ینگ ڈاکٹرز نے کمیشن کے امتحانی طریقہ کار اور نتائج کو مسترد کردیا

کوئٹہ:بلوچستان کے میڈیکل ولیڈی میڈیکل آفیسرز اور ینگ ڈاکٹرز ایسو سی ایشن بلوچستان کے ممبران نے بلو چستان پبلک سروس کمیشن کے زیر اہتمام حالیہ آسامیوں میڈیکل آفیسر اور لیڈی میڈیکل آفیسر کیلئے امتحانات کے نتائج اور ٹیسٹ کے طریقہ کار کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت بلوچستان کورونا وائرس کی دوسری لہر کو مد نظر رکھتے ہوئے تمام تعیناتیاں مستقل بنیادوں پر کرتے ہوئے تمام اہل امیدواروں کو بھرتی کیا جائے بصورت دیگر تمام امیدواران کمیشن کے دفتر کے سامنے احتجاجی دھرنا،ہسپتالوں میں کام چھوڑ ہڑتال سمیت بلوچستان ہائیکورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانے کیلئے حق بجانب ہوگا ان خیالات کااظہار ینگ ڈاکٹرز ایسو سی ایشن بلوچستان کے ممبران ومیڈیکل ولیڈی میڈیکل آفیسرز کے امیدواران ڈاکٹر میروائس خان،ڈاکٹر وکیل اور ڈاکٹر فرح سمیت دیگر نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ ینگ ڈاکٹرز بلوچستان کی جانب سے صوبے میں صحت کی سہولیات کے فقدان اور افرادی قوت کی کمی کیخلاف احتجاج لاٹھی چارج اور ڈاکٹروں پر تشدد کے بعد حکومت کی جانب سے حالیہ آسامیوں کا اعلان کیا گیا تھا جن میں 866 میڈ یکل آفیسرز اور 372لیڈی میڈیکل آفیسرز سمیت دیگر پوسٹوں پر بھرتیوں کا اعلان ہوا جس کے لئے 14دسمبر سے 17دسمبر تک ٹیسٹ لئے گئے انہوں نے کہا کہ بد قسمتی سے ٹیسٹ کے دوران بہت سی بے ضابطگیاں سامنے آئی انہوں نے کہا کہ حالیہ آسامیوں پر اپلائے کرنے والے ڈاکٹرز گزشتہ 2سالوں سے عارضی خدمات سرانجام دے رہے ہیں ٹیسٹ میں ایک ہی گریڈ کیلئے ایک ٹیسٹ کی بجائے 12مختلف ٹیسٹ لئے گئے جبکہ ٹیسٹ 2میں شامل سلیبس یکسر مختلف تھا جبکہ ٹیسٹ میں جس سافٹ ویئر کا سہارا لیا گیا وہ صحیح طرح سے کام نہیں کررہا تھا بلکہ اس میں ایک سوال کو چھوڑ کر دیر سے سوچ سمجھ کر جواب دینے کا آپشن نہیں تھا حالانکہ میڈیکل کے کسی بھی امتحان میں اس طرح پہلے نہیں ہوا انہوں نے کہا کہ ٹیسٹ کے بعد ینگ ڈاکٹرز ایسو سی ایشن کے صدر ودیگر عہدیداران نے پبلک سروس کمیشن کے چیئر مین اور سیکرٹری ودیگر سے وفد کی صورت میں ملاقات کی اور تحریری طور پر اپنے شکایت پیش کی جس پر پبلک سروس کمیشن کے چیئر مین اپنے غلطیوں کا اعتراف کیا اور یقین دہانی کرائی کہ ان کاازالہ کیا جائے گا لیکن بد قسمتی سے نتائج یکسر مختلف تھے انہوں نے گورنر بلوچستان، صوبائی حکومت چیئر مین پبلک سروس کمیشن اور دیگر سے مطالبہ کیا کہ حالیہ ٹیسٹ میں ہونے والی غلطیوں کا ازالہ کر کے تمام اہل امیدواروں کو بھرتی کیا جائے بصورت دیگر ہم پبلک سروس کمیشن کے سامنے دھرنا ہسپتالوں میں کام چھوڑ ہڑتال اور بلوچستان ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کے حق بجانب ہیں انہوں نے کہا کہ ہمیں احتجاج پر مجبور نہ کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں