امریکی فوج نے افغانستان میں شہریوں کی ہلاکتوں سے متعلق رپورٹ مسترد کردی

کابل(این این آئی)افغانستان میں امریکی فوج نے شہریوں کی ہلاکتوں میں اضافے سے متعلق رپورٹ کو یک طرفہ قراردے کر مسترد کردیا ہے۔اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں پینٹاگان کے جنگی ضابطہ کار میں نرمی کے بعد امریکا اور اس کے اتحادی ممالک کے فضائی حملوں میں شہریوں کی ہلاکتوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق بران یونیورسٹی کے جنگی لاگت منصوبہ کی رپورٹ میں بتایاگیاکہ 2016 سے 2019 تک امریکا کے طالبان کے خلاف فضائی حملوں میں شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد میں 330 فی صد اضافہ ہوا ہے۔اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ امریکا نے افغانستان میں برسرزمین اپنے فوجیوں کی تعداد میں کمی کے بعد فضائی حملوں کے طے شدہ معیار میں نرمی کردی ہے۔اس پراجیکٹ کی شریک ڈائریکٹر نیٹا سی کرافورڈ کا کہنا تھا کہ گذشتہ سال افغانستان میں فضائی حملوں میں 700شہریوں کی ہلاکتیں ہوئی تھیں۔یہ اکتوبر2001 میں جنگ کے آغاز کے بعد ایک سال میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔اس پر مستزاد اب افغان ائیرفورس شہریوں کے لیے زیادہ ضرررساں ثابت ہورہی ہے۔لیکن افغانستان میں امریکی فورسز کے ترجمان کرنل سونی لیگیٹ نے کہا کہ یہ تجزیہ یک طرفہ ہے،اس میں متنازع ڈیٹا پر انحصار کیا گیا ہے اور طالبان اور داعش کے حملوں میں شہریوں کی ہلاکتوں کو نظرانداز کیا گیا ہے۔لیگیٹ نے افغان سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کا بھی دفاع کیا اور کہا کہ وہ شہریوں کی ہلاکتوں سے بچنے کے لیے غیرمعمولی کاوشیں کررہی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں