اسرائیل سے تعلقات کی بحالی، سوڈان کا نام دہشت گردی کی معاونت کرنے والے ممالک کی فہرست سے خارج
خرطوم :سوڈان کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کیے جانے اور امن معاہدے کی منظوری کے بعد امریکہ نے باضابطہ طور پر سوڈان کو دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والے ممالک کی فہرست سے نکال دیا ہے۔سوڈانی دارالحکومت خرطوم میں امریکی سفارتخانہ کا کہنا ہے کہ سوڈان دہشت گردی کی معاونت کرنے والے ممالک کی فہرست میں مزید شامل نہیں ہے اور امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو جلد ہی باضابطہ طور پر ان احکامات پر دستخط کریں گے۔ اس امریکی فیصلے کے بعد افریقی ملک سوڈان اپنی معیشت کو مستحکم بنانے کے لیے بین الاقوامی قرضے حاصل کرسکے گا۔ سوڈان کو سن 1990 میں القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن اور دیگر مطلوب شدت پسندوں کی مہمان نوازی کرنے کے سلسلے میں اس فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں برس اکتوبر میں کانگریس کو 45 دن کا آئینی نوٹس دیتے ہوئے یہ اقدام اٹھانے کا کہا تھا جو اس ڈیل کے تحت تھا جس کے مطابق سوڈان امریکہ میں دہشت گردی کے متاثرین کو 335 ملین ڈالر دے گا۔اس معاوضے کا تعلق عسکریت پسند تنظیم القاعدہ کے 1998 میں کینیا اور تنزانیہ میں امریکی سفارت خانوں پر بم حملوں سے تھا جس میں 220 سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ یہ حملے اس وقت کیے گئے تھے جب القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن سوڈان میں مقیم تھے۔اسی وقت سوڈان نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی رضامندی ظاہر کی تھی۔ واضح رہے سوڈان رواں برس اکتوبر میں متحدہ عرب امارات اور بحرین کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے چند ہفتوں بعد اس کو تسلیم کرنے پر آمادہ ہوا تھا۔گذشتہ برس صدر عمر البشیر کے خلاف ملک گیر احتجاج کے نتیجہ میں معزولی کے بعد سے امریکہ اور سوڈان کے درمیان تعلقات میں بہتری آئی ہے۔یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب سوڈان کی معیشت تنزلی کا شکار ہے، افراط زر بڑھ رہا ہے اور ملک بھر میں غذائی بحران کے بادل منڈلا رہے ہیں اور سوڈانی عوام ملک میں جمہوریت کی بحالی کی آس لگائے بیٹھے ہیں۔سوڈان کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بعد امریکہ کی جانب سے اسے دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والے ممالک کی فہرست سے نکالنے سے ملک میں معاشی استحکام کا دروازہ کھلنے کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ #/s#


