نیب رپورٹ میں سلیم مانڈوی والا کے خلاف الزامات کی توثیق
اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) نے احتساب عدالت میں جمع کروائی گئی ایک رپورٹ میں جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کے سلسلے میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا کے خلاف الزامات کی توثیق کردی۔ رپورٹ کے مطابق اگرچہ یہ رپورٹ کیس میں مانڈوی والا بلڈرز اینڈ ڈیولپرز کے مبینہ فرنٹ مین طارق محمود کے کردار کو ثابت کرنے کے لیے جمع کروائی گئی، تاہم اس میں سلیم مانڈوی والا پر بھی توجہ مرکوز کی گئی اور ان پر منگلا ویو ریسورٹ کے حصص کی خریداری میں طارق محمود سے رابطے کا الزام عائد کیا گیا۔نیب کی جانب سے الزام لگایا گیا کہ سابق چیئرمین پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی ا?ئی اے) اعجاز ہارون اور سلیم مانڈوی والا نے ایک دوسرے کی ملی بھگت سے غیرقانونی اور جعلی الاٹمنٹ کے ذریعے سرکاری زمین کا غبن کیا اور اومنی گروپ کے چیف ایگزیکٹو ا?فیسر عبدالغنی مجید کے ساتھ کاروباری معاہدے یا پراپرٹی ٹرانزیکشن کی ا?ڑ میں اے ون انٹرنیشنل اور لکی انٹرنیشنل کے نام سے جعلی بینک اکاؤنٹس سے 14 کروڑ 42 لاکھ روپے کا غیرقانونی فائدہ اٹھایا۔


