نقل کرنے والا:ایم پی اے
خیبر پختونخوا اسمبلی کے رکن لیاقت علی تعلق حکمران جماعت پی ٹی آئی سے ہے، بی اے کے امتحان میں نقل کرتے ہوئے پکڑے گئے۔ میڈیا پر یہ افسوس ناک اور شرمناک خبر عوام نے دیکھی۔اس خبر میں بیک وقت ایک سے زائد پہلو موجود ہیں:
اول: نقل کرنے والا ”طالب علم“۔۔۔۔۔۔قانون ساز ادارے کا منتخب رکن ہے۔
دوم: سیاسی وابستگی حکمران جماعت پی ٹی آئی سے ہے۔جس کی کل جمع پونجی صادق اور امین ہونا ہے۔
پہلاسوال یہ ہے کہ جو شخص”مطالعہ پاکستان“ کے پرچے میں بھی نقل کا محتاج ہو،کیا اسے صوبائی اسمبلی(قانون ساز ادارے)کا رکن ماننا اس ادارے کی توہین نہیں؟دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا نقل کرتے ہوئے پکڑے جانے کے بعد یہ شخص خیبر پختونخوااسمبلی کا رکن رہے گا؟تیسراسوال یہ ہے پی ٹی آئی اسے رنگے ہاتھوں نقل کرتے ہوئے پکڑے جانے کے بعد بھی پارٹی کی رکنیت سے نہیں ہٹائے گی؟چوتھا سوال یہ ہے کہ کیا یہ سلسلہ کبھی ختم ہوگا؟ یا ہمیشہ جاری رہے گا؟پانچواں سوال یہ ہے کہ کیا خیبر پختونخوا اسمبلی میں دو تہائی اکثریت رکھنے والی پی ٹی آئی اس حوالے سے کوئی قانون سازی کرے گی؟ چھٹا سوال یہ ہے کہ اس پارٹی چیئرمین کی حیثیت سے عمران خان اس واقعہ پر کیا تبصرہ کریں گے؟ساتواں سوال یہ ہے کہ کیاایسی مجرمانہ سوچ رکھنے والے کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم سے یہ امید کی جا سکتی ہے کہ یہ ”ریاست مدینہ“بنانے میں کامیاب ہو جائے گی؟
7سال سے صوبہ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے۔ان سات برسوں میں پی ٹی آئی اپنے رکن صوبائی اسمبلی کی تربیت نہیں کر سکی، اسے قانون پسند شہری بنانے میں ناکام رہی۔ وہ ملک بھر میں مضبوطی سے پنجے گاڑے ان مافیاز کا خاتمہ کیسے کرے گی؟جو کرپشن کے سوا کچھ جانتی ہی نہیں۔انہیں تو کوئی دوسرا کام نہیں آتا۔خیبر پختونخوااسمبلی کے اس رکن نے مطالعہ پاکستان کے پرچے میں نقل کرکے یہ تو ثابت کر دیا ہے کہ وہ پاکستان کے بارے میں 100میں سے 33معلومات بھی نہیں رکھتا،ورنہ وہ نقل نہ کرتا۔پاکستان کا المیہ یہی تو ہے کہ اس کے قانون ساز ادارے کے اراکین اپنے ملک کے بارے میں اتنی معلومات بھی نہیں رکھتے کہ پاس ہونے کے لئے درکار نمبر اپنی قابلیت سے لے سکیں۔73سال گزرنے کے بعد یہ تکلیف دہ منظر دیکھنے کو ملے تو عام شہری کے دل پر کیاگزری ہوگی؟وزیر اعظم عمران خان پی ٹی آئی کا چیئرمین بن کر سوچیں ان کی پارٹی کے رکن اسمبلی نے جو گھناؤنا جرم کیا ہے اس کے اصل اسباب کیا تھے؟ انہیں اس واقعے کے تمام پہلوؤں پر غور کرنا چاہیئے۔اس واقعے کا سنجیدگی سے نوٹس لیا جائے۔عام آدمی جانتا ہے کہ پہلے بھی متعدداراکین اسمبلی امتحان میں نقل کرتے ہوئے یا کسی دوسرے شخص کو کمرہ امتحان میں بٹھاکر سند لینے کی کوشش کرتے ہیں۔اس حمام میں سب ہی ننگے ہیں۔مذہبی اور سیاسی کی تفریق نہیں رہی۔جعلی اسناد والے اراکین کے مقدمے چاروں صوبوں میں درج ہوئے، کچھ ابھی تک زیر سماعت ہیں۔سب سے شرم ناک حقیقت یہ ہے کہ کہ اسمبلی اپنی پانچ سالہ مدت پوری کر کے نئے انتخابات تک پہنچ جاتی ہے مگر جعلی ڈگری کیسز کی سماعت مکمل نہیں ہوتی۔اور امیدوار دوبارہ منتخب ہوکر رکن اسمبلی کی حیثیت سے حلف اٹھا لیتا ہے۔پی ٹی آئی کے اقتدار میں آنے سے بہت پہلے اسمبلی کے امیدوار کے لئے گریجویٹ ہونے کی شرط ختم کر دی گئی تھی،وجہ شرمندگی سی بچنا تھی۔
اراکین اسمبلی کی تعلیمی حالت دیکھ کرعام آدمی کی زبان پر نفرت بھرے کلمات ہیں۔وہ اس صورت حال کو صرف کوس سکتا ہے۔اس سے زیادہ عام آدمی کے بس میں کچھ نہیں۔قانون ساز ادارے کے رکن مجرم ہوں تو ملک میں جرائم کے خاتمے کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔یہی لوگ آٹا چور ہیں، چینی چور ہیں۔نیب سے صرف ایک شکایت ہے کہ وہ زیادہ زور صرف ماضی بعید کے جرائم کی تفتیش اور کارروائی کو دے رہا ہے، ماضی قریب کے جرائم کی جانب بوجوہ نہیں دیکھ رہا۔یہ درست ہے کہ کچھ لوگ نیب کے پاس شواہد دیکھ کر بیرون ملک فرار ہو گئے لیکن جو پاکستان میں ہیں ان کے خلاف کوئی کارروائی کیوں نہیں کی جا رہی؟گڈ کاپ، بیڈ کاپ والا کھیل دیر تک جاری رہے تو ادارے کی نیک نامی پر سوال اٹھنا،فطری امر ہے۔ملزم ہی نہیں، اب تو اعلیٰ عدالتیں بھی طویل اور نہ ختم ہونے والی تاخیر پربرہمی کا اظہار کرنے لگی ہیں۔اصلاح احوال کے لئے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمہ جہتی کوشش اور تیز رفتاری سے کام کیا جائے۔موجودہ حکومت اپنی آئینی مدت کے 60مہینوں میں سے 28مہینے گزار چکی ہے،یہ نصف مدت سے صرف 2مہینے کم ہے۔اور کچھ نہ سہی کم از کم آٹا چوروں، چینی چوروں کو تو سزا سنادی جائے۔متعدد رپورٹیں پبلک ہو چکی ہیں۔ ایک آدھ نیا چور بھی لٹکایا جانا چاہیے پرانے نام سن سن کر عوام کے کان پک گئے۔پی ڈی ایم کا بیشتر بیانیہ یہی تو ہے۔اب بات ایماندار سے بڑھ کر تابعدار تک جانے لگی ہے۔دونوں طرف کے دو چار چوروں کو سزا دی جائے گی تو عام آدمی کی مایوسی دور ہو جائے گی۔اپوزیشن اور سرکاری بینچوں پر بیٹھنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔بی اے کے امتحان میں نقل کرنے والا ایم پی اے سرکاری بینچوں پر بیٹھ کر مطالعہ پاکستان کے پرچے میں نقل کرتا پکڑا گیا ہے۔ابھی تک مذکورہ ایم پی اے کا تردیدی بیان سامنے نہیں آیا اس لئے یہی کہا جاسکتا ہے کہ میڈیا کی اطلاع درست ہے۔کسی بد دیانتی یا بد نیتی کا شاخسانہ نہیں تھی۔


