سرزمین بلوچستان اسلام آباد کیلئے صرف آمدن کا ایک ذریعہ ہے،این ڈی پی

کوئٹہ:نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ گوادر میں باڑ لگانا اس بات کو واضع کرتا ہے کہ سرزمین بلوچستان اسلام آباد کے لیئے صرف آمدن کا ایک ذریعہ ہے اور گوادر کو باڑ لگانے سے ایسا لگ رہا ہے جیسے بلوچستان اسلام آباد کی ملکیت ہو.جب بھی کسی قوم کے قومی شناخت کو مسخ کرنا ہو تو اسکے جغرافیائی حدود کو توڑا جاتا ہے اس قوم کے جغرافیائی معاملات کو نوآبادیاتی نظام کے حوالے کیا جاتا ہے اور اس وقت بلوچستان جدید نوآبادیاتی نظام کا شکار ہے کیونکہ گوادر کو باڑ لگانا صرف اور صرف سامراج چین کی خوشنودی حاصل کرنا ہے. سی پیک بلوچستان کا استحصال کا نام ہے بلوچ قوم سی پیک جیسے استحصالی پروجیکٹس کو مسترد کرتی ہے کیونکہ ایسے نام نہاد پروجیکٹس کے اثرات سے بلوچ قوم بخوبی آگاہ ہے اور گوادر شہر کو باڑ لگانا اُسی کی ایک کڑی ہے. سی پیک کی وجہ سے ہزاروں بلوچوں کو گرفتار کرکے لاپتہ کیا گیا جنکا آج تک کوئی خیر خبر نہیں اور اسکے علاوہ لاکھوں بلوچوں کو زبردستی علاقہ بدر کیا گیا کیونکہ گوادر سمیت مکران ڈویژن کو جدید نوآبادیاتی پالیسی کے تحد لانا ہے. بلوچستان کے ساتھ یہ روایہ نیا نہیں تاریخ گواہ ہے کہ جب ذوالفقار علی بھٹو وزیر اعظم تھے اس وقت بھی بلوچ قوم پر شدید ظلم و جبر کیا جاتا تھا فوجی آپریشنز اپنے عروج پر تھے اور آج کا یہ دور بھی وہی منظر پیش کررہا ہے وقت تو بدل رہا ہے مگر بلوچ قوم پر وہی ظلم و جبر اور استحصال جاری ہے. اب بھی بلوچ قوم پرستی کے دعویداروں کے پاس وقت ہے کہ ہوش کے ناخون لیں اور بلوچ قوم پرستی کے حقیقی نظریہ کو جانتے ہوئے بلوچ قوم کا ساتھ دیں اور گوادر شہر پر باڑ لگانے کی شدید مخالفت کریں.

اپنا تبصرہ بھیجیں