹی ایک ساتھ کھڑے ہیں۔ رائے میں اختلاف ہو سکتا ہے لیکن منزل ایک ہے۔ نواز شریف اور شہباز شریف کے درمیان کوئی اختلاف نہیں۔


