دھکے والی حکومت نہیں چل سکتی،مولاناواسع
کوئٹہ:جمعیت علماء اسلام کے صوبائی امیر مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ دھکے والی حکومت نہیں چل سکتی، عوام نے سلیکٹڈ حکمرانوں کے خلاف فیصلہ دیدیا ہے، 21دسمبر کو حکومت مخالف تاریخ ساز اجتماع ہوگا، بلوچستان کی عوام نے پہلے ہی غیر آئینی و غیر جمہوری حکومت کو مسترد کردیا ہے،گو ادر میں باڑ کو کسی صورت تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنی رہائش گاہ پر مختلف وفود سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ مولانا عبدالواسع نے کہاکہ لاہور کی عوام نے سلیکٹڈ حکومت کے خلاف فیصلہ دیدیاہے اب پی ڈی ایم کے قائدین جو بھی فیصلہ کریں گے بلوچستان کی عوام اس پر من و عن عمل درآمد کرے گی۔ سلیکٹڈ وزیراعظم جس طرح این آر او کی باتیں کرکے اقتدار بچانے کے لئے کوشش کررہے ہیں اپوزیشن نے کبھی سلیکٹڈ حکومت سے این آر او نہیں مانگا ہے اب حکومت اپوزیشن سے این آراو کے لئے مختلف ذرائع استعمال کررہی ہے مگر اپوزیشن نے دو ٹوک موقف اختیار کیا ہے کہ اب کسی سے مذاکرات نہیں ہوں گے۔ پیپلزپارٹی نے سلیکٹڈ حکومت کے خاتمے کے لئے سندھ حکومت کو بھی قربان کرنے کا فیصلہ کیا ہے اب پی ڈی ایم میں شامل تمام جماعتیں آئین کی بالادستی کے لئے جدوجہد کررہی ہیں اور تمام تر فیصلے پی ڈی ایم کی قیادت متفقہ طور پر کررہی ہے۔ اپوزیشن کے رہنماؤں کو گرفتار کرکے سلیکٹڈ حکومت انتقامی کارروائیاں کررہی ہیں جس کی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کی جانب سے جس طرح غیر آئینی طریقے سے سینٹ انتخابات کرانے کی باتیں کی جارہی ہیں اس سے ملک کے ایک نئے آئینی بحران کا شکار ہونے کا خدشہ ہے۔ جمعیت علماء اسلام اور پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں اس غیر آئینی اقدام کی بھر پور مذمت کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ گوادر میں باڑ لگانے کی منصوبے کی مذمت کرتے ہیں جب عوام کو فیصلوں میں اعتماد میں نہیں لایا جاتا تو اس سے تصادم کی فضاء پروان چڑھتا ہے اس لئے گوادر کی عوام کو اعتماد میں لیا جائے گا۔ باڑ لگانے کے منصوبے پر بلوچ سیاسی پارٹیوں اور عوام کو تحفظات ہیں۔


