آکسیجن نہ ملنے سے اموات

خیبرٹیچنگ اسپتال پشاور کے کورونا وارڈ میں آکسیجن کی فراہمی بندہو جانے کے باعث 6مریض جاں بحق ہوگئے۔اگر دیگر وارڈز میں بھی ہلاکتیں ہوئی ہیں تو انہیں بھی اسی غفلت کانتیجہ سمجھا جائے گا۔یہ افسوسناک واقعہ خیبرپختونخوا میں پیش آیا جہاں گزشتہ سات سال سے پی ٹی آئی کی حکومت ہے۔پی ٹی آئی نے اپنی خیبر پختونخواکی پانچسالہ کارکردگی کے بل پر ہی دیگر صوبوں میں بھی ووٹ حاصل کئے تھے اور خیبرپختونخوا کی تاریخ میں ووٹرز نے پہلی مرتبہ کسی سیاسی پارٹی کو دوسری باراقتدار میں آنے کا نہ صرف موقعہ دیا بلکہ اسے دوتہائی اکثریت کے ساتھ منتخب کیا۔ اس حادثے کے حوالے سے تحقیقاتی کمیٹی نے ابتدائی رپورٹ تیار کر لی،اس رپورٹ کے مطابق آکسیجن سپلائی کرنے والی کمپنی سے اسپتال کا معاہدہ2017 میں ختم ہوگیاتھا مگر کسی تحریری معاہدے کے بغیرہی جون2020تک بڑھا دیا گیا۔اسپتال کے ٹینک میں 10ہزار کیوبک میٹر آکسیجن بھرنے کی صلاحیت موجود ہے، تاہم کمپنی نے کبھی بھی ٹینک کومکمل طور پر نہیں بھرا۔ اس حادثے سے ایک روز پہلے (4دسمبر) کو کمپنی نے صرف 3ہزار40کیوبک میٹر آکسیجن سپلائی کی تھی،70فیصد ٹینک خالی تھا۔واقعہ کی رات جب آکسیجن کی کی کمی کاعلم ہوا تو سپلائی منیجر کے کہنے کے مطابق اس نے پلانٹ کے کنٹرو ل روم سے رابطہ کیا مگر کسی نے فون نہیں اٹھایا،اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ ڈیوٹی پرمامور دونوں ملازم پلانٹ میں موجود نہیں تھے جبکہ ٹینک کا گیج زیروتک گر چکا تھا۔ اس ضمن میں کہا جا رہاہے کہ پلانٹ کے ایک اور اسسٹنٹ جوکسی مسئلے کی صورت میں سپلائی منیجر کو رپورٹ دینے کا ذمہ دارہے، اس نے بھی یہ شکایت رپورٹ نہیں کی۔یہ حقیقت بھی سامنے آئی ہے کہ اسپتال میں آکسیجن فراہم کرنے کاکوئی بیک اپ نظام موجود نہیں ہے۔ابتدائی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ یہ سانحہ نظام کی ناکامی کے باعث رونما ہوا ہے، ٹینک میں آکسیجن کی شدید کمی تھی جس پر بروقت توجہ نہیں دی گئی۔
مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا کامران بنگش اور وزیر صحت تیمور جھگڑا نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ہلاکتوں کاسبب آکسیجن کی کمی تھی، بدقسمتی سے آکسیجن وافر مقدار میں سپلائی نہیں ہوئی۔انہوں مزید کہاکہ حتمی رپورٹ 5دن میں آجائے گی، اسے بھی عوام کے سامنے لایاجائے گا۔پھر وزیراعلیٰ فیصلہ کریں گے کہ مزید آزادانہ انکوائری کی ضرورت ہے یانہیں؟ حکومت نے اس سانحے میں مرنے والوں کو 10،10لاکھ روپے فی کس دینے کا اعلان بھی کیا ہے۔مناسب یہی ہے کہ حتمی رپورٹ سامنے آنے کا انتظار کیا جائے۔ لیکن ایک حقیقت واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے کہ اسپتال میں ا ٓکسیجن سپلائی کا کوئی Back-upنظام سرے سے موجود نہیں۔اگر ہوتا تو مرکزی ٹینک سے آکسیجن کی سپلائی منقطع ہوتے ہی بیک اپ نظام سے جوڑ دیا جاتا۔اس دوران ٹھیکیدار آکسیجن کی نئی کھیپ اسپتال پہنچا دیتا۔ دوسری خامی یہ نظر آتی ہے کہ آکسیجن پلانٹ میں متعین عملہ رات کوغائب رہنے کا عادی ہے ورنہ دونوں میں سے ایک تو موجود ہوتا۔ تیسری خامی یہ کہ آکسیجن گیج کا باقاعدہ ریکارڈ مرتب نہیں کیا جاتا، ایک ایک گھنٹے بعد رجسٹر بلکہ کمپیوٹر پر اندراج کیاجانا چاہیئے تھا اور ٹھیکیدار کو بھی باخبر رکھا جانا یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔جس میں یہ بھی انتظام ہو کہ ایک مخصوص گیج پرمیڈیکل سپرنٹنڈنٹ کے کمرے میں الارم بجنا شروع ہوجائے تاکہ آکسیجن ختم ہونے سے پہلے متبادل انتظام کر لیا جائے۔میڈیا تک بعض ایسی اطلاعات بھی پہنچی ہیں کہ متعلقہ ٹھیکیدار کسی بااثر شخصیت کا چہیتا ہے۔ورنہ فون پر 2017میں کسی تحریری منظوری کے بغیر توسیع ممکن نہ ہوتی۔علاوہ ازیں ٹھیکہ دیئے جانے کے عمل میں ریٹ وغیر ہ سمیت مالیاتی متعد نقائص سامنے آسکتے ہیں جو ہمارے معاشرے میں ہرجگہ پائے جاتے ہیں۔پولیس میں ناقص اسلحے کی خریداری کے اسکینڈل ایک سے زائد صوبوں میں سامنے آچکے ہیں۔سب جانتے ہیں اسپتالوں کی حالت کیسی ہے؟
یہ صورت حال بھی نیشنل ڈائیلاگ کے ایجنڈے کا حصہ ہونی چاہیئے۔صرف ایک ادارے اور پارلیمنٹ کے درمیان ڈائیلاگ ہوئے بھی تواصلاح کا عمل دو اداروں تک محدود رہے گا،دیگر اداروں میں بگاڑ موجود رہے گا۔ملٹری اسٹیبلشمنٹ میں اندرون ادارہ اگر خامیاں ہوتیں تو اسے عالمی سطح پر اس قدر پذیرائی نہ ملتی، غیر ملکی سفراء، وزراء اوردیگر مہمان جی ایچ کیو جانا پسند نہ کرتے۔یہ حقیقت سیاستدانوں سے پوشیدہ نہیں۔سول اسٹیبلشمنٹ کا معاملہ سب کے علم میں ہے،عام آدمی کا اس سے روزانہ کام ہوتا ہے، اس کیکارکردگی عام آدمی سے پوشیدہ نہیں۔پارلیمنٹ، عدلیہ،ملٹری اور سول بیوروکریسی کو ایک اعلان کردہ ایجنڈے پر، جس سے عوام باخبر ہوں،بند کمرے میں تفصیلی مباحثہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ جس ناراضگی کا پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے آج کل اظہار کیاجارہا ہے اس کو دنشمندانہ حل نکل سکے۔ جیسے ہی کسی نتیجہ خیز حل تک پہنچیں عام آدمی کو اسی لمحے بتایاجائے کہ کون کون سی غلط فہمیاں یاحقیقت پر مبنی شکایات تھیں؟ جنہیں دور کر لیاگیاہے اور یہ بھی بتایا جائے کہ ایسے کون سے فیصلے کئے گئے ہیں جو ان غلطیوں کے دہرائے جانے کاراستہ کامیابی سے بند کریں گے؟73سال میں بہت کچھ ہو چکا ہے صرف مارشل ہی نہیں لگے، ملک بھی دولخت ہوا ہے، بلدیہ کراچی کے صنعتی علاقے میں ایک فیکٹری میں 260مزدوروں کو زندہ جلایا بھی گیا ہے ماڈل ٹاؤن لاہور میں میڈیا کی موجودگی میں نہتی عورتوں کے منہ میں گن رکھ کرفائر بھی کئے گئے ہیں،اسلام آباد میں ڈی چوک کے قریب ایک اعلیٰ پولیس افسر کو کیمرے کے سامنے احتجاجی کارکنوں نے زمین پر گرا کر زد و کوب بھی کیا ہے۔ کراچی کے شہریوں نے گینگ وار کے زخم سہے ہیں مجرموں کے سامنے پولیس کو بے بس دیکھا ہے۔اگلے روز بھتہ خوروں نے دن دہاڑے تاجروں کو گنوں کے بٹ مار کر زخمی کیا ہے اور پرچی بھی تھمائی ہے جس پر فون نمبر لکھا تھا اور پھر اس نمبر سے لاکھوں روپے بھتہ طلب بھی کیا گیا۔مہنگا آٹا، مہنگی چینی، مہنگی دوائیں بیچنے والے بھی عذاب بنے ہوئے ہیں ان کاسد باب بھی نیشنل ڈائیلاگ کے ایجنڈے کا حصہ ہونا چاہیے۔ نیشنل ڈائیلاگ کے نام پر”این- آر-او“ نہ مانگا جائے اور نہ ہی دیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں