گوادر میں فینسنگ بند، لاپتہ افراد کو بازیاب کیاجائے، ایچ آر سی پی تربت

تربت (نمائندہ انتخاب)انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر ایچ آر سی پی ریجنل آفس تربت مکران میں ایک اہم اجلاس گزشتہ روز منعقدہوا، جس میں سرگرم کارکنان نے شرکت کی، رجسٹریشن، اپنے اپنے تعارف اور ابتدائی کلمات کے بعد شرکاء نے اپنے اپنے الفاظ اور انداز میں اظہار خیالات کیا، سب سے پہلے غنی پرواز نے ”انسانی حقوق کی تعریف، تاریخ اور اقسام“ پر ایک لیکچر دیا جبکہ بعد میں کئی شرکا نے باری باری مکران اور بلوچستان سمیت پاکستان بھر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر اظہار خیالات کیا، جن میں خان محمد جان، راجہ احمد خان، فضل کریم، شگراللہ یوسف، بشیر کسانوی، شعیب شاداب، جمشید غنی، ڈاکٹر سمی پرواز، منور علی رٹہ، بیبگر مولابخش، شیہک لعل، قاسم ارمان، زمان خورشید، سرفراز شاہ، بلال بہار اور نصیر احمد بلیدئی شامل تھے، جن کا کہنا تھا کہ دنیا چاند اور مریخ تک پہنچ چکی ہے، لیکن ہمیں زمین پر اور اپنے ملک میں اپنے بنیادی انسانی حقوق بھی صحیح معنوں میں نہیں مل رہے ہیں جن میں حق زندگی، حق صحت، حقِ تعلیم، حقِ روزگار، حقِ رائے دہی، حقِ نمائندگی، حقِ نقل و حمل، حقِ نظریہ، حقِ عقیدہ، حقِ سیاست، حقِ زبان، حقِ ثقافت حقِ اوقات ِ کار، معقول معاوضہ اور تنخواہ کا حق، کام کی جگہ پر تحفظ کا حق، حقِ مال و جائیداد، حقِ انصاف اور اسی نوعیت کے دوسرے حقوق بھی شامل ہیں اور سب پر طرّہ یہ کہ ہمیں اپنے حقوق سے محرومی کے بارے میں اظہار خیالات کرنے کا حقیقی حق بھی حاصل نہیں اور پھر سب نے پُر زور مطالبہ کیا کہ ملک کے تمام شہریوں کو ان کے پورے بنیادی انسانی حقوق دے دیئے جائیں تاکہ وہ ان حقوق کی بنیاد پر اور اُن کے ذریعے جدو جہد کرکے خود بھی ترقی کرسکیں اور ملک و قوم کو بھی ترقی دے سکیں،آخر میں 6 قراردادیں بھی پیش کی گئیں، جو اتفاقِ رائے سے منظور کرلی گئیں، جن میں یہ قرار دادیں شامل تھیں (1)مکران کے لوگوں کو بجلی بلّوں کے بموں سے نجات دلائی جائے، ضرورت سے زیادہ لوڈشیڈنگ،خرابیوں اور وولٹیج کی کمی کے باعث اوّل تو مکران کے لوگوں کو بجلی نہ ہونے کے برابر ملتی ہے لیکن سب پر طرّہ یہ کہ واپڈا کے موجودہ ایس ای ریاض پٹھان کے دور میں بجلی بل کے ایسے بم لوگوں کے سروں پر گرنے لگے، جن کے بھاری بوجھ سے اُن کی زندگیاں بالکل اجیرن بن کر رہ گئی ہیں کیونکہ یہ شخص آئے روز اپنی طرف سے بجلی کے ریٹس بڑھاتے رہتے ہیں، بجلی کے استعمال کے بغیر کھبی ایریئرز کے نام پر اور کھبی ایریئرز پر بھی ایریئرز کے نام پر ہر ماہ پچاس ساٹھ ہزار سے لیکر دوتین لاکھ روپے تک اچانک بڑھاتے رہتے ہیں جس کے نتیجے میں اس وقت ایک بلب، یا ایک بلب اور ایک پنکھا استعمال کرنے والے دیہاڑی دار مزدوروں اور بیواؤں سے لیکر دوتین بلب اور ایک دو پنکھے استعما ل کرنے والے لوئر مڈل کلاس کے لوگوں تک لاکھوں روپے کے مقروض ہو چکے ہیں جن میں چار پانچ لاکھ سے لیکر چالیس پچاس لاکھ تک کے مقروض بھی شامل ہیں حالانکہ یہ سب باقاعدگی سے ہر ماہ بڑے بڑے بل ادا کرتے رہے ہیں اب ان میں سے بیشتر کی حالت اتنی پتلی ہوچکی ہے کہ وہ حیران ہیں کہ آیا بچوں کے پیٹ پالیں، یا واپڈا کا پیٹ بھر دیں، بچوں کی تعلیم تو ویسے بھی کب کی غربت اور کرونا کی نذر ہوکر رہ گئی ہے،لہٰذا موجودہ اجلاس کے توسط سے تمام متعلقہ صوبائی اور وفاقی حکام بالا سے پُر زور مطالبہ کیا جاتا ہے کہ مکران کو آفت زدہ علاقہ قرار دے کر مکران کے لوگوں کے بجلی کے تما م واجبات معاف کئے جائیں اور ایس ای ریاض پٹھان کا یہاں سے تبادلہ کیا جائے تاکہ یہاں کے لوگوں کو بجلی بلوں کے بموں سے نجات مل سکے،(2)مکران میں روز گار کے مسائل حل کئے جائیں، روزگار ہر شہری کا ایک اہم ترین بنیادی حق ہے کیونکہ اس کے بغیر زندگی گزارنا بے حد مشکل ہوتا ہے جبکہ مکران میں لاکھوں لوگ بے روزگار ہیں مگر اُن کا کوئی پُرسان حال نہیں بلکہ برسرِ روزگار لوگوں میں سے سینکڑوں کو برطرف اور معطل کیا گیا تھا اور تاحال انہیں یا تو بحال نہیں کیا گیا ہے، یا پھر صحیح معنوں میں بحال نہیں کیا گیاہے کیونکہ وہ اپنی تنخوا ہوں اور پورے حقوق سے ابھی تک محروم ہیں،لہٰذا اس اجلاس کے ذریعے پُرروز مطالبہ کیا جاتا ہے کہ تمام بر طرف اور معطل ملازمین کو صحیح معنوں میں بحال کیا جائے اوراُنہیں اُن کی تمام تنخوہیں اور پورے حقوق فراہم کئے جائیں اور ساتھ ہی ساتھ یہ مطالبہ بھی کیا جاتاہے کہ تمام خالی آسامیوں کو پُر کیا جائے، تاکہ بے روزگار لوگوں کو روزگار مل سکے اور وہ تنگ دستی اور محتاجی سے بچ سکیں اور انسانی زندگیاں گزار سکیں،(3)مکران میں علاج معالجے کے تمام انتظامات کئے جائیں،سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقی کے موجودہ دور میں جبکہ انسان چاند اور مریخ تک پہنچ چکا ہے یہاں مکران میں ڈی ایچ کیو ہسپتال تربت سمیت کوئی بھی ایسا ہسپتال نہیں، جہاں بڑی بڑی بیماریوں کے ٹیسٹ اور علاج معالجے کے معقول انتظامات ہوں لہٰذا اس اجلاس کے ذریعے متعلقہ حکام بالا سے پُر زور مطالبہ کیا جاتا ہے کہ مکران کے تمام ضلعی ہسپتالوں میں اور خصوصاً ڈی ایچ کیو ہسپتال تربت میں تمام خاص خاص بیماریوں کے ٹسٹوں اور علاج معالجے کے تمام انتظامات کئے جائیں،(4)تمام لاپتہ افراد کو بازیاب کیا جائے، بلوچستان میں اس وقت ہزارہا افراد لاپتہ ہیں جس کی وجہ سے اُن کے خاندان بھی سخت اذیت میں مبتلا ہیں اور ملک کی بھی بدنامی ہو رہی ہے، لہٰذا یہ اجلاس تمام متعلقہ حکام سے پُر زور مطالبہ کرتا ہے کہ انہیں اب جلد از جلد بازیاب کیا جائے اور اگر اُن کے خلاف الزامات ہوں تو اُنہیں کھلی اور قانونی عدالتوں کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ ان میں سے جو مجرم ثابت ہو جائیں، اُنہیں اُن کے جرائم کے مطابق سزائیں دی جائیں اور جو بے گناہ ثابت ہو اُنہیں بری کرکے رہا کردیا جائے،(5)4جی انٹرنیٹ بحال کیا جائے،آج کل 4جی انٹر نیٹ دنیا کی ایک اہم ترین ضرورت ہے لیکن ضلع کیچ اور ضلع پنجگور سمیت بلوچستان کے کئی اضلاع ابھی تک اس سے محروم ہیں، لہٰذا یہ اجلاس تمام متعلقہ حکام سے پُر زور مطالبہ کرتا ہے کہ اسے جلد از جلد بحال کیا جائے،(6)گوادر شہر کو باڑ میں بند نہ کیا جائے،معتبر ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ گوادر شہر یااُس کے کسی مخصوص حصے کو باڑ میں بند کیا جارہا ہے تاکہ لوگ آزادانہ طور پر وہا ں آمد و رفت نہ کرسکیں یہ اجلاس گوادر شہر کے بارے میں اس قسم کے عمل کو اچھی نظر سے نہیں دیکھتا، کیونکہ اس قسم کی پابندیوں سے عام لوگوں کو طرح طرح کی مشکلات پیش آتی ہیں، جس سے اُن کے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہوتی ہیں لہٰذا اس اجلاس کی طرف سے تمام متعلقہ حکام سے پُر زور مطالبہ کیا جاتاہے کہ گوادر شہر یا اس کے کسی مخصوص حصے کو باڑ میں بند نہ کیا جائے تاکہ لوگ پہلے کی طرح آزادانہ طور پر وہا ں آمد و رفت کرسکیں اور اپنی روز مرہ ضروریات پوری کر سکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں